خلاصہ: سورہ نساء کی آیت، یعنی "وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا"، کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس جنس سے آدم کو بنایا، اسی جنس سے اس نے آدم کے جوڑے یعنی حوا کو بھی بنایا، تاکہ دونوں میں موافقت رہے۔ اگر ایسا ہوتا کہ دونوں دو الگ الگ جنس ہوتے، مثلاً ایک آگ سے بنایا جاتا اور دوسرا مٹی سے، تو دونوں کے درمیان باہمی توافق نہ ہوتا، پھر نہ خاندانی زندگی میں سکون پایا جاتا، اور نہ یہ ممکن ہوتا کہ دونوں مل کر مشترکہ جدوجہد سے تمدن کی تعمیر کریں۔ حدیث ضلع میں عورتوں کے بارے میں جو بات ارشاد ہوئی ہے، اس کا مقصد تمثیل کی زبان میں یہ بتانا ہے کہ عورتوں کی مخصوص فطری ساخت کی بنا پر ضروری ہے کہ ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا جائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار مختلف انداز سے یہ نصیحت فرمائی ہے، اور خود اپنی پوری زندگی میں اس کا مکمل اہتمام کیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں رات کی نمازوں میں شریک ہوتی تھیں، بعض اوقات ان کے ساتھ ان کے چھوٹے بچے بھی ہوتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ نماز کی اقامت کا بہت خاص اہتمام فرماتے تھے، لیکن خواتین کے ساتھ آپ کی رعایت کا یہ حال تھا کہ نماز میں اگر کبھی چھوٹے بچے کے رونے کی آواز آ جاتی تو آپ نماز کو جلد ختم کر دیتے۔ حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: "إني لا أقوم في الصلاة إلا لأريد أن أطوّل فيها، فاسمعوا بكاء الصبي، فأتجوز في صلاتي كراهة أن أشقّ على أمه." صحیح البخاری، حدیث نمبر 707۔ یعنی: "میں مسجد میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں، یہ چاہتا ہوں کہ اس کو لمبا کروں، پھر میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں، تو میں اپنی نماز کو مختصر کر دیتا ہوں، اندیشے کی بنا پر کہ میں اس کی ماں کو تکلیف دوں گا۔
" حدیث رسول میں عورت کو پسلی یعنی ضلع سے تشبیہ دینا ایک سادہ سی بات ہے۔ اس معاملے میں جو شبہات پیدا ہوئے، اس کی وجہ یہ تھی کہ حدیث کو بائبل کے بیان سے جوڑ دیا گیا، حالانکہ مذکورہ حدیث کا بائبل کے بیان سے کوئی تعلق نہیں۔ حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ ایک فطری حقیقت ہے جس کو دوسرے لوگوں نے بھی اپنے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ مثلاً میتھیو آرنلڈ نے اسی بات کو ان لفظوں میں کہا کہ عورت پر دل کی دلیل کام کرتی ہے، نہ کہ دماغ کی۔
With women the heart argues, not the mind. کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 213۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.