← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Taqseem-e-kaar
Urdu · 7 min
تقسیمِ کار: اسلام میں عورت اور مرد کے دائرۂ عمل کو الگ الگ رکھا گیا ہے۔ عورت گھر کے لیے اور مرد باہر کے لیے۔ یہ تقسیم نہ صرف اس لیے صحیح ہے کہ حیاتیاتی اور عضویاتی اعتبار سے دونوں صنفوں میں فرق ہے، بلکہ اس میں بہت سے اجتماعی فائدے بھی ہیں۔ ان میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ اس تقسیم کے ذریعے دونوں کو ایسے قابلِ اعتماد ساتھی مل جاتے ہیں جو ایک دوسرے کے لیے بہترین مشیر بن سکیں۔
خاندان نسلِ انسانی کا اکائی ہے، اور معاشرہ اس کا مجموعہ۔ دونوں اپنی اپنی جگہ پر انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ زندگی کے ان دونوں میدانوں میں بار بار ایسے گمبھیر مسائل آتے ہیں جن میں وہ شخص بے لاگ رائے قائم نہیں کر پاتا جو خود مسئلے کے اندر گھرا ہوا ہو۔ ایسے وقت میں ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کے پاس ایک ایسا مشیر ہو جو خود مسئلے سے متعلق نہ ہو، تاکہ اس کی بابت غیر متاثر ذہن کے ساتھ رائے قائم کر سکے۔
عورت اور مرد کے درمیان تقسیمِ عمل سے یہ فائدہ بہترین طور پر حاصل ہو جاتا ہے: عورت اپنے شعبے میں مصروف ہوتی ہے اور مرد اپنے شعبے میں۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے کے معاملات سے براہِ راست طور پر غیر متعلق ہو جاتے ہیں۔ ہر فریق اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ دوسرے فریق کے معاملے میں غیر متاثر ذہن کے ساتھ سوچے اور اپنے بے لاگ مشوروں سے اس کی مدد کر سکے۔ اس بات کی وضاحت کے لیے یہاں عورت کی زندگی سے چند مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔
نمبر 1: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر جب غارِ حرا میں پہلی وحی اتری تو آپ کانپتے ہوئے اپنے گھر تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھا دو۔ گھر والوں نے آپ کو کمبل اڑھا دیا۔ کچھ دیر کے بعد جب آپ کی دہشت کم ہوئی تو آپ نے اپنی اہلیہ خدیجہ بنت خویلد سے وہ پورا قصہ بیان کیا جو غارِ حرا کی تنہائی میں آپ کے ساتھ پیش آیا تھا۔ آپ نے فرمایا: "یہ واقعہ اتنا سخت تھا کہ مجھ— کہ مجھے اپنی جان کا خطرہ پیدا ہو گیا۔
" خدیجہ کے اس وقت کے الفاظ، جو تاریخ نے محفوظ رکھے ہیں، وہ ایک رفیقِ حیات کے کردار کی نہایت اعلیٰ مثال ہیں۔ انہوں نے کہا: "كَلَّا وَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا" "فَوَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَقْرِضْ ضِيْفًا وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَسْتُقُ الْحَدِيثَ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ" سیرت ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 386۔ یعنی: ہرگز نہیں، خدا کی قسم، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا۔ آپ رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، ناداروں کے کام آتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، اور حق کے معاملے میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔
نمبر 2: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قریشِ مکہ سے وہ معاہدہ کیا جو "معاہدۂ حدیبیہ" کے نام سے مشہور ہے، تو صحابہ میں سخت بے چینی پھیل گئی۔ کیونکہ یہ معاہدہ بظاہر دب کر کیا گیا تھا، اور اس میں کئی باتیں صریح طور پر مخالفین کے حق میں تھیں۔ لوگوں میں اس قدر غم و غصہ تھا کہ معاہدے کی تکمیل کے بعد جب آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ قربانی کے جانور جو تم اپنے ساتھ لائے ہو، یہیں ذبح کر دو اور سر منڈا لو، تو ایک شخص بھی اس کے لیے نہ اٹھا۔ آپ نے تین بار اپنے حکم کو دہرایا، پھر بھی سب لوگ خاموش رہے اور کوئی اپنی جگہ سے نہ اٹھا۔
آپ رنج کی حالت میں وہاں سے لوٹ کر اپنے خیمے میں گئے، جہاں آپ کی اہلیہ ام سلمہ موجود تھیں۔ انہوں نے آپ کو غمگین دیکھ کر پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ آج وہ ہوا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ میں نے مسلمانوں کو حکم دیا، مگر ان میں سے کوئی بھی میرے حکم کی تعمیل کے لیے نہ اٹھا۔ ام سلمہ نے کہا: "اے اللہ کے رسول!
اگر آپ کی رائے یہی ہے تو آپ میدان میں تشریف لے جائیں، اور کسی سے کچھ کہے بغیر اپنا قربانی کا جانور ذبح کریں اور سر منڈا لیں۔ " آپ خیمے سے باہر نکلے اور کسی سے کچھ کہے بغیر اپنی قربانی ذبح کی، اور نائی کو بلا کر سر منڈایا۔ جب صحابہ نے یہ دیکھا تو سب نے اٹھ کر اپنی اپنی قربانیاں ذبح کر دیں، اگرچہ ان کے رنج و غم کا عالم یہ تھا کہ جب وہ ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک دوسرے کو کاٹ ڈالیں گے۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731۔
خدیجہ اور ام سلمہ کو ان نازک مواقع پر جو قیمتی بات سوجھی، وہ اس لیے سوجھی کہ وہ اصل معاملے سے الگ تھیں، اور اس بنا پر اس پوزیشن میں تھیں کہ غیر متاثر ذہن کے تحت اس کے بارے میں رائے قائم کر سکیں۔ اگر وہ خود بھی معاملے میں براہِ راست شریک ہوتیں تو اس قسم کی بے لاگ رائے قائم کرنا ان کے لیے ممکن نہ ہوتا۔ کتاب "خاتونِ اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 239۔