گھر سنبھالنا کمتر درجے کا کام نہیں۔ أنسماء بنت يزيد الأنصارية أنها أتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: "إنكم معاشر الرجال فضلتم علينا بالجمع والجماعات، وأفضل من ذلك الجهاد في سبيل الله عز وجل، فما نشاريكم في الأجر يا رسول الله؟ " فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم: "إن صرفي أيتها المرأة وأعلمي من خلفك من النساء، إن حسن تبعلي إحداكن لزوجها وطلبها مرضاته واتباعها موافقته تعدل ذلك كله." معرفت الصحابة لأبي نعام الأصفهاني حدیث نمبر 7512 یعنی: حضرت اسماء بنت یزید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، انہوں نے کہا کہ "اے خدا کے رسول! مرد اجر میں آگے بڑھ گئے، وہ جمعہ اور اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کا موقع ہے، ہم عورتیں کیسے ان کے برابر اجر پائیں؟
" آپ نے فرمایا کہ "اے خاتون! تم جا کر تمام عورتوں کو خبر دے دو کہ جو عورت اپنے شوہر کے ساتھ بہتر طریقے سے رہے اور اس کی پسندیدگی کا خیال رکھے اور ان سے اختلاف نہ کرے، تو یہ ان تمام اعمال کے برابر ہے جن کا تم نے مردوں کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔ " موجودہ زمانے کا یہ ذہنی بگاڑ ہے کہ گھر سنبھالنے کو کمتر درجے کا کام سمجھا جاتا ہے، اور باہر کے کام کو زیادہ بڑا کام سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر اسلام گھر سنبھالنے کے کام کو بھی اتنا ہی عزت کا درجہ دیتا ہے جتنا باہر کے کام کو۔
حقیقت یہ ہے کہ دونوں یکساں اہمیت کے کام ہیں۔ ان میں سے کسی فریق کو یہ حق نہیں کہ وہ احساس برتری میں مبتلا ہو، اور نہ کسی فریق کو یہ چاہیے کہ وہ احساس کمتری کا شکار ہو کر اپنی اہمیت خود اپنی نظر میں گھٹا لے۔ کتاب خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 222۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.