← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Behtareen rafeeq-e-hayaat
Urdu · 5 min
بہترین رفیقِ حیات حضرت خدیجہ بنت خویلد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی اہلیہ تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی اور فرشتہ جبریل نے آپ کو خدا کی پہلی وحی پہنچائی، تو آپ پر اس کا شدید تاثر تھا۔ یہ واقعہ غار حرا میں پیش آیا تھا۔ آپ وہاں سے اتر کر اپنے مکان پر آئے، اور حضرت خدیجہ سے تمام واقعہ بیان کر کے فرمایا کہ "مجھ کو اپنی جان کا خطرہ ہے"۔
اس وقت حضرت خدیجہ نے جو جملہ کہا، وہ تاریخ میں ان الفاظ میں محفوظ ہے: «كَلَّا وَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، فَوَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَّقْرِي الظَّيْفَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ» (سیرت ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 386)۔ یعنی: ہرگز نہیں۔ خدا کی قسم، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ رشتے داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں، مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، اور سچ بات بولتے ہیں۔
ناداروں کی خبرگیری کرتے ہیں، اور حق کے معاملے میں ہمیشہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ کو یہ خیال ہوا کہ اس بارے میں عیسائی حضرات سے دریافت کریں، کیونکہ وہ لوگ آسمانی کتابوں کے حامل ہیں اور وحیِ نبوت کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں۔ چنانچہ وہ ایک عیسائی راہب کے پاس گئیں، جو مکے کے قریب رہتے تھے۔ راہب نے انہیں دیکھ کر پوچھا کہ "اے قریش کی معزز خاتون، آپ کس لیے آئی ہیں؟
" حضرت خدیجہ نے کہا کہ "میں اس لیے آئی ہوں کہ آپ مجھے جبریل کے بارے میں بتائیں کہ وہ کون ہیں۔ " راہب نے کہا: "سبحان اللہ، وہ خدا کا پاک فرشتہ ہے۔ وہ پیغمبروں کے پاس آتا ہے، وہ موسیٰ اور عیسیٰ کے پاس آیا تھا۔ " حضرت خدیجہ اس کے جواب میں ایک اور عیسائی کے پاس گئیں، جن کا نام عداس تھا۔
اس سے بھی انہوں نے یہی سوال کیا کہ جبریل کون ہے۔ عداس نے کہا کہ "جبریل خدا کے فرشتے ہیں۔ وہ موسیٰ کے پاس اس وقت تھے جب اللہ نے فرعون کو غرق کیا۔ وہ عیسیٰ پر اترے، اور ان کے ذریعے اللہ نے عیسیٰ کی مدد فرمائی۔
" حضرت خدیجہ اس کے بعد ورخہ بن نوفل کے پاس گئیں۔ وہ جاہلیت کے زمانے میں عیسائی ہو گئے تھے۔ وہ ایک بڑے عالم تھے اور انہوں نے انجیل کا ترجمہ سریانی زبان سے عربی میں کیا تھا۔ ورخہ بن نوفل نے حالات سننے کے بعد کہا: "اے خدیجہ!
اگر تم نے سچ کہا ہے تو یہ وہی فرشتہ ہے جو عیسیٰ پر آیا تھا۔ اب وہ محمد کے پاس آیا ہے۔ " اس کے بعد حضرت خدیجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر دوبارہ ورخہ بن نوفل کے پاس گئیں۔ ورخہ نے آپ کی زبان سے حالات سننے کے بعد کہا: "آپ کو خوشخبری ہو۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ وہی پیغمبر ہیں جن کی مسیح ابن مریم نے بشارت دی تھی۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، قوم آپ کو جھٹلائے گی اور آپ سے لڑے گی۔ اگر میں اس وقت زندہ رہا تو میں ضرور آپ کا ساتھ دوں گا۔ " (سیرت ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 386) کتاب "خاتونِ اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 236۔