عورت کا مقام؟ جو لوگ سونا چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور ان کو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں سخت عذاب کی خوشخبری دے دو۔ سورہ نمبر 9، آیت 34۔ قرآن کی یہ آیت اتری تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «تَبًّا لِلذَّهَبِ تَبًّا لِلْفِضَّةِ» یعنی برا ہو سونے کا اور برا ہو چاندی کا۔
یہ بات جب آپ کے اصحاب کو معلوم ہوئی تو وہ تشویش میں پڑ گئے۔ انہوں نے آپس میں کہا: «فَأَيُّ مَالٍ نَتَّخِذُ؟ » یعنی اب ہم کون سا مال جمع کریں؟ حضرت عمر اس وقت وہاں موجود تھے۔
انہوں نے کہا: اگر تم لوگ پسند کرو تو میں اس کی بابت رسول اللہ سے سوال کروں۔ لوگوں نے کہا: ہاں۔ چنانچہ وہ آپ کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کے اصحاب کہہ رہے ہیں کہ کاش ہم جانتے کہ کون سا مال بہتر ہے تو ہم اسی کو جمع کرتے۔ آپ نے فرمایا: «يَتَّخِذُ أَحَدُكُمْ لِسَانًا ذَاكِرَةً وَقَلْبًا شَاكِرًا وَزَوْجَةً مُؤْمِنَةً تُعِينُ أَحَدَكُمْ عَلَى إِيمَانِهِ» مسند احمد، حدیث نمبر 22392۔
وفي رواية: «لِيَتَّخِذَ أَحَدُكُمْ قَلْبًا شَاكِرًا وَلِسَانًا ذَاكِرًا وَزَوْجَةً مُؤْمِنَةً تُعِينُ أَحَدَكُمْ عَلَى أَمْرِ الْآخِرَةِ» سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 1856۔ تم میں سے ہر ایک یہ کرے کہ یاد کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل اپنائے۔ اور ایسی بیوی اختیار کرے جو اس کے ایمان پر اس کی مدد کرے۔ ایک اور روایت میں ایمان کے بجائے آخرت کا لفظ ہے۔
کتاب خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 247۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.