Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Izafi khususiyat na ke fazilat

Urdu · 5 min

اضافی خصوصیت، نہ کہ فضیلت۔ قرآن کی آیت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: الرجال قوامون على النساء بما فضل الله بعضهم على بعض سورہ نمبر 4، آیت 34۔ یعنی مرد عورتوں کے اوپر قوام ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے ایک کو ایک پر فضیلت دی۔ یہاں فضیلت سے مراد خصوصیت ہے۔

گھر کے نظام کو درست طور پر چلانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا ایک سربراہ اور نگراں ہو۔ یہ سربراہی یا نگرانی اسی فرد، اسی فردِ خاندان کو سونپی جائے گی جو نسبتاً اس کی زیادہ اہلیت رکھتا ہو۔ یہ اہلیت قدرتی تخلیق کے اعتبار سے مرد کے اندر زیادہ ہے۔ اس آیت میں کلی فضیلت کا ذکر نہیں ہے؛ یہاں صرف اس فضیلت کا ذکر ہے جو مرد کے لیے یہ استحقاق ثابت کرتی ہے کہ اس کو گھر کا قوام بنایا جائے۔

فَضَّلَ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ عربی کا ایک اسلوب ہے جو قرآن میں مختلف مقامات پر استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً ایک ہی زمین اور ایک ہی پانی سے مختلف قسم کی فصلیں اور میوے پیدا ہوتے ہیں۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ سِنْوَانٌ وَغَيْرُ سِنْوَانٍ سِنْوَانٌ وَغَيْرُ سِنْوَانٍ يُسْقَى بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ سورہ نمبر 13، آیت 4۔ یعنی: اور زمین میں پاس پاس مختلف قطعے ہیں، اور انگوروں کے باغ ہیں، اور کھیتی ہے، اور کھجوریں ہیں۔

ان میں سے کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دوہرے۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں، اور ہم بڑھا دیتے ہیں ان میں ایک کو ایک سے میووں میں۔ تمام مفسرین نے یہاں 'تفضیل' سے مراد فرخ اور تنوع لیا ہے، نہ یہ کہ پھلوں میں سے کسی ایک پھل کو دوسرے تمام پھلوں کے اوپر مطلق برتری حاصل ہے۔ یعنی ہر پھل میں ایک منفرد خصوصیت ہے جو دوسرے میں نہیں۔

ہر پھل میں رنگ اور مزے کے اعتبار سے ایک مزید پہلو ہے جو دوسرے پھل سے مختلف ہے۔ عورت اور مرد میں بھی اسی طرح فرق رکھا گیا ہے: ایک صنف کے اندر ایک اضافی خصوصیت ہے، تو دوسری صنف کے اندر دوسری اضافی خصوصیت۔ اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ جن چیزوں میں اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، ان میں ہوس نہ کرو۔ مردوں کو ان کی کمائی کا حصہ ہے، اور عورتوں کو ان کی کمائی کا حصہ۔

وَلَا تَتَمَنَّوا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّ اكْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّ اكْتَسَبْنَ سورہ نمبر 4، آیت 32۔ یعنی ہر ایک کو کوئی ایسی خصوصیت دی گئی ہے جو دوسرے کو نہیں دی گئی ہے۔ اس لیے دوسرے کو جو کچھ ملا ہے، اس پر رشک و حسد نہ کرو۔ اس لیے دوسرے کو جو کچھ ملا ہے، اس پر رشک و حسد نہ کرو، بلکہ تم کو جو کچھ ملا ہے، اس کو استعمال کر کے اس کے ذریعے سے تعمیرِ حیات میں اپنا حصہ ادا کرو۔

یہ صحیح ہے کہ جسمانی اعتبار سے عورت کے اندر بعض کمزوریاں ہیں، مگر جسمانی کمزوری کا مطلب غیر افضل ہونا نہیں۔ آنکھ ہمارے جسم کا نہایت کمزور حصہ ہے، اس کے مقابلے میں ناخن زیادہ طاقتور ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ناخن افضل ہے اور آنکھ غیر افضل۔ جس طرح دو پھلوں میں دو علیحدہ علیحدہ صفت ہوتی ہیں، اور دونوں میں سے کوئی افضل یا غیر افضل نہیں ہوتا، یہی معاملہ عورت اور مرد کا بھی ہے۔

عورت اور مرد دونوں کے اندر کوئی مزید صفت ہے جو ایک کے اندر ہے اور دوسرے کے اندر نہیں ہے۔ ہر ایک کو کسی نہ کسی اعتبار سے فضیلت، یعنی اضافی خصوصیت، حاصل ہے۔ دونوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اضافی خصوصیت کے اعتبار سے زندگی کے نظام میں اپنا مقام متعین کریں۔ ہر صنف کو اللہ تعالیٰ نے کسی کارِ خاص کے لیے موزوں بنایا ہے، اور اس کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اسی کارِ خاص میں لگا دے۔

کتاب 'خاتونِ اسلام' مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 228۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.