← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Tajribe ki zaban me
Urdu · 24 min
تجربے کی زبان میں: اسلام میں عورت کی حیثیت کے بارے میں پچھلے صفحات میں جو کچھ لکھا گیا ہے، وہ راقم الحروف کے لیے محض ایک نظری بات نہیں، اور نہ وہ صرف ایک تاریخی بات ہے جس کو میں نے قدیم اوراق میں پڑھ لیا ہو۔ اسی کے ساتھ یہ میرا ذاتی تجربہ بھی ہے: حقیقت یہ ہے کہ ان تعلیمات کو میں نے نہ صرف خران و حدیث میں اور اسلام کی تاریخ میں پڑھا ہے، بلکہ ان کو اپنی آنکھوں کے سامنے واقعہ بنتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ میرا یہ تجربہ، قدرتی طور پر، میرے اپنے گھر کی خواتین سے تعلق رکھتا ہے؛ اسلامی حدود کی بنا پر ایک مسلمان اپنے گھر کی خواتین ہی سے پوری طرح باخبر ہو سکتا ہے۔ چنانچہ میں اپنے گھر کے تجربے کی بنا پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ اسلام کی حدود میں رہ کر عورتیں وہ سب کچھ کر سکتی ہیں جن کی زندگی کی تعمیر کے لیے ضرورت ہے، یا کبھی ضرورت ہو سکتی ہے۔
ان تجربات کو میں زیادہ تفصیل کے ساتھ، ان شاء اللہ، اپنی سوانح عمری میں لکھوں گا؛ البتہ ایک تجربہ یہاں تحریر کرتا ہوں جو میری والدہ مرحومہ سے متعلق ہے۔ میری والدہ کا نام زیب النساء بنت خدا بخش تھا، وہ اعظم گڑھ کے ایک دیہات یعنی سنجر پور میں 19ویں صدی کے آخر میں پیدا ہوئیں، اور 18 اکتوبر 1985 کو دہلی میں انتقال فرمایا۔ بوقت انتقال ان کی عمر تقریباً 100 سال تھی۔ والدہ کی تعلیم بس اتنی ہی ہوئی تھی کہ وہ قرآن کی تلاوت کر سکتی تھیں اور معمولی اردو کی کتاب اٹک اٹک کر پڑھ لیتی تھیں، تاہم وہ پوری طرح ایک مذہبی خاتون تھیں، نماز روزے کی سختی سے پابند تھیں، حج بھی نہایت ذوق و شوق سے کیا تھا۔
ان کو میں نے کبھی جھوٹ بولتے یا اور کوئی غیر اخلاقی فعل کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ساری عمر وہ مکمل طور پر پردہ دار رہیں، وہ پورے معنوں میں ایک بااصول اور ایک باکردار خاتون تھیں۔ میرے والد فرید الدین خاں مرحوم کا انتقال 30 دسمبر 1929 کو ہوا۔ وہ اپنے علاقے کے سب سے بڑے زمیندار تھے۔
ایک روز وہ حسبِ معمول قریب کے گاؤں یعنی نوادا اپنی چھاؤنی پر گئے ہوئے تھے، وہاں ان پر فالج کا دورہ پڑا۔ بے ہوشی کی حالت میں چارپائی پر لٹا کر گھر لائے گئے۔ اس کے بعد وہ کچھ بول نہ سکے، بے ہوشی کی حالت ہی میں اگلے دن ان کا انتقال ہو گیا۔ والدہ اچانک بیوہ ہو گئیں۔
اس وقت ہم لوگ پانچ بھائی بہن تھے۔ بڑے بھائی عبدالعزیز خاں کی عمر تقریباً 8 سال تھی، میری عمر 5 سال، اور چھوٹے بھائی عبدالمحیط خاں کی عمر صرف 1 سال۔ اسی طرح دونوں بہنیں بھی چھوٹی عمر میں تھیں۔ بہنوں کا انتقال والدہ کی زندگی ہی میں ہو گیا۔
