Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Aurat ki gawahi

Urdu · 4 min

عورت کی گواہی: اسلام کے قانونِ شہادت میں 2 عورت کی گواہی 1 مرد کے برابر مانی گئی ہے۔ خُران میں قرض کے معاملے کا قاعدہ بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اپنے مردوں میں سے 2 مرد کو گواہ بنا لو، اور اگر 2 مرد گواہ نہ ملیں تو 1 مرد اور 2 عورتیں گواہ بنائی جائیں، ایسے گواہوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو، تاکہ ان دونوں عورتوں میں سے ایک اگر بھول جائے تو دوسری عورت اس کو یاد دلا دے۔ سورہ نمبر 2، آیت 282۔ حالیہ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ خُران کا یہ قانون بالکل فطری ہے، کیونکہ وہ حیاتیاتی حقیقت کے عین مطابق ہے۔

ٹائمز آف انڈیا 18 جنوری 1985 میں یو پی آئی کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع ہوتی ہے۔ یہ رپورٹ اخبار کے صفحہ 9 پر ہے، اور اس کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں: "Memorizing ability: Men have a greater ability to memorize and process mathematical information than women, but females are better with words. " A Soviet scientist says: "Reports UPI: men dominate in mathematical subjects due to the peculiarities of their memory. " Dr.

Ladimer Konovalov told the TAS News Agency: "The stronger sex shows greater difficulties in processing and adopting language material. " عورتوں کے مقابلے میں مردوں کے اندر اس بات کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ ریاضیاتی معلومات کو یاد رکھیں اور اس کو ترکیب دے سکیں، مگر عورتیں الفاظ میں زیادہ بہتر ہوتی ہیں۔ یہ بات ایک روسی سائنس دان نے کہی: ڈاکٹر ولادیمیر کنوالوف نے ٹاس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ مرد ریاضیاتی موضوعات پر چھائے ہوئے ہیں، اس کی وجہ ان کے اندر حافظے کی خصوصی صلاحیت ہے۔ صنفِ قوی لسانی مواد کو ترکیب دینے اور استعمال کرنے میں زیادہ مشکل محسوس کرتا ہے۔

مذکورہ آیت کا تعلق قرض سے ہے، یعنی وہ صورت جب کہ آج معاملہ کیا جائے اور آئندہ اس کی ادائیگی ہو۔ ایسے معاملے میں حکم دیا گیا کہ اس کے اوپر 2 مرد گواہ ہوں، یا 1 مرد اور 2 عورتیں گواہ مقرر کی جائیں۔ یہ بالکل واضح ہے کہ اس طرح کے معاملے میں انصاف پسندی کے بعد دوسری چیز جو دیکھنے کی ہے وہ یادداشت ہے، اور جب حیاتیاتی طور پر عورت کی یادداشت مرد سے کم ہو تو یہ عین مطابقِ حقیقت ہے کہ 1 مرد کی جگہ 2 عورتیں گواہ بنائی جائیں۔ گویا عورت اور مرد میں گواہی کا فرق برِ بنائے ضرورت ہے، نہ کہ برِ بنائے فضیلت۔

کتاب: خاتونِ اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 227۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.