Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Mu'ashire ki ta'mir me aurat ki ehmiyat

Urdu · 4 min

معاشرے کی تعمیر میں عورت کی اہمیت۔ عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن إبليس يضع عرشه على الماء ثم يبعث سراياه، فأدناهم منه منزلة، أعظمهم فتنة يجيء أحدهم فيقول: فعلت كذا وكذا، فيقول: ما صنعت شيئًا." قال: "ثم يجيء أحدهم فيقول: ما تركته حتى فرّقت بينه وبين امرأته." قال: "فيُدنيه منه ويقول: نعم أنت." قال: "الأعمش؟ " أراه. قال: "فيلتزمه." صحیح مسلم، حدیث نمبر 2813۔

یعنی: حضرت جابر ابن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: "ابلیس کا تخت سمندر کے اوپر ہے، وہ اپنے دستے بھیجتا ہے، تو وہ انسانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ " ابلیس کے نزدیک وہ شیطان سب سے بڑا قرار پاتا ہے۔ جس نے سب سے بڑا فتنہ پیدا کیا۔ شیطانوں میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے ایسا اور ایسا کیا۔

شیطانوں کا سردار ابلیس اس سے کہتا ہے کہ تم نے کچھ نہیں کیا۔ پھر ان میں کا ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ایک مرد اور ایک عورت کے پیچھے لگا رہا، یہاں تک کہ میں نے دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی۔ ابلیس اس کو اپنے قریب کرتا ہے اور اس کو لپٹا لیتا ہے، اور کہتا ہے کہ ہاں تم نے کیا۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ انسانی معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے کے لیے شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار کیا ہے؟

وہ ہتھیار یہ ہے کہ وہ مرد اور عورت کے درمیان جھگڑے کھڑے کرے، اور دونوں کو ایک دوسرے سے دور کر دے۔ قدیم زمانے میں یہ فتنہ بہت محدود پیمانے پر پیدا ہوتا تھا۔ یعنی ایک میاں بیوی یا ایک گھر اس فتنے کا شکار ہوتا تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں نئے نئے نظریات نے پوری نسل اور پوری انسانیت کو اس فتنے کا شکار بنا دیا ہے۔

موجودہ زمانے میں عورتوں کی مصنوعی آزادی اور غیر فطری مساوات کا ذہن اتنے بڑے پیمانے پر بنایا گیا ہے کہ قوموں قومیں کی قومیں اس سے متاثر ہو کر رہ گئی ہیں۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں شادی شدہ زندگی کو برا سمجھا جاتا ہے۔ جدید ترقی یافتہ سماج میں مردوں اور عورتوں کا یہ حال ہے کہ وہ معمولی معمولی بات پر طلاق لے لیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے گھر اجڑتے ہیں، بچے اپنے ماں باپ سے چھوٹ کر مجرمین کے گروہ میں شامل ہو جاتے ہیں، جنسی بے قیدی کی بنا پر طرح طرح کی مہلک بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں، خاندانی بندھن کا پابند نہ ہونے کا مزاج موجودہ زمانے میں بہت بڑے پیمانے پر پیدا ہوا ہے، اور وہ بلاشبہ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

گھر بگڑنے سے پورا معاشرہ بگڑتا ہے، اور معاشرہ بگڑنے سے پوری قوم بگڑ جاتی ہے۔ یہ موجودہ زمانے میں بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔ اور اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ازدواجی زندگی کا احترام ختم ہو گیا ہے۔ خاندانی بندھن کے ساتھ زندگی گزارنے کو کم تر درجے کی چیز سمجھا جانے لگا۔

کتاب: خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 223۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.