Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Chief justice ka remark

Urdu · 7 min

چیف جسٹس کا ریمارک: محمد احمد شاہ بانو کیس، کریمینل اپیل نمبر 1981/103، مورخہ 23 اپریل 1985۔ میں فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس وائی پی وائی وی چندرا چوڑ نے ایک خصوصی نوٹ لکھا ہے۔ اس نوٹ میں وہ کہتے ہیں کہ عام دیوانی اور فوجداری خانون کے تحت کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں، یہ سماج کے ایک بڑے حصے کے لیے دور رس اہمیت کے حامل ہیں، جو کہ روایتی طور پر غیر منصفانہ سلوک کا شکار رہا ہے۔ عورتیں اسی قسم کا ایک حصہ ہیں۔

خانون ساز منو نے کہا کہ عورت آزادی کی مستحق نہیں ہے، اور اسلام پر یہ الزام ہے کہ اس کا ایک تباہ کن پہلو عورت کو کمتر درجہ دینا ہے۔ پیغمبر اسلام کی طرف یہ قول منسوب کیا گیا ہے، امید افزا طور پر غلطی سے، کہ عورت ایک ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اور اگر تم اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی۔ اس لیے تم اپنی بیویوں سے نرم سلوک کرو۔ Some questions which arise under the ordinary civil and criminal law are of a far-reaching significance to large segments of society, which have been traditionally subjected to unjust treatment.

Women are one such segment. Na Sri Swatantra Marhati, "The woman does not deserve independence," said Manu. "The law—the law-giver, and it is alleged that the fatal point in Islam is the degradation of women. To the Prophet is ascribed the statement, hopefully wrongly, that woman was made from a crooked rib.

Crooked rib. And if you try to bend it straight, straight, it will break. Therefore, treat your wives kindly." واضح ہو کہ چیف جسٹس صاحب کی مذکورہ عبارت میں "امید افزا طور پر غلطی سے" کا مطلب یہ نہیں ہے کہ موصوف کے نزدیک پیغمبر کی طرف اس قول کو منسوب کرنا غلط ہے۔ ان کا مطلب یہ کہ پیغمبر نے اگرچہ یہ کہا ہے کہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے، مگر جو لوگ عورت اور مرد کے درمیان برابری قائم کرنا چاہتے ہیں، ان کو اس سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

ہمارے لیے امید کا پہلو یہ ہے کہ پیغمبر کا یہ ارشاد بطور واقعہ درست نہیں۔ چیف جسٹس کے اس فقرے کا مقصد بیان کی تردید ہے، نہ کہ خود انتساب کی تردید۔ ایک چیف جسٹس کا یہ ریمارک خالص خانونی اعتبار سے کس حد تک باموقع ہے، اس کے بارے میں کوئی خانون داں ہی قطعی رائے دے سکتا ہے۔ تاہم یہ یقینی ہے کہ وہ خالص علمی اعتبار سے صحیح نہیں۔

چیف جسٹس صاحب نے پیغمبر اسلام کا یہ قول اس دعوے کی تائید میں پیش کیا ہے کہ اسلام سماج کے ایک طبقہ یعنی عورت کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کی حمایت کرتا ہے، حالانکہ مذکورہ قول اس کے برعکس عورت کے ساتھ منصفانہ سلوک کی تاکید کر رہا ہے۔ محترم چیف جسٹس کا ریمارک منو کے قول کے لیے تو درست نہیں۔ محترم چیف جسٹس کا ریمارک منو کے قول کے لیے تو ضرور درست ہے، مگر وہ پیغمبر اسلام کے قول پر بالکل صادق نہیں آتا۔ مذکورہ قول رسول میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ عورت کے ساتھ نرمی یعنی خیر کا سلوک کرو۔

پھر اس حدیث کے بارے میں کس طرح یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ اس میں عورتوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک یا کمتر درجے کا برتاؤ کرنے کی تلقین کی گئی ہے، جیسا کہ منو کے حوالے میں پایا جاتا ہے؟ جہاں تک عورت کے پسلی کی مانند ہونے کا تعلق ہے، وہ عورت کے ساتھ بہتر سلوک کی توجیہ کے طور پر ہے، نہ کہ بہتر سلوک کی تردید کے طور پر۔ اس کے بارے میں اوپر یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ یہ محض ایک مثال ہے، عورت کی مخصوص نفسیات کی بنا پر اس کے معاملے کو پسلی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے نرم سلوک کرو۔ اگر تم عورت کے ساتھ سخت سلوک کرو گے تو یہ عورت کی فطرت کے مطابق نہ ہوگا۔

اس سے بگاڑ پیدا—اس سے بگاڑ پیدا ہوگا، نہ کہ اصلاح۔ کتاب خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 211۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.