ہم تینوں بھائی خدا کے فضل سے تا دمِ تحریر زندہ ہیں۔ اس وقت والد کا انتقال ہمارے لیے ایسا ہی تھا جیسے کوئی شخص تاڑ سے اچانک زمین پر گر پڑے۔ اس کی وجہ تمام تر مصنوعی تھی، نہ کہ حقیقی۔ مخصوص اسباب کے تحت جو دورِ زراعت میں اکثر مشترک خاندانوں میں پیش آتے رہے ہیں۔
والد کے انتقال کے بعد ہمارے گھر کا ماحول ہمارے لیے غیر موافق ہو گیا۔ بعض رشتہ داروں کے زیرِ اثر ایسا ہوا کہ گھر کے اکثر افراد کا سلوک ہمارے ساتھ وہ نہ رہا جو کہ ہونا چاہیے تھا۔ یہ صورتحال اتنی بڑھی کہ ہم گھر کے اندر اجنبی بن گئے۔ حتیٰ کہ زمیندار ہوتے ہوئے، کم از کم وقتی طور پر، ہمارا یہ حال ہوا جیسے کہ ہم بے زمین ہوں، جیسے کہ گھر کی چیزوں میں ہمارا کوئی حصہ ہی نہ ہو۔
ہم لوگ اپنے ماحول میں بے سرو سامان بھی ہو گئے اور اسی کے ساتھ حقیر بھی۔ ہمارا آبائی مکان بہت بڑا تھا، مگر والد کے انتقال کے بعد ہم نے اپنے آپ کو ایک ایسے گھر میں پایا جو گھوڑے کے اصطبل کے لیے بنایا گیا تھا، اور اب کھنڈر ہو جانے کی وجہ سے اصطبل کے طور پر استعمال نہیں ہو رہا تھا۔ مزید یہ کہ گھر میں نہ کھانے کے لیے سامان تھا اور نہ ضروری چیزوں کی خریداری کے لیے پیسہ۔ اس حالت میں لوگ والدہ کو طرح طرح کے مشورے دینے لگے۔
کسی نے کہا کہ آپ دوسرا نکاح کر لیں، کسی نے کہا کہ میکے چلی جائیں، کسی نے کہا کہ مقدمے کے ذریعے اپنی جائیداد حاصل کریں۔ مگر والدہ نے اس قسم کے تمام مشوروں کو ماننے سے انکار کر دیا۔ ایک بہادر اسلامی خاتون کی طرح انہوں نے حالات سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے میں ان کا سارا انحصار صرف دو چیزوں پر تھا: اللہ سے دعا، اور اپنے دست و بازو کی محنت۔
والدہ کے میکے میں بہت بڑی زمینداری تھی۔ مزید یہ کہ ہمارے نانا مرحوم نے اپنی موت سے پہلے تقریباً 20 ایکڑ زمین والدہ کے نام لکھ دی تھی، مگر والدہ نے اس معاملے میں مکمل استغنا کا ثبوت دیا۔ انہوں نے اپنے میکے سے نہ کبھی زمین کا مطالبہ کیا، اور نہ اپنی حالت بیان کر کے ان سے مدد کی درخواست کی۔ وہ توکل علی اللہ کا زندہ نمونہ بن گئیں۔
میں نے دیکھا ہے کہ وہ صبح اندھیرے بستر سے اٹھ جاتیں اور فجر کی نماز پڑھ کر سارے دن مسلسل کام کرتی رہتیں۔ رات کو دیر سے عشاء کی نماز پڑھ کر سوتیں۔ وہ کیا کام تھا جس میں وہ اپنے گھر کے اندر سارے دن مصروف رہتی تھیں؟ انہوں نے یہ کیا کہ گھر کے اندر مرغیاں پال لیں۔
اسی کے ساتھ ان کے یہاں بہت سی بکریاں پلی ہوئی تھیں۔ یہ ان کا مستقل کاروبار تھا۔ والدہ کے اسی ذوق کی وجہ سے مجھے پیغمبروں کی اس سنت پر عمل کرنے کا موقع ملا کہ میں نے اپنے بچپن میں بکریاں چرائیں۔ اپنے سب بھائیوں میں صرف مجھ کو یہ سعادت حاصل ہوئی۔
