خواتینِ اسلام! اسلام کی تاریخ خواتین کے اعلیٰ واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ خواتین کو اسلامی معاشرے میں کتنا اونچا مقام حاصل ہے، اور انہوں نے اسلام کے دائرے میں رہ کر کتنے بڑے بڑے کارنامے انجام دیے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ عائشہ بنت ابی بکر نہایت ذہین خاتون تھیں۔
ان کی ذہانت اسلام میں آ کر نہ ضائع ہوئی اور نہ غیر استعمال شدہ رہ گئی، بلکہ اس نے اپنے استعمال کا نہایت اعلیٰ اور وسیع میدان پا لیا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں کافی کم عمر تھیں، اس بنا پر آپ کی وفات کے بعد تقریباً نصف صدی تک دنیا میں رہیں، اور اس پوری مدت میں امت کے لیے دین کو جاننے کا مستند ذریعہ بنی رہیں۔ حضرت عائشہ کی روایتوں کی تعداد 2210 تک شمار کی گئی ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگوؤں اور تقریروں کو نہایت صحت کے ساتھ اپنے ذہن میں محفوظ کر لیتی تھیں، اور ان سے مسائل اخذ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی تھیں۔
کہا جاتا ہے کہ شرعی احکام کا تقریباً چوتھائی حصہ حضرت عائشہ سے منقول ہے۔ آپ کا علم اور تفقع اس قدر مسلم تھا کہ صحابہ کے درمیان جب کسی معاملے میں سوال پیدا ہوتا تو وہ حضرت عائشہ سے دریافت کرتے۔ حضرت ابو موسیٰ شرعی کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو جب بھی کسی حدیث میں اشکال پیش آتا تو ہم عائشہ سے رجوع کرتے، ان کے یہاں ضرور اس کے متعلق ہم کو کوئی علم مل جاتا۔ أَنَبِّ مُوسَى قَالَ: مَا أَشْكَلَ عَلَيْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثٌ قَدْ تُو فَسَأَلْنَا عَائِشَةَ إِلَّا وَجَدْنَا عِنْدَهَا مِنْهُ عِلْمًا سنن الترمذی، حدیث نمبر 2883۔
اس قسم کی باتوں کی اصل اہمیت یہ نہیں ہے کہ وہ اسلامی تاریخ کی ایک معزز خاتون کی فضیلت کو بتاتی ہیں، ان کی اصل اہمیت یہ ہے کہ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں عورتوں کو کتنا بلند درجہ دیا گیا ہے، اور ان کی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے اسلام میں کتنا وسیع میدان کھلا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات اسلام کے امتیاز کو بتا رہے ہیں، نہ کہ محض کسی ایک شخص کے ذاتی امتیاز کو۔ اسلام نے حضرت عائشہ کی صلاحیتوں کو اس حد تک ترقی دی کہ انہوں نے اہم سیاسی اور سماجی خدمات انجام دیں۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 میں ان کی خدمات کا اعتراف ان الفاظ میں کیا گیا ہے: "Aisha, the third wife of the Prophet Muhammad, who played a role of some political importance after the Prophet's death" انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، والیوم 1، پیج 167۔
عائشہ جو پیغمبر یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری اہلیہ تھیں، انہوں نے پیغمبر کی وفات کے بعد کچھ ایسے رول ادا کیے جو سیاسی اہمیت رکھنے والے تھے۔ یہاں خواتینِ اسلام کے سلسلے میں چند واقعات نقل کیے جاتے ہیں۔ کتاب "خواتینِ اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 232۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.