← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Kaamil aazaadi
Urdu · 5 min
کامل آزادی قدیم عرب میں ایک رواج تھا جس کو "ظہار" کہتے تھے۔ ایک شخص اپنی بیوی سے غصہ ہو کر کہہ دیتا کہ "أنتِ عليّ كظهر أمي" یعنی "تو میرے لیے میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے"۔ جو شخص ایسا کہہ دیتا، اس کے متعلق یہ سمجھا جاتا کہ اس کی بیوی اس پر حرام ہو گئی۔ مدینے میں یہ واقعہ ہوا کہ ایک مسلمان حضرت اوس ابن ثامت نے کسی بات پر اپنی بیوی خولہ بنت سالبہ کو ایسا ہی کہہ دیا۔
اب بظاہر خولہ اپنے شوہر کے لیے حرام ہو گئی۔ ان کے کئی بچے تھے، ان کو سخت پریشانی ہوئی، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور پورا قصہ بتایا۔ اس وقت تک اس بارے میں قرآن میں کوئی حکم نہیں اترا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ "میں خیال کرتا ہوں کہ تو اب ان کے لیے حرام ہو گئی"۔
یہ سن کر حضرت خولہ فریاد اور شکوہ کرنے لگیں کہ گھر ویران ہو جائے گا، میری اولاد تباہ ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خدا کے رسول، میرے شوہر نے یہ الفاظ تو نہیں کہے کہ "میں تم کو طلاق دیتا ہوں"۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے موافق جواب نہیں ملا، تو وہ اللہ کے آگے رونے گڑگڑانے لگیں کہ خدایا مجھے اس مصیبت سے بچا، میں تجھ ہی سے اس معاملے کی فریاد کرتی ہوں۔ اس کے بعد سورہ مجادلہ اتری، جس میں ظہار کے بارے میں اسلام کا حکم بتایا گیا ہے۔
یہ سورہ ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے: "اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے معاملے میں تجھ سے جھگڑتی تھی اور اللہ سے فریاد کر رہی تھی، اور اللہ تم دونوں کی باتیں سن رہا ہے۔ بے شک وہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ " سورہ نمبر 58، آیت 1۔ تفسیر عبدالرزاق 3165۔
انہی حضرت خولہ کا واقعہ ہے، انہی حضرت خولہ کا واقعہ ہے، بعد کے زمانے میں جبکہ حضرت عمر فاروق اسلامی سلطنت کے خلیفہ تھے، ایک روز آپ کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں حضرت خولہ ملیں، جو اس وقت کافی بوڑھی ہو چکی تھیں۔ حضرت عمر نے ان کو سلام کیا، انہوں نے سلام کا جواب دیا اور پھر کہا: "اے عمر، ایک وقت تھا کہ میں نے تم کو عکاس کے بازار میں دیکھا تھا۔ اس وقت تم عمیر کہے جاتے تھے، اس وقت تم عمیر کہے جاتے تھے۔ تم ہاتھ میں لکڑی لیے ہوئے بکریاں چراتے تھے۔
پھر وہ وقت آیا کہ تم عمر کہے جانے لگے، اور تم امیرالمومنین کہے جاتے ہو۔ دیکھو، رعایا کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ اور یاد رکھو کہ جو شخص اللہ کی پکڑ سے ڈرتا ہے، اس کے لیے دور کا آدمی بھی قریبی رشتہ دار کی طرح ہوتا ہے۔ اور جو آدمی موت سے نہیں ڈرتا، اس کے بارے میں ڈر ہے کہ وہ اسی چیز کو کھو دے گا جس کو وہ پانا چاہتا ہے۔
" اس وقت ایک صاحب، اس وقت ایک صاحب حضرت عمر کے ساتھ تھے جن کا نام جارود عبدی تھا۔ انہوں نے کہا کہ "اے عورت، تو نے امیرالمومنین کے ساتھ بہت زبان درازی کی۔ " حضرت عمر نے کہا: "انہیں بولنے دو، تم جانتے ہو کہ یہ کون ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کی بات سات آسمانوں کے اوپر سنی گئی۔
عمر کو تو بدرجہ اولیٰ ان کی بات سننا چاہیے۔ " تاریخ المدینہ، ابن شیبہ، جلد 2، صفحہ 394۔ کتاب خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 238۔