اظہارِ خیال کی آزادی۔ خلیفہ ثانی عمر فاروق ممبر پر کھڑے ہوئے اور لوگوں سے کہا: "أَنَا بِي عَبْدِ الرَّحْمَٰنِ السُّلَّمِ قَالَ" قال عمر بن الخطاب: "لَا تُغَالُوا فِي مُهُورِ النِّسَاءِ" فَقَالَتْ اِمْرَأَةٌ: "لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ يَا عُمَرَ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: وَإِنْ أَعْطَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا" سورہ نمبر 4 آیت 20۔ وزاد في روايةٍ: فَقَالَ عُمَرُ: "اِمْرَأَةٌ أَصَابَتْ وَرَجُلٌ أَخْطَأَ" مسند الفاروق لِبْنِ كَسِير، حدیث نمبر 810۔ یعنی: "تم لوگ عورتوں کے زیادہ مہر نہ باندھو"۔
اس کے بعد ایک عورت اٹھی اور اس نے بلند آواز سے کہا کہ اے عمر، اس معاملے میں آپ کو دخل دینے کا حق نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تم نے عورتوں کو زیادہ مال دیا ہو تو اس میں سے کچھ نہ لو۔ سورہ نمبر 4 آیت 20۔ یہ سن کر حضرت عمر نے اپنی بات واپس لے لی اور کہا: عورت نے صحیح بات کہی اور عمر نے غلطی کی۔ حضرت عمر فاروق اپنے وقت کے حکمران تھے، ان کو ایک عام عورت نے برسرِ عام ٹوک دیا، اور حکمران کو اپنی بات واپس لینی پڑی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک اسلامی معاشرے میں عورت کو کس قدر زیادہ حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ بلاشبہ یہ حقوق کا آخری درجہ ہے کہ کسی کو اظہارِ رائے کا مطلق اختیار حاصل ہو، اور اسلامی معاشرے میں ایک عورت کو یہ بات پوری طرح حاصل ہوتی ہے۔ کتاب "خاتونِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 221۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.