Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Do khawateen

Urdu · 8 min

دو خواتین: "سمعتُ عليًا بالكوفة يقول"، "سمعتُ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم يقول"۔ خیرُ نساءِها مریمُ بنتُ عمران، و خیرُ نساءِها خدیجۃُ بنتُ خویلد۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2430۔ حضرت علی سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: "ان کی سب سے بہتر خاتون مریم بنتِ عمران تھیں" اور "ان کی سب سے بہتر خاتون خدیجہ بنتِ خویلد ہیں"۔

فتح الباری میں طیبی کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ "الضمير الأول رجع إلى الأمة التي كانت فيها مريم، والثاني إلى هذه الأمة" ۔ یعنی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مریم امتِ یہود کی سب سے بہتر خاتون تھیں، امتِ مسلمہ کی سب سے بہتر خاتون ہیں۔ یہ افضلیت کیوں تھی؟ اس پر مندرجہ ذیل دو احادیث سے روشنی پڑتی ہے: عن عائشة قالت: ما غرتُ على نساء النبي صلى الله عليه وسلم إلا على خديجة، وإني لم أدركها.

قالت: وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا ذبح الشاة فيقول: أرسلوا بها إلى أصدقاء خديجة. قالت: فأغضبته يومًا فقلت: خديجة؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني قد رُزِقتُ حبها. صحیح البخاری، حدیث نمبر 3816۔

صحیح مسلم، حدیث نمبر 2435۔ یعنی حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں مجھے خدیجہ کے سوا کسی کے اوپر غیرت نہیں آئی، حالانکہ میں نے ان کا زمانہ نہیں پایا۔ حضرت عائشہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بکری ذبح کرتے تو فرماتے کہ اس میں سے خدیجہ کی دوستوں کو بھیج دو۔ وہ کہتی ہیں کہ ایک روز مجھے اس پر غصہ آ گیا اور میں نے کہا: خدیجہ؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خدیجہ کی محبت مجھے پلا دی گئی ہے۔ عن مسروق، عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يكاد يخرج من البيت حتى يذكر خديجة فيحسن عليها الثناء، فذكرها يومًا من الأيام، فأدركتني الغيرة فقلت: هل كانت إلا جوزًا؟ فقد أبدلك الله عز وجل خيرًا منها. فغضب، ثم قال: لا والله ما أخلف الله لي خيرًا منها، وقد آمنت بي إذ كفر بي الناس.

وصدقتني وكذبني الناس، وصدقتني وكذبني الناس. وواستني من مالها إذ حرمني الناس، ورزقني الله عز وجل الأولاد منها إذ حرمني أولاد النساء. الشريعة للأجر. حدیث نمبر 1681۔

المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 22۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ کی تعریف کیے بغیر گھر سے نہ نکلتے تھے۔ ایک روز آپ نے خدیجہ کا ذکر فرمایا تو مجھے غیرت آ گئی۔ میں نے کہا: وہ ایک بڑھیا ہی تو تھیں، اور اللہ نے اس کے بدلے آپ کو زیادہ بہتر دے دیا ہے۔

آپ غضب ناک ہو گئے اور فرمایا: خدا کی قسم نہیں، خدا نے مجھے خدیجہ سے بہتر نہیں دیا۔ وہ ایمان لائیں جبکہ لوگوں نے انکار کیا۔ انہوں نے میری تصدیق کی جبکہ لوگوں نے مجھے جھٹلایا۔ انہوں نے میری تصدیق کی جبکہ لوگوں نے مجھے جھٹلا دیا۔

انہوں نے اپنے مال سے میری مدد کی جبکہ لوگوں نے مجھے محروم کیا۔ اور اللہ نے مجھے ان سے اولاد دی جو دوسری بیویوں سے نہ دی۔ حضرت مریم اور حضرت خدیجہ کو تاریخ کی معیاری خواتین کی حیثیت کیوں حاصل ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو ہمہ تن اللہ کے حوالے کر دیا۔

انہوں نے اپنی مرضی کو خدا کی مرضی میں ملا دیا۔ یہود کے آخری زمانے میں ایک ایسی خاتون درکار تھی جو حضرت مسیح جیسے معجزاتی پیغمبر کی ماں بن سکے۔ اللہ تعالی کا یہ منصوبہ تھا کہ وہ قومِ یہود کے آخری پیغمبر کو باپ کے بغیر پیدا کرے۔ اس مقصد کے لیے ایسی خاتون درکار تھیں جن کی عصمت اور پاک بازی اتنی مسلم ہو کہ کسی کو ان کے بارے میں ادنیٰ شبہ کی گنجائش نہ رہے۔

حضرت مریم نے اپنی غیر معمولی زندگی سے اس کا ثبوت دیا۔ اس لیے وہ حضرت مسیح کی ماں بنائے جانے کے لیے چن لی گئیں۔ اسی طرح آخری رسول کے حالات کے اعتبار سے، ان کو ایسی خاتون کی ضرورت تھی جو اپنی زندگی اور اپنا اثاثہ پوری طرح پیغمبر کے حوالے کر دیں، اور کبھی کسی بات پر شکایت نہ کریں۔ حضرت خدیجہ کے امتیازی اوصاف کی بنا پر خدا نے ان کو اس خدمتِ خاص کے لیے چن لیا۔

انہوں نے اپنی زندگی، اپنا اثاثہ، اپنا آرام و راحت، سب کچھ پیغمبرِ خدا کے لیے وقف کر دیا۔ سخت ترین مصائب کے باوجود کبھی اف نہ کیا۔ ان کی انہی خصوصیات نے انہیں خدا کی نظر میں اس قابل بنایا کہ وہ پیغمبر آخر الزماں کی رفیقِ حیات بنیں۔ اسلام کے مشن کے لیے ہر دور میں ایسی عورتوں اور ایسے مردوں کی ضرورت ہوتی ہے جو موجودہ امتحانی دنیا میں زیرِ عمل لائے جانے والے خدائی منصوبے میں اپنے آپ کو شامل کریں۔

جو خدا کے کاگ میں اپنا کاگ ملائیں۔ اس میں شک نہیں کہ یہ بے حد صبر آزما عمل ہے، مگر اس میں بھی شک نہیں کہ اس کا اجر بہت زیادہ ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کو قرآن میں خدا کی مدد کرنا کہا گیا ہے، اور بلاشبہ کسی مرد یا عورتوں کے لیے اس سے بڑا اور کوئی درجہ نہیں۔ کتاب "خاتونِ اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 233۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.