اسی کے ساتھ والدہ نے سلائی کا کام بھی شروع کر دیا۔ اس زمانے میں سلائی کی مشین عام نہیں ہوئی تھی، چنانچہ گاؤں کے لوگوں کے کپڑے وہ ہاتھ سے سیتی تھیں۔ اس سلائی کی کوئی اجرت مقرر نہ تھی۔ وہ رضاکارانہ طور پر لوگوں کے کپڑے سیتی تھیں، اور لوگ بھی رضاکارانہ طور پر غلہ وغیرہ ہمارے یہاں پہنچا دیا کرتے تھے۔
بعد کو والدہ نے بھینس بھی پال لی۔ اسی کے ساتھ وسیع کھلے ہوئے صحن میں وہ مختلف قسم کی سبزیاں اور پپیتے وغیرہ بو دیتی تھیں، جس سے کافی فصل نکلتی تھی۔ والدہ مرحومہ کی اس زندگی سے متاثر ہو کر ایک بار یہ شعر میری زبان پر آ گیا تھا: "مرغی، بکری، سبزی، پھل، ہے مومن کی معاش کا حل۔ " اس زمانے میں ایک عورت نے والدہ کی حالت کو دیکھ کر کہا تھا: "آپ کو بلی کے بچوں کی رکھوالی ملی ہے۔
" یہ تبصرہ لفظ بہ لفظ درست تھا۔ ہم لوگ اس زمانے میں واقعتاً بلی کے بچوں کی مانند تھے۔ والدہ نے اگر غیر معمولی قربانی کے ذریعے ہماری پرورش نہ کی ہوتی تو شاید ہم لوگوں کا وہی انجام ہوتا جو بلی کے چھوٹے بچوں کا اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اپنی ماں کی سرپرستی سے محروم ہو گئے ہوں۔ ہم لوگوں کی پرورش اور دیکھ بھال کے سلسلے میں والدہ نے برسہا برس تک جو کچھ کیا، اور جو کچھ میری آنکھوں نے دیکھا، ان کو یہاں بیان کرنا ممکن نہیں کیونکہ وہ خود ایک مستقل کتاب ہے۔
اس وقت ہماری جو معاشی حالت تھی، اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ایک بار مجھے غلیل بنانے کا شوق ہوا۔ غلیل کا ربر اس وقت ایک پیسے میں ملتا تھا، مگر ہمارے گھر میں ایک پیسہ موجود نہ تھا جس کے ذریعے میں ربر خرید سکوں۔ ایک صاحب کے علم میں یہ بات آئی تو انہوں نے مجھے ایک پیسہ دیا، اور میں نے دکان جا کر غلیل کا ربر خریدا۔ یہ میرا حال اس وقت تھا جب کہ میں علاقے کے سب سے بڑے زمیندار خاندان کا ایک فرد تھا۔
والد مرحوم کے انتقال کے بعد ہم معاشی اعتبار سے صفر کے درجے میں پہنچا دیے گئے تھے۔ ایسی حالت میں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ والدہ کو کیا کچھ مشقت اٹھانی پڑی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے عورت ہوتے ہوئے مرد والا کام کیا۔ گھر میں رہ کر باہر کی دنیا پر اثر انداز ہوئیں۔
حالات نے انہیں اپنا معمول بنانے کا فیصلہ کر رکھا تھا، مگر انہوں نے خود حالات کو اپنا معمول بنا لیا۔ انہوں نے اسلام کے حدود میں رہ کر وہ سب کچھ کیا جس کو کرنے کے لیے غیر ضروری طور پر خواتین کو اسلام کی حدود سے باہر نکالنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ والدہ نے جو کچھ کیا وہ اسلامی جذبے کے تحت کیا۔ وہ ہمیشہ انسانوں کے بجائے خدا کی طرف دیکھتی تھیں، اور دنیا کے اعتبار سے سوچنے کے بجائے آخرت کے اعتبار سے سوچتی تھیں۔
