عورت کا درجہ عورت کا درجہ اسلام میں وہی ہے جو مرد کا درجہ ہے، یعنی بعضکم من بعد حیثیت اور حقوق اور آخرت کے انعامات میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ البتہ اسلام کے نزدیک مرد مرد ہے اور عورت عورت؛ زندگی کا نظام چلانے میں دونوں برابر کے شریک ہیں۔ تاہم اسلام نے دونوں کے درمیان تقسیمِ کار کا اصول رکھا ہے، نہ کہ یکسانیتِ کار کا اصول۔ اسلام اس کو پسند نہیں کرتا کہ دونوں میں سے کوئی صنف اپنے کو کم سمجھے اور ایک دوسرے کی نقل کرنے کی کوشش کرے۔
چنانچہ حدیث میں آیا ہے: لعن المتشبهين من الرجال بالنساء ولعن المتشبهات من النساء بالرجال سنن الترمذی، حدیث نمبر 2784۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مردوں پر لعنت کی ہے جو عورتوں کے مشابہ بنے، اور ایسی عورتوں پر لعنت کی ہے جو مردوں کے مشابہ بنیں۔ انسانیت کو مرد اور عورت کی صنفی تقسیم کے ساتھ پیدا کرنا براہِ راست خالق کی منصوبہ بندی ہے۔ اس تقسیم کو باقی رکھنے ہی میں انسانی زندگی کی ترقی ہے۔
جو مرد یا عورت اس تقسیم کو توڑنے کی کوشش کرے، وہ گویا نظامِ فطرت کو توڑنا ہے۔ جو مرد یا عورت اس تقسیم کو توڑنے کی کوشش کرے، وہ گویا نظامِ فطرت کو توڑتا ہے۔ نظامِ فطرت کو توڑنا صرف تخریب ہے، وہ کسی درجے میں بھی تعمیر کا کام نہیں۔ اسلام کے نزدیک مرد اور عورت ایک دوسرے کا مثنیٰ، یعنی ڈوپلیکیٹس، نہیں ہیں؛ بلکہ وہ ایک دوسرے کا تکملہ، یعنی کمپلیمنٹس ہیں۔
یعنی ایسا نہیں کہ جو مرد ہے وہی عورت ہے، اور جو عورت ہے وہی مرد ہے؛ بلکہ دونوں میں ناقابلِ عبور قسم کے حیاتیاتی فرق پائے جاتے ہیں۔ یہ فرق تقسیمِ کار کی حکمت پر مبنی ہیں۔ وہ اس اعتبار سے ہیں کہ مرد کی کمی کی تلافی عورت کرے، اور عورت کے اندر جو کمی ہے وہ مرد کے ذریعے پوری ہو۔ مرد اور عورت کے بارے میں اسلام کا تصور دونوں صنفوں کی فطری ساخت میں ثابت شدہ فرق پر مبنی ہے۔
یہ ایک حیاتیاتی حقیقت ہے کہ مرد اور عورت کی ساخت میں فرق ہے۔ مرد اپنی پیدائشی ساخت کے اعتبار سے باہر کے کام کے لیے موزوں ہیں، اور عورت اپنی پیدائشی ساخت کے اعتبار سے اندر کے کام کے لیے موزوں ہے۔ اسی فرق اور تقسیم پر اسلام کے تمام قوانین بنائے گئے ہیں۔ مرد اور عورت کے معاشرتی مقام کے بارے میں اسلام کی تعلیمات تقسیمِ عمل کے اصول پر مبنی ہیں، نہ کہ اشتراکِ عمل کے اصول پر۔
خاتونِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 218۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.