Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Aurat har maidan me

Urdu · 8 min

عورت ہر میدان میں۔ نمبر 1: حضرت ام سلمہ ایک بار کسی عورت سے اپنے بال گندھوا رہی تھیں، اتنے میں مسجد سے خطبے کی آواز آئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: "أيها الناس" اے لوگو، یہ سنتے ہی فرمایا: "بس جیسے ہیں ویسے ہی باندھ دو"۔ عورت نے کہا: "اتنی جلدی کیا ہے؟

ابھی تو آپ نے 'أيها الناس' کہا ہے"۔ انہوں نے کہا: "خوب، کیا ہمارا شمار آدمیوں میں نہیں؟ " یہ کہہ کر خود ہی بال باندھ کر کھڑی ہو گئیں، اور قریب ہو کر خطبہ سننے لگیں۔ مسند ابن المبارک، حدیث نمبر 249۔

حضرت ام سلمہ کی مرویات کی تعداد 378 ہے۔ وہ فتویٰ بھی دیا کرتی تھیں۔ ابن قیم نے لکھا ہے کہ اگر ان کے فتوے جمع کیے جائیں تو ایک رسالہ تیار ہو جائے گا: "اعلام الموقعین" جلد 1، صفحہ 20۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں حضرت عائشہ سب سے زیادہ ذہین تھیں۔

ان کی مرویات کی تعداد 2210 تک شمار کی گئی ہے۔ ان سے تقریباً 100 صحابہ اور تابعین نے روایت کیا ہے۔ عبداللہ ابن عباس، عروہ بن زبیر، سعید ابن مسیب، عبداللہ ابن عامر، مسروخ بن اجدع، اکرمہ، القمہ جیسے لوگ آپ کے شاگردوں میں شامل ہیں۔ حضرت عائشہ ایک اعلیٰ درجے کی فقیہہ تھیں؛ جب کوئی حدیث بیان کرتیں تو اس کی علت و حکمت بھی بیان کر دیتیں۔

حضرت ابو سعید خدری اور حضرت عبداللہ ابن عمر سے جمعہ کے غسل کے بارے میں صرف اس قدر مروی ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا چاہیے۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 894۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 846۔ مگر اسی حدیث کو حضرت عائشہ نے بیان کیا تو یہ بھی فرمایا کہ لوگ دور دور کی آبادیوں سے نماز جمعہ کے لیے مدینہ آتے تھے۔

وہ گرد و غبار سے اٹے ہوتے اور پسینے سے تر ہوتے۔ اس لیے آپ نے فرمایا کہ تم لوگ نہا لیا کرو۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 903۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 847۔

نمبر 2: بنی غفار کی ایک عورت کہتی ہیں کہ میں اپنے قبیلے کی کچھ عورتوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ آپ خیبر کے جہاد کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔ ہم نے عرض کیا: "اے خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، ہم چاہتے ہیں کہ ہم بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ چلیں، تاکہ زخمیوں کی مرہم پٹی کریں اور جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کی مدد کریں"۔ آپ نے فرمایا: "علیٰ برکت اللہ"۔

اللہ برکت دے، چلو۔ الطبخات الکبریٰ، علی ابن سعد، جلد 8، صفحہ 292۔ انصاری خاتون ام عطیہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ 7 غزووں میں شرکت کی ہے۔ میں مجاہدین کے کجاووں کی دیکھ بھال کے لیے پیچھے رہتی، ان کے لیے کھانا پکاتی، زخمیوں کا علاج کرتی، اور مصیبت زدوں کی نگرانی کرتی۔

مسند احمد، حدیث نمبر 20792۔ اسماء بنت یزید ابن سکن حضرت معاذ ابن جبل کے چچا کی بیٹی تھیں۔ ان کی بابت حضرت مہاجر بتاتے ہیں کہ انہوں نے جنگ یرموک میں خیمے کی لکڑی سے 9 رومیوں کو قتل کیا۔ الصابۃ ابن حجر العسقلانی، جلد 8، صفحہ 22۔

نمبر 3: مدینے کے یہودیوں سے جنگ کے زمانے کا واقعہ ہے۔ عورتوں اور بچوں کو ایک قلعے کی چھت پر جمع کر کے، حسان ابن ثابت کو ان کی دیکھ بھال کے لیے وہاں رکھا گیا تھا۔ صفیہ بنت عبدالمطلب بھی اسی قلعے کی چھت پر تھیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ ہمارے قریب سے ایک یہودی گزرا اور ہمارے قلعے کا چکر لگانے لگا۔

اس وقت بنی قریظہ نے جنگ چھیڑ رکھی تھی، اس وجہ سے ہمارے اور رسول اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان راستہ کٹ گیا تھا۔ اور وہاں کوئی نہیں تھا جو یہود کے مقابلے میں ہماری مدافعت کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمان دشمن کے مقابلے پر تھے۔ وہ ان کو چھوڑ کر ہماری طرف نہیں آ سکتے تھے۔

اتنے میں آنے والا یہودی سامنے سے گزرا۔ میں نے کہا: "اے حسان، دیکھو یہ یہودی ہمارے قلعے کا چکر لگا رہا ہے، اور میں خدا کی قسم اس سے مامون نہیں۔ کہیں وہ ہماری اس غیر محفوظ حالت کو یہودیوں سے جا کر کہہ نہ دے"۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب جنگ میں مشغول ہیں۔

پس اترو اور اس کو جا کر قتل کر دو۔ حسان ابن ثابت نے کہا: "واللہ لقد عرفت ما أنا بصاحب هذا" یعنی خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ میں اس کام کا نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جب انہوں نے مجھ کو یہ جواب دیا، اور میں نے ان کے پاس مارنے کی کوئی چیز نہ دیکھی، تو میں کمر سے کپڑا کسا اور ایک لکڑی ہاتھ میں لی۔ پھر قلعے سے اتر کر اس کے پاس پہنچی، اور اس لکڑی سے اس کو مارنا شروع کیا، یہاں تک کہ میں نے اس کو ہلاک کر دیا۔

پھر جب میں اس سے فارغ ہو گئی تو میں قلعے میں واپس آئی اور حسان ابن ثابت سے کہا کہ قلعے سے اتر کر جاؤ اور اس کا سامان لاؤ۔ میں صرف اس لیے اس کا سامان اتارنے سے رک گئی کہ وہ مرد تھا۔ حسان ابن ثابت نے کہا: "اے عبداللہ، اے عبدالمطلب کی بیٹی، مجھے اس کے سامان کی ضرورت نہیں"۔ البدایہ والنہایہ، جلد 4، صفحہ 108 تا 109۔

کتاب خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 248۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.