تاہم انہوں نے جو کچھ کیا وہ سادہ طور پر محض روایتی دینی ذہن کے تحت تھا۔ وہ کوئی صاحب علم خاتون نہ تھیں کہ اپنے عمل کے فلسفیانہ پہلوؤں پر غور کر سکیں۔ مگر آج جب میں اپنی 60 برس کی عمر کو پہنچ کر سوچتا ہوں تو مجھے ان کا عمل انتہائی عظیم نظر آتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کے مقابلے میں مجھے یہ بات بالکل ہیچ معلوم ہوتی ہے کہ وہ گھر سے باہر نکل کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرتیں اور پھر کسی دفتر کی شاندار کرسی پر بیٹھی ہوئی نظر آئیں۔
والدہ نے اپنی مذکورہ قربانی سے نہ صرف بچپن میں ہماری پرورش کی، بلکہ ان کے اسلامی مزاج نے انہیں اس قابل بنایا کہ وہ ہمیں اس سے بھی زیادہ بڑا عطیہ دے سکیں۔ یعنی خدا کی دنیا میں کامیابی اور ترقی کا راز وہ راز تھا مثبت طرز فکر اور حقیقت پسندی کا مزاج جو ہم تینوں بھائیوں کو مشترک طور پر ملا۔ ہمیں یہ عطیہ دینے والی تنہا ہماری والدہ تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ والد کے انتقال کے بعد ہمارے رشتے کے ایک ماموں یعنی شیخ عبدالغفور برابر ہمارے یہاں آنے لگے۔
وہ زبردست مقدمہ باز آدمی تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ والدہ اپنے میکے کی 20 ایکڑ زمین کے لیے عدالت میں مقدمہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ صرف دعوے کے کاغذ پر دستخط کر دیجئے، باقی سب کام میں خود کروں گا، اور یہ ساری زمین آپ کو مل جائے گی۔ غالباً وہ برسوں تک ہمارے یہاں آتے رہے، مگر والدہ کسی قیمت پر مقدمہ کرنے کے لیے راضی نہیں ہوئیں۔
دوسری طرف ہم لوگوں کی اپنی آبائی جائیداد کا معاملہ تھا، جس سے محرومی ہر عام زندہ اشتعال بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہوئی تھی، اور یہ دعوت دیتی تھی کہ اپنا حق وصول کرنے کے لیے لڑو۔ بعد کو بعض لوگوں کے کہنے سے ہمیں کچھ زمینیں دی گئیں، مگر وہ عملاً نہ دینے کے برابر تھا۔ کیونکہ جتنی بیکار اور بنجر زمینیں تھیں، وہ چھانٹ کر ہمارے حوالے کر دی گئیں۔ یہ صورتحال فریق ثانی کے خلاف لامتناہی لڑائی چھیڑنے کے لیے بالکل کافی تھی۔
مگر والدہ نے یہاں بھی صبر کے سوا کسی اور چیز کے لیے کبھی نہیں سوچا۔ وہ اکثر ہم لوگوں کو صبر کی تلقین کرتیں، اور اس سلسلے میں ایک دیہاتی شاعر کا یہ شعر ہمیں سناتیں: "صبر بدلے میں دائم بہشت پائیں۔ " اس وقت ہمارے جو خاندانی حالات تھے، وہ مکمل طور پر ہم کو منفی سوچ کی طرف لے جانے والے تھے۔ یہی وہ حالات ہیں جن میں کسی خاندان کے افراد مقدمہ بازیوں میں الجھتے ہیں۔
لوگوں کے درمیان کبھی نہ ختم ہونے والے لڑائی جھگڑے برپا ہوتے ہیں۔ قیمتی زندگیاں ہلاک ہوتی ہیں۔ لوگ مستقل طور پر تخریبی کارروائیوں کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ والدہ اگر اس وقت ردعمل کا طریقہ اختیار کرتیں تو ان کے بچوں کا جو حال ہوتا وہ یہ کہ وہ منفی ماحول میں پلتے۔
