ہر حال میں خیر۔ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا. سورہ النساء، سورہ نمبر 4، آیت 19۔ یعنی: "اور تم عورتوں کے ساتھ اچھی طرح گزران کرو، اگر وہ تم کو پسند نہ ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو اور اللہ نے اس کے اندر بہت زیادہ بھلائی رکھ دی ہو۔
" اس آیت میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اس دنیا میں کوئی چیز مکمل نہیں۔ ایک عورت اگر ایک اعتبار سے زیادہ ہے تو وہ دوسرے اعتبار سے کم ہوگی، اور اگر وہ کسی اعتبار سے کم ہے تو وہ کسی اور اعتبار سے زیادہ ہوگی۔ اس لیے کسی عورت کی صرف کمی کو دیکھ کر اس سے بیزار نہ ہو جاؤ، بلکہ اس کے روشن پہلو کو دیکھ کر اس کے ساتھ اچھی طرح نباہ کرو۔ یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا اصل راز ہے۔
باہر کی دنیا میں بھی وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو گھر کی دنیا میں اس تجربے سے سبق لے سکے۔ زندگی کی کامیابی تاریکی میں روشنی دیکھنے کا نام ہے، اور یہ اہم سبق ہر آدمی کو اس کے گھر سے سکھایا جاتا ہے۔ کتاب "خاتون اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 220۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.