← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Maidaan-e-amal me
Urdu · 6 min
میدانِ عمل میں: اسماء بنت ابوبکر ہجرت سے 27 سال پہلے پیدا ہوئیں۔ مکے میں جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو مسلمانوں کی تعداد 17 تھی۔ حضرت ابوبکر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے کی طرف ہجرت کی، تو ان کے پاس تقریباً 6000 درہم تھے، وہ سب ساتھ لے گئے تھے۔ حضرت ابوبکر کے والد ابو خُحافہ، جو نابینا ہو گئے تھے، بعد کو پوتیوں کے پاس تسلی کے لیے آئے اور کہنے لگے: "میرا خیال ہے کہ ابوبکر نے اپنے جانے کا صدمہ بھی تم کو پہنچایا، اور مال بھی شاید سب لے گیا۔
" اسماء کہتی ہیں کہ میں نے اپنے دادا سے کہا، "وہ تو ہمارے لیے بہت کچھ چھوڑ گئے ہیں۔ " یہ کہہ کر میں نے چھوٹے چھوٹے پتھر جمع کیے اور اس طاق میں بھر دیا جس میں میرے والد کے درہم پڑے رہتے تھے، اور ان کے اوپر ایک کپڑا ڈال کر دادا کا ہاتھ اس کپڑے پر رکھ دیا۔ انہوں نے سمجھا کہ یہ درہم سے بھرے ہوئے ہیں۔ کہا، "خیر، یہ ابوبکر نے اچھا کیا، اس سے تم لوگوں کے گزارے کی صورت ہو جائے گی۔
" اسماء کہتی ہیں کہ خدا کی قسم، کچھ بھی نہیں چھوڑا تھا، میں نے صرف دادا کی تسلی کے لیے یہ صورت اختیار کی تھی۔ سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 489۔ حضرت اسماء کی شادی حضرت زبیر سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد جب دونوں ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو اس وقت جو حال ہوا وہ صحیح بخاری میں ان کی زبان سے اس طرح نقل ہوا ہے: "جب میرا نکاح زبیر سے ہوا تو ان کے پاس نہ مال تھا نہ جائیداد، نہ کوئی خادم کام کرنے والا، نہ کوئی اور چیز۔
ایک اونٹ پانی لاد کر لانے کے لیے تھا اور ایک گھوڑا۔ میں ہی اونٹ کے لیے گھاس وغیرہ لاتی تھی اور کھجور کی گٹھلیاں کوٹ کر دانے کے طور پر کھلاتی تھی۔ میں ہی پانی بھر لاتی اور پانی کا ڈول پھٹ جاتا تو اس کو آپ ہی سیتی تھیں۔ مجھ ہی کو گھوڑے کی ساری خدمت کرنی ہوتی تھی، اس کے ساتھ گھر کا سارا کام بھی انجام دینا ہوتا۔
ان سب کاموں میں گھوڑے کی خبرگیری میرے لیے زیادہ مشقت کی چیز تھی۔ روٹی البتہ مجھ کو اچھی طرح پکانا نہیں آتی تھی، اس لیے جب روٹی پکانا ہوتا تو میں آٹا گوندھ کر اپنے پڑوس کی انصار عورتوں کے یہاں لے جاتی۔ وہ بڑی مخلص عورتیں تھیں، میری روٹی بھی پکا دیتیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پہنچنے پر زبیر کو ایک زمین جاگیر کے طور پر دے دی، جو مدینے سے دو میل کے فاصلے پر تھی۔
میں وہاں کام کے لیے جایا کرتی اور وہاں سے اپنے سر پر کھجور کی گٹھلیاں لاد کر لاتی۔ ایک بار میں اس طرح آ رہی تھی اور گٹھری میرے سر پر تھی، راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے۔ وہ اونٹ پر آ رہے تھے اور انصار کی ایک جماعت ساتھ تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر اونٹ کو ٹھہرایا اور اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تاکہ میں اس پر بیٹھ جاؤں۔
مجھے مردوں کے ساتھ جاتے ہوئے شرم آئی اور یہ بھی خیال آیا کہ زبیر کو غیرت بہت زیادہ ہے، ان کو یہ ناگوار نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے انداز سے سمجھ گئے کہ مجھ کو اونٹ پر بیٹھتے ہوئے شرم آ رہی ہے، چنانچہ آپ آگے بڑھ گئے۔ میں گھر پر آئی اور زبیر کو پورا قصہ سنایا۔ میں نے کہا کہ مجھے مردوں کے ساتھ اونٹ پر بیٹھتے ہوئے شرم آئی اور تمہاری غیرت کا بھی خیال آیا۔
زبیر نے کہا، "خدا کی قسم، تمہارا گٹھلیاں سر پر رکھ کر لانا میرے لیے اس سے بھی زیادہ گراں ہے۔ " صحیح البخاری، حدیث نمبر 4928۔ مدینے کی زندگی میں عورتوں کے اس طرح کے کثرت سے واقعات ہیں۔ اس وقت عورتیں نہ صرف گھر کا بلکہ باہر کا بھی اکثر کام کرتی تھیں۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ مرد زیادہ تر جہاد اور تبلیغ دین وغیرہ میں مشغول رہتے تھے۔ ان کو موقع نہیں ملتا تھا کہ گھر کی ذمہ داریوں کو ادا کریں۔ چنانچہ ان کی عورتوں نے گھر کے کاروبار کو سنبھال لیا تھا، حتیٰ کہ جانوروں کی دیکھ بھال اور زراعت اور باغبانی بھی وہ کرنے لگی تھیں۔ کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 245۔