عہدِ زندگی: خُران میں نکاح کے معاملے کو "میساقِ غلیظ" سورہ نمبر 4 آیت 21 کہا گیا ہے، یعنی مضبوط عہد، یعنی firm contract۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نکاح کی صورت میں مرد اور عورت کے درمیان جو رشتہ قائم ہوتا ہے، اس کی حیثیت اسلام میں کیا ہے۔ یہ حقوق اور ذمہ داریوں کا ایک دو طرفہ معاہدہ ہے، اس کے ذریعے سے ایک مرد اور عورت اپنے آپ کو ساری عمر کے لیے ایک بے حد سنجیدہ رشتے میں جوڑتے ہیں، تاکہ دونوں ایک دوسرے کے رفیق بنیں، دونوں مل کر زندگی کے سفر کو طے کریں۔ معاہدہ ہمیشہ دو طرفہ بنیادوں پر قائم ہوتا ہے۔
اسی طرح نکاح کا معاہدہ بھی دو طرفہ بنیادوں پر قائم ہے۔ امام ترمذی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آگاہ! تمہاری عورتوں کے اوپر تمہارا حق ہے، اور تمہارے اوپر تمہاری عورتوں کا حق ہے۔ " أَلَا إِنَّ لَكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ حَقًّا وَلِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا سنن الترمذی، حدیث نمبر 1163۔
اس معاملے کی مزید وضاحت کے لیے یہاں چند آیتیں اور حدیثیں نقل کی جاتی ہیں۔ کتاب: خاتونِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 219۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.