ان کے اندر تخریبی احساسات جنم لیتے۔ ہم میں سے ہر ایک ضد اور انتقام کی نفسیات کا کارخانہ بن کر رہ جاتا۔ مگر والدہ مرحومہ کے ایک طرفہ صبر نے ہماری زندگیوں کا رخ بدل دیا۔ والدہ کے زیر سایہ ہم سب بھائیوں کے اندر یہ سوچ ابھرنے لگی کہ ہمیں دوسروں سے نہیں لڑنا ہے۔
ہمیں خود اپنی محنت کے بل پر اپنے آپ کو اوپر اٹھانا ہے۔ جو کچھ ہم سے چھینا گیا تھا، اس سے ہماری نظریں ہٹ گئیں۔ ہماری ساری توجہ اس چیز پر لگ گئی جو چھیننے کے بعد بھی ہمارے پاس ابھی تک باقی تھا، یعنی خدا کا دیا ہوا انسانی وجود۔ آج تو میں اس حقیقت کو شعوری طور پر جان رہا ہوں، مگر اس وقت یہ مزاج غیر شعوری طور پر صرف والدہ کی تربیت کے نتیجے میں ہمارے اندر پیدا ہوا تھا۔
چنانچہ ہم تینوں بھائیوں کا معاملہ یہ ہوا کہ ہم لوگ مقام نزاع سے ہٹ گئے۔ ہم میں سے ہر ایک نے کسی نہ کسی غیر نزاعی مقام پر اپنے لیے عمل کا میدان تلاش کر لیا۔ ہم تینوں بھائیوں کی راہ اگرچہ الگ الگ بنی، مگر ذہن سب کا ایک تھا۔ یعنی اندرونی بے انصافیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے باہر کی وسیع دنیا میں اپنے لیے راہ عمل تلاش کرنا۔
انسان سے نہ پا کر خدا سے پانے کا طلبگار بننا۔ ہمارے بڑے بھائی عبدالعزیز خان صاحب اپنی زندگی کے اگلے مرحلے میں تجارت کے راستے پر لگ گئے۔ 1944 میں وہ ہجرت کر کے شہر اعظم گڑھ گئے۔ وہاں انہوں نے تقریباً بلا سرمایہ ایک تجارتی کام کا آغاز کیا۔
وہ برابر شدید جدوجہد کرتے رہے۔ 40 برس بعد اب الہ آباد میں ان کا لائٹ اینڈ کمپنی لمیٹڈ کے نام سے بجلی کا سامان بنانے کا کارخانہ ہے، اور وہ اس کے چیئرمین ہیں۔ والد کے انتقال کے بعد وہ اپنے خاندان کے سب سے زیادہ حقیر فرد شمار کیے جاتے تھے۔ آج وہ وسیع خاندان کے سب سے زیادہ معزز فرد کی حیثیت رکھتے ہیں۔
حتیٰ کہ انہوں نے آبائی جائیداد کی نئی تقسیم کرا کر اپنا پورا حق دوبارہ لے لیا جو اس سے پہلے انہیں نہیں دیا گیا تھا۔ میرے چھوٹے بھائی عبدالمحیط خان سائنس اور انجینئرنگ کی تعلیم کی طرف گئے۔ لمبی جدوجہد کے بعد انہوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی سے امتیاز کے ساتھ انجینئرنگ کی ڈگری لی، اور اب وہ حکومت یو پی کے ٹیکنیکل ایجوکیشن کے محکمے میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔ اپنے انتھک عمل، اپنے بے داغ کردار، اور اپنی بااصول زندگی کے نتیجے میں وہ پورے محکمے میں ایک ممتاز شخصیت کے مالک بن گئے ہیں۔
راقم الحروف کی توجہ دینی تعلیم کی طرف ہوئی۔ اولاً میں نے عربی درسگاہ میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد میں نے زبردست کوشش سے انگریزی زبان و علوم کو پڑھا۔ اب اللہ کی توفیق سے میں جو کام کر رہا ہوں، اس سے ان سطروں کے قارئین بخوبی واقف ہیں۔
