Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Jadeed tahqeeqaat

Urdu · 7 min

جدید تحقیقات: موجودہ زمانے میں خالص علمی طور پر یہ بات تسلیم کر لی گئی ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان بنیادی پیدائشی فرق پائے جاتے ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 میں خواتین کی حالت، یعنی سٹیٹس آف وومن، پر ایک مفصل مقالہ ہے۔ اس مقالے کا ایک ذیلی عنوان یہ ہے: "Scientific Studies of Male-Female Differences"، یعنی مرد اور عورت کے فرق کا علمی مطالعہ۔ مقالے کے اس حصے میں مقالہ نگار نے دکھایا ہے کہ جدید تحقیقات ثابت کرتی ہیں کہ عورت اور مرد کے درمیان عین پیدائشی بناوٹ کے اعتبار سے فرق پایا جاتا ہے۔

اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: "With respect to personality traits, he writes: men are characterized by greater aggressiveness, dominance, and achievement motivation; women by greater dependency. " یہ "stronger social orientation" "stronger social orientation and the tendency to be more easily discouraged by failure than men. " انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، والیوم 19، پیج 907۔ اوصافِ شخصیت کے اعتبار سے آدمیوں کے اندر جارحیت اور غلبے کی خصوصیت زیادہ پائی گئی ہے۔

ان میں حاصل کرنے کا جذبہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں عورتیں سہارا چاہتی ہیں، ان کے اندر معاشرہ پسندی کا رجحان زیادہ ہوتا ہے، اور ناکامی کی صورت میں مردوں کے مقابلے میں وہ زیادہ آسانی سے بے ہمت ہو جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں موجودہ زمانے میں بے شمار تجربات کیے گئے ہیں۔ مثلاً امریکہ میں ایک تجربہ یہ کیا گیا کہ ایک لڑکا اور ایک لڑکی کا انتخاب کیا گیا، دونوں کم عمر تھے اور ابھی بولنے کی عمر کو نہیں پہنچے تھے، تاہم ان کی جسمانی صحت یکساں تھی۔

ان کو دو الگ الگ کٹہرے میں رکھ کر نکلنے کا دروازہ بند کر دیا گیا۔ اس کے بعد لڑکی رونے چلانے لگی، جبکہ لڑکے نے ادھر ادھر ہاتھ مار کر اندازہ کرنا شروع کیا کہ کیا کسی طرف سے وہ نکلنے کا راستہ پا سکتا ہے۔ اسی طرح ایک تجربے میں پایا گیا کہ 12 ماہ کی لڑکیاں کسی اجنبی کمرے میں ہوں اور انہیں خوفزدہ کیا جائے تو وہ اپنی ماؤں کی طرف بھاگتی ہیں، جبکہ اسی عمر کے لڑکے کچھ کرنے کی راہ ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ نیویارک یونیورسٹی میں ریسرچ کرنے والوں نے دیکھا کہ لڑکی اگر بوتل پینے میں مشغول ہے تو وہ اس وقت پینے سے رک جاتی ہے، جبکہ کوئی شخص کمرے میں آتا ہوا نظر آئے۔

اس کے برعکس ایک لڑکا کسی آنے والے پر کوئی دھیان نہیں دیتا، وہ اپنا کام بدستور جاری رکھتا ہے۔ ماہرین نے بتایا ہے کہ عورت اور مرد کے تمام فرق ان کے جین کے اندر پائے جاتے ہیں، نہ کہ سماجی حالات میں۔ عورتوں کے اندر انفعالیت کا سبب ان کے مخصوص ہارمون ہیں: میل ہارمون اور فیمیل ہارمون میں یہ فرق پیدائش کے بالکل آغاز سے موجود رہتا ہے۔ ٹائم میگزین نیویارک، 20 مارچ 1972۔

اسلام دینِ فطرت ہے، اس کے تمام احکام فطری حقیقتوں پر مبنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فطری تقاضوں کو قانونی صورت دینے ہی کا دوسرا نام شریعت ہے۔ عورت کے بارے میں اسلام کی تعلیمات بھی اسی بنیادی اصول پر مبنی ہیں: نفسیات اور حیاتیات اور عضویات میں موجودہ زمانے میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، وہ ثابت کرتی ہیں کہ مرد کے مقابلے میں عورتیں فطری طور پر منفعل مزاج ہوتی ہیں۔ مخصوص معاشرتی مصالح کی بنا پر خالق نے اس کو نسبتاً نازک پیدا کیا ہے۔

یہی وہ فطری حقیقت ہے جس کی رعایت اسلامی تعلیمات میں رکھی گئی ہے۔ اس بنا پر اسلامی شریعت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ عورتوں کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو تاکہ وہ بے حوصلہ نہ ہوں، تاکہ وہ دل شکنی سے محفوظ رہیں اور زندگی میں اپنے مخصوص فرائض کو بخوبی طور پر ادا کر سکیں۔ عورتیں لوہے کی مانند نہیں ہیں کہ ان پر ٹھونک ٹھونک پیٹ کا کوئی اثر نہ پڑے۔ وہ پسلی کی مانند ہیں، وہ فطرتاً جیسی ہیں ویسی ہی انہیں رہنے دو۔

اگر تم ان کے ساتھ لوہے جیسا برتاؤ کرو گے تو تم ان کی شخصیت کو توڑ دو گے۔ کتاب خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 209۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.