Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Ahadees

Urdu · 8 min

احادیث۔ اب ایک سوال اُن احادیث کا ہے جو اس سلسلے میں نقل کی جاتی ہیں، اور جن میں صراحتاً ضلع، یعنی پسلی کا لفظ آیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ ان احادیث میں آدم و حوا کی تخلیق کا کوئی ذکر نہیں ہے، بلکہ وہ عام عورتوں کے بارے میں ہیں۔ یعنی ان احادیث میں ہر ہر عورت کی تخلیق نوعیت کا ذکر ہے، نہ کہ مخصوص طور پر حضرت حوا کی تخلیقی نوعیت کا ذکر۔

ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: "استوصوا بالنساء خيرا، فإن المرأة خلقت من ضلع" مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر 19272۔ یعنی عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی میری نصیحت قبول کرو، کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ عورت واقعتا پسلی سے پیدا کی گئی ہے، کیونکہ پورے فقرے کے ساتھ اس کا کوئی جوڑ نہیں۔ حدیث کا مدعا عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک کی تاکید کرنا ہے، اس لیے اس کی وہی تشریح درست ہوگی جو اس اصل مدعا کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔

"عورتیں پسلی سے پیدا کی گئی ہیں" کا فقرہ یہاں مجازی معنوں میں ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں کا معاملہ پسلی جیسا معاملہ ہے؛ وہ پسلی کی مانند ہیں۔ چنانچہ خود دوسری روایت میں یہ صراحت موجود ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "المرأة كالضلع إن أقمتها كسرتها" صحیح البخاری، حدیث نمبر 5184۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1468۔

یعنی حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عورت پسلی کی مانند ہے، اگر تم اس کو سیدھا کرو گے تو تم اس کو توڑ دو گے"۔ بخاری و مسلم کی اس روایت میں واضح طور پر "كالضلع" کا لفظ ہے، یعنی یہ کہ عورت پسلی کی مانند ہے، نہ یہ کہ وہ خود پسلی سے بنائی گئی ہے۔ پسلی کی مانند ہونے کا مطلب کیا ہے، یہ بھی صراحتاً حدیث میں موجود ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ اگر تم اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو تم اس کو توڑ دو گے۔

عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اور عورت پسلی کی مانند ہے، دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ یہ صرف ادبی اسلوب کا فرق ہے، نہ کہ حقیقت کا فرق۔ ہر زبان میں یہ اسلوب عام ہے کہ جب تشبیہ میں شدت پیدا کرنا مقصود ہو تو "مثل" کا لفظ حذف کر دیتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص کی بہادری بتانے کے لیے کبھی کہا جاتا ہے کہ وہ شیر کی طرح ہے، اور جب اس بات کو زیادہ زور دے کر کہنا ہو تو کہہ دیتے ہیں کہ وہ شیر ہے۔

جیسے میر انیس نے کربلا کے میدان کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا ہے کہ "اس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے"۔ عورت کے بارے میں نفسیات اور حیاتیات کا علم بتاتا ہے کہ وہ صنف نازک ہے، وہ مرد کے مقابلے میں کمزور اور نازک ہوتی ہے۔ اس کا مزاج انفعالیّت ہی ہے۔ چنانچہ کسی واقعے سے وہ بہت جلد متاثر ہو جاتی ہے۔

یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو ہر آدمی جانتا ہے، خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا بے پڑھا لکھا۔ ہر باپ جانتا ہے کہ بیٹے سے سختی کی جا سکتی ہے، مگر بیٹی کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرنا ضروری ہے، کیونکہ وہ شدت کا تحمل نہیں کر سکتی۔ چنانچہ خودکشی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مردوں کے مقابلے میں عورتیں زیادہ خودکشی کرتی ہیں۔ وہ ایک معمولی واقعے سے متاثر ہو کر خودکشی کر سکتی ہیں، یا ذہنی اختلال کا شکار ہو کر رہ جاتی ہیں۔

یہی وہ معلوم حقیقت ہے جس کو حدیث میں تمثیل کے انداز میں بیان کیا گیا ہے: آدمی کے سینے میں پسلی کی ہڈیاں کسی قدر خمدار ہوتی ہیں، ان کا خمدار رہنا ہی مصلحت کے مطابق ہے۔ کوئی ڈاکٹر ایسا نہیں کرتا کہ آپریشن کے ذریعے ان پسلیوں کو سیدھا کرنے کی کوشش کرے۔ اسی معلوم واقعے کی مثال دیتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کے ساتھ ان کی فطرت کے مطابق پیش آؤ۔ عورتوں سے معاملہ کرتے ہوئے ہمیشہ یہ ذہن میں رکھو کہ عورتیں فطری طور پر نازک اور جذباتی ہوتی ہیں۔

اللہ نے مخصوص مصالح کے تحت انہیں بالارادہ ایسا ہی بنایا ہے، اس لیے تم ان کے ساتھ ہمیشہ نرم برتاؤ کرو۔ کوئی بات بتانا ہو تو نرمی اور خوش اسلوبی کے ساتھ بتاؤ۔ اگر تم ان کے ساتھ سختی کرو گے تو ان کی شخصیت اس کا تحمل نہ کر سکے گی، ان کا دل اسی طرح ٹوٹ جائے گا جس طرح پسلی سیدھا کرنے میں ٹوٹ جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار سفر میں تھے، کچھ خواتین اونٹ پر بیٹھی ہوئی چل رہی تھیں۔ ساربان نے اونٹ کو زیادہ تیز چلانا چاہا۔ اونٹ جب تیز چلتا تو مسافر کا جسم کافی ہلنے لگتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساربان یعنی حضرت انجشہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: رویدک یا انجشہ، رفقا بالقواریر اے انجشہ، یہ آپ گینے ہیں، ذرا آہستہ چلو۔

صحیح البخاری، حدیث نمبر 6161۔ الحاوی الکبیر للماوردي، جلد 17، صفحہ 195۔ کتاب خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 207۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.