1976 میں ماہ نامہ الرسالہ کے اجراء کے بعد سے جو کام میں کر رہا ہوں، اس کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ میں مسلمانوں کو یہ سبق دے رہا ہوں کہ وہ منفی سوچ سے اوپر اٹھیں اور مثبت سوچ کا طریقہ اختیار کریں۔ الرسالے کی یہ تحریک اب خدا کے فضل سے مسلم دنیا کی ایک طاقتور تحریک بن چکی ہے۔ مجھ کو اکثر اہل علم کی طرف سے زبانی یا تحریری طور پر ایسے تبصرے ملتے رہتے ہیں جن میں اس بات کا اعتراف ہوتا ہے کہ دور جدید میں الرسالے کی تحریک پہلی اسلامی تحریک ہے جس نے مسلمانوں کو منفی کارروائیوں سے ہٹا کر مثبت تعمیر کی راہ پر ڈالنے کی کوشش کی۔ ایسے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اگر یہ واقعہ ہے تو اس کا کریڈٹ سب سے زیادہ اس مسلم خاتون کو جاتا ہے جس کا نام زیب النساء تھا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اس عالم مادی میں اگر کوئی ہے جس کو الرسالے کی تعمیری تحریک کا ابتدائی بانی کہا جا سکے تو وہ یقینا میری والدہ زیب النساء ہیں۔ وہ زیب النساء جو نام نہاد آزادی نسواں کی تحریک سے نہ صرف بہت دور تھیں بلکہ وہ اس کا نام بھی نہیں جانتی تھیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ والدہ محترمہ کے لیے وہ ایک غیر شعوری معاملہ تھا، اور میری ذات میں اللہ تعالی نے اس کو شعوری دریافت تک پہنچایا ہے۔ میں اپنے قریبی رشتہ داروں میں ایک سے زیادہ ایسے افراد کو جانتا ہوں جو کم عمری میں ماں کی سرپرستی سے محروم ہو گئے۔
نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی پوری زندگی بربادی کا نشان بن کر رہ گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں کے روپ میں عورت کا رول انسانی زندگی میں بہت زیادہ ہے۔ عبداللہ بن زبیر کی ماں یعنی اسماء نے ان کو ایک بڑے اقدام پر ابھارا۔ چنانچہ ایک شخص جو اقدام کا ارادہ چھوڑ چکا تھا، وہ دوبارہ اقدام کے لیے امادہ ہو گیا۔
شہنشاہ اکبر کی ماں یعنی مریم مکانی نے اکبر کو ملا عبدالنبی کے خلاف کارروائی سے روکا۔ چنانچہ اکبر ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے سے باز رہا وغیرہ وغیرہ۔ راقم الحروف اگر بچپن میں ماں سے محروم ہو جاتا یا اگر مجھ کو ایسی ماں ملتی جو مجھے اپنے دشمنوں کے خلاف لڑنے جھگڑنے پر اکساتی رہتی تو یقینی طور پر میری زندگی کا رخ بالکل دوسرا ہوتا۔ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ایسے انجام سے بچایا اور مجھ کو اپنی ایک صداقت کے اظہار کا ذریعہ بنا دیا۔
تاہم اس عالم اسباب میں جو ہستی اس واقعے کا ابتدائی ذریعہ بنی، وہ یقینا ایک خاتون تھی، اور وہ بھی اسلامی اصول کے مطابق ایک خانہ نشین خاتون۔ کتاب خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 256۔