Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Zaujain ke huquq

Urdu · 7 min

زوجین کے حقوق؟ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ عورتیں مردوں کے لیے لباس ہیں، اور مرد عورتوں کے لیے لباس ہیں۔ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ ۔ سورہ نمبر 2، آیت 187۔

یہ الفاظ تمثیل کے انداز میں بتاتے ہیں کہ قرآن کے نزدیک عورت اور مرد ایک دوسرے کے لیے کیا ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے لیے لباس کی مانند ہیں، جسم لباس کے بغیر ادھورا ہے، اور لباس جسم کے بغیر بے معنی ہے۔ یہی معاملہ مرد اور عورت کا ہے۔ لباس اور جسم کے درمیان جو مادی تعلق ہوتا ہے، وہی تعلق زیادہ گہرے نفسیاتی معنی میں عورت اور مرد کے درمیان پایا جاتا ہے۔

ایک چڑیا اپنے پروں کے ساتھ قدرے خوبصورت معلوم ہوتی ہے، لیکن اگر چڑیا کے تمام پر اس کے جسم سے جدا کر دیے جائیں تو اس کا پورا حُلّیہ بگڑ کر رہ جائے گا۔ چڑیا کے لیے اس کے پروں کی جو اہمیت ہے، وہی اہمیت انسان کے لیے اس کے لباس کی ہے۔ لباس کے بغیر انسان ویسا ہی ہے جیسے پروں کے بغیر چڑیا۔ لباس کی مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کے لیے کتنی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔ عورت اور مرد ایک دوسرے کے سب سے زیادہ قریبی ساتھی ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے آخری حد تک جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم اور ملزوم ہیں۔

عورت کے بغیر مرد کا وجود ادھورا ہے، اور مرد کے بغیر عورت کا وجود ادھورا۔ دونوں کو ایک دوسرے سے تقویت ملتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کا پردہ ہیں۔ ایک انگریزی مفسر کے الفاظ میں، دونوں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح موضوع ہیں جس طرح لباس جسم کے اوپر موضوع ہوتا ہے۔

Fitting into each other as a garment fits the body ۔ مرد اور عورت کے درمیان پیدائشی طور پر صنفی کشش رکھی گئی ہے۔ مرد کے لیے عورت کے اندر کشش ہے، اور عورت کے لیے مرد کے اندر کشش ہے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے۔

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ۔ سورہ نمبر 30، آیت 21۔ یعنی: اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے پیدا کیا تمہاری جنس سے جوڑے، تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو۔ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔

بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کریں۔ اس فطری تعلق کی بنا پر عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کی طرف کھنچتے ہیں۔ اب ایک صورت یہ ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان آزادانہ اختلاط ہو، مگر یہ طریقہ فطرت انسانی کے سراسر خلاف ہے۔ انسان فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ جو چیز اس کی ہے، وہ صرف اسی کے لیے خاص رہے۔

اس لیے آزادانہ صنفی تعلق کا طریقہ انسانی فطرت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اکثر غلط طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ انسان ایک اخلاقی حیوان ہے۔ انسان اور حیوان میں جسمانی مشابہت ہے، مگر اخلاقی اعتبار سے انسان کا معاملہ حیوانات سے اکثر مختلف ہے۔

حیوانات اپنے اندر کوئی اخلاقی احساس نہیں رکھتے، مگر انسان کے اندر اخلاقی احساس موجود ہے۔ اس اخلاقی احساس اور دوسرے تمدنی مصالح کا تقاضا ہے کہ مرد اور عورت آزادانہ طور پر جنسی تعلق قائم نہ کریں، بلکہ اخلاقی پابندیوں کے دائرے میں رہ کر اپنے جنسی تقاضے پورے کریں۔ اسی مصلحت کی بنا پر شریعت میں نکاح کا طریقہ مقرر کیا گیا ہے۔ کچھ متعین رشتوں کو حرام قرار دیتے ہوئے حکم دیا گیا ہے کہ مرد اور عورت آپس میں نکاح کا رشتہ قائم کر کے خاندانی زندگی گزاریں۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْسِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ ۔ سورہ نمبر 4، آیت 24۔ اور ان یعنی حرام عورتوں کے علاوہ جو عورتیں ہیں، وہ تمہارے لیے حلال ہیں، بشرطیکہ تم اپنے مال کے ذریعے سے ان کے طالب بنو۔ ان کو قید نکاح میں لے کر، نہ کہ بدکاری کے طور پر۔

عورت اور مرد کے درمیان فطری طور پر صنفی کشش پائی جاتی ہے۔ اسی صنفی کشش کی اخلاقی تنظیم کا دوسرا نام نکاح ہے۔ انسانی نفسیات، حیاتیاتی حقائق، اور تمدنی مصالح سب کا مشترک تقاضا ہے کہ عورت اور مرد کا صنفی تعلق منظم انداز میں ہو۔ اور اس تنظیم کے لیے نکاح سے بہتر کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔

نکاح کا طریقہ انسانی طریقہ ہے، اور نکاح کے بغیر جنسی تعلق کرنا غیر انسانی طریقہ ہے۔ کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 266۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.