← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Khuda ki madad
Urdu · 8 min
خدا کی مدد۔ ہجرت کے چھٹے سال، حدیبیہ کے مقام پر جو دس سالہ معاہدہ کیا گیا، اس کی ایک دفعہ یہ تھی: قریش کا جو شخص اپنے ولی کی اجازت کے بغیر بھاگ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائے گا، اس کو آپ واپس کر دیں گے۔ اور آپ کے ساتھیوں میں سے جو شخص قریش کے پاس چلا جائے گا، اس کو وہ واپس نہ کریں گے۔ اس معاہدے کی تکمیل کے وقت قریش کی نمائندگی سہیل ابن عمر کر رہے تھے۔
معاہدہ ابھی لکھا ہی جا رہا تھا کہ سہیل ابن عمر کے لڑکے ابو جندل آ گئے، وہ مسلمان ہو گئے تھے مگر مکہ والوں نے ان کو قید کر رکھا تھا۔ مکے سے حدیبیہ، یعنی موجودہ شمیسی تک 13 میل کا فاصلہ طے کر کے وہ اس طرح آپ کے کیمپ میں پہنچے کہ اب بھی ان کے پیروں میں بیڑیاں تھیں اور جسم پر مارپیٹ کے نشانات تھے۔ انہوں نے آپ سے فریاد کی کہ مجھ کو اس قید سے نجات دلائی جائے۔ صحابہ کے لیے بھی اپنے مومن بھائی کی یہ حالت دیکھ کر ضبط کرنا مشکل ہو گیا۔
مگر سہیل ابن عمر نے کہا کہ معاہدے کی تحریر چاہے مکمل نہ ہوئی ہو، شرائط تو ہمارے اور آپ کے درمیان طے ہو چکی ہیں، اس لیے ابو جندل کو ہمارے حوالے کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دلیل کو تسلیم کرتے ہوئے ابو جندل کو ان کے حوالے کر دیا، اور وہ روتے ہوئے مکہ واپس گئے۔ اسی طرح ابو بصیر اور دوسرے مسلمان جو قریش کی قید سے بھاگ کر مدینہ آئے، ان کو حسبِ معاہدہ قریش کو واپس کیا جاتا رہا۔ مگر اس کے برعکس مسلمان عورتوں کے معاملے میں اس اصول کی پابندی نہیں کی گئی۔
قرآن میں آیت اتری: "اے ایمان والو! جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو ان کی جانچ کر لو، پھر جب تمہیں معلوم ہو جائے کہ وہ مومن ہیں تو ان کو کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ " سورہ نمبر 60 آیت 10۔ اس سلسلے میں مثال کے طور پر یہ واقعہ آتا ہے کہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معید مکے سے نکل کر مدینہ پہنچیں۔
مکہ والوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے معاہدے کا حوالہ دے کر ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ ام کلثوم کے دو بھائی، ولید ابن عقبہ اور عمارہ بن عقبہ، انہیں واپس لے جانے کے لیے مدینہ آئے۔ اس کے باوجود ان کو واپس نہیں کیا گیا۔ مغازی للواقدی، جلد 2، صفحہ 631۔
بظاہر یہ معاہدے کی خلاف ورزی تھی، اور قریش کے لیے زبردست موقع تھا کہ وہ آپ کی بدعہدی کا شور مچا کر آپ کو بدنام کریں۔ مگر قریش آپ کے ساتھ انتہائی دشمنی کے باوجود بالکل خاموش ہو گئے۔ انہوں نے اس کے خلاف احتجاج تک نہ کیا۔ ایسا کیوں کر ہوا؟
سیرت اور تفسیر کی عام کتابوں میں اس کا کوئی جواب نہیں ملتا۔ قاضی ابوبکر ابن العربی نے لکھا ہے کہ قریش اس لیے خاموش ہو گئے کہ اللہ تعالیٰ نے بطور معجزہ اس معاملے میں ان کی زبان بند کر دی تھی۔ احکام القرآن لابن العربی، جلد 4، صفحہ 229۔ بلاشبہ یہ اللہ تعالیٰ کی مدد تھی، مگر ان معنوں میں نہیں جن معنوں میں لفظ "معجزہ" عام طور پر بولا جاتا ہے۔
معاہدے کے الفاظ پر غور کر کے اس کی حقیقت سمجھی جا سکتی ہے۔ دوسری اکثر روایات کی طرح، معاہدہ حدیبیہ کی شرائط بھی اکثر راویوں نے اپنے اپنے الفاظ میں بیان کی ہیں۔ مثال کے طور پر زیرِ بحث شرط کے متعلق مختلف روایتوں کے الفاظ ملاحظہ ہوں: "من جاء منكم لم نرده علیکم، من جاءكم منا رددتموه علینا"۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1784۔
نمبر 2: "من أتى محمد منهم بغير إذن وليه ردّه إليه"۔ مغازی الواقدی، جلد 2، صفحہ 611۔ نمبر 3: "من أتى محمد من قریش بغير إذن وليه ردّه علیہ"۔ سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 317۔
نمبر 4: "لا یأتیک منا رجل وإن كان على دينك إلا رددته إلينا"۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731-32۔ آخری روایت بخاری نے کتاب الشروط، باب الشروط فی الجہاد والمصالحة کی ہے، اور بااعتبار سند قوی ہونے کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ غالباً معاہدے کی مذکورہ شرط کے اصل الفاظ یہی تھے۔ اگر یہ مان لیا جائے تو اس فقرے میں "رجل" یعنی مرد کے لفظ نے مسلمانوں کو موقع دیا کہ وہ مکے سے آئی ہوئی مسلم خواتین کو اس دفعہ سے مستثنیٰ قرار دے سکیں۔
معاہدے کی یہ شرط مسلمانوں کی طرف سے نہ تھی بلکہ مکہ والوں کی طرف سے تھی۔ ان کی جانب سے سہیل ابن عمر نے معاہدے میں دفعہ کے یہ الفاظ لکھوائے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ دفعہ کے الفاظ لکھواتے وقت سہیل کے ذہن میں اگر کوئی شخص کا مفہوم ہو جس میں عورت اور مرد دونوں شامل ہوتے ہیں، مگر اپنے اس ذہنی مفہوم کو لفظ کی شکل دیتے ہوئے اس کی زبان سے جو لفظ نکلا وہ "رجل" تھا، جو عربی زبان میں صرف مرد کے لیے بولا جاتا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ام کلثوم بنت عقبہ کے مدینہ پہنچنے کے بعد جب آپ کے بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی بہن کی واپسی کا مطالبہ کیا تو امام زہری کی روایت کے مطابق آپ نے ان کو واپس دینے سے انکار کر دیا اور فرمایا: "کان الشرط فی الرجال دون النساء"۔
یعنی شرط مردوں کے بارے میں تھی، نہ کہ عورتوں کے بارے میں۔ احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 229۔ تفسیر رازی، جلد 29، صفحہ 522۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعے سے پہلے تک خود قریش بھی غالباً اس غلط فہمی میں تھے کہ معاہدے کی یہ دفعہ ہر طرح کے مہاجرین کے بارے میں ہے، خواہ وہ مرد ہوں یا عورت۔
مگر جب آپ نے توجہ دلائی کہ معاہدے میں "رجل" یعنی مرد کا لفظ لکھا ہوا ہے تو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک لفظ کے ذریعے مسلم خواتین کو ذلت کی واپسی سے بچا لیا۔ کتاب خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 250۔