← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Aurat Ka Ehteram
Urdu · 9 min
عورت کا احترام اسلام کی بنیاد دو باتوں پر ہے: اللہ کا خوف اور انسانوں کا احترام۔ اس کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا. سورہ نمبر 4، آیت 1۔ یعنی: اے لوگو!
اپنے رب سے ڈرو، جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا پیدا کیا، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورت پھیلا دیے۔ اور تم اللہ سے ڈرو، جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور قرابتوں کے باب میں بھی۔ بے شک اللہ تمہارے اوپر نگراں ہے۔ اس آیت میں "وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا" یعنی "خدا نے اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا" کا مطلب بعض لوگوں نے یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے آدم کو مٹی سے پیدا کیا، اور اس کے بعد ان کے جسم سے ان کی ایک پسلی نکال کر ان کی بیوی حوا کو بنایا۔
مگر یہ تشریح صحیح نہیں؛ یہ بائبل کی بات ہے، نہ کہ قرآن کی بات۔ بائبل میں حضرت حوا کی پیدائش کے بارے میں اسی قسم کی ایک روایت آئی ہے۔ یہاں ہم بائبل کے الفاظ نقل کرتے ہیں: "اور خداوند خدا نے آدم پر گہری نیند بھیجی، اور وہ سو گیا، اور اس نے اس کی پسلیوں میں سے ایک کو نکال لیا، اور اس کی جگہ گوشت بھر دیا۔ اور خداوند خدا اس پسلی سے جو اس نے آدم میں سے نکالی تھی، ایک عورت بنا کر اسے آدم کے پاس لایا، اور آدم نے کہا کہ یہ تو اب میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے، اس لیے وہ ناری کہلائے گی، کیونکہ وہ نر سے نکالی گئی ہے۔
" پیدائش باب 2، آیت 21 تا 23۔ بائبل کی یہی روایت ہے جس کو بعد کے کچھ لوگوں نے قرآن کی تفسیر میں داخل کر دیا، اور اس کی روشنی میں قرآنی آیت کی تشریح کرنے لگے۔ مگر یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ بائبل ایک محرف کتاب ہے؛ اس میں پیغمبروں کے کلام کے ساتھ عام انسانی کلام کی آمیزش ہوئی ہے۔ اس لیے اس کے بیان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، اور نہ اس کی روشنی میں قرآنی آیت کی تشریح کرنا درست ہے۔
قرآن کی مذکورہ آیت یا کسی بھی دوسری آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حوا کو آدم کی پسلی سے پیدا کیا گیا۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں جو لفظ ہے وہ "مِنْهَا" یعنی "اس سے" ہے، نہ کہ "مِنْ ظِلْعِ آدَم" یعنی "آدم کی پسلی سے"۔ چنانچہ محقق مفسرین نے "مِنْهَا" سے مراد "مِن جِنْسِهَا" لیا ہے، یعنی "نفسِ واحدہ" یعنی "آدم کی جنس سے"، نہ یہ کہ خود آدم کے اپنے جسم سے۔ ابو مسلم اصفہانی اور بعض دوسرے مفسرین سے یہی قول نقل ہوا ہے، اور یہی قرآنی الفاظ کے مطابق ہے۔
والقول الثاني وهو اختیار أبي مسلم الأصفهاني أن المراد من قوله "وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا" أي "مِن جِنْسِهَا"۔ تفسیر الرازی، جلد 9، صفحہ 478۔ ويحتمل أن يكون المعنى "مِن جِنْسِهِ" لا "مِن نَفْسِهِ" حقيقةً. البحر المحیط۔
"مِنْهَا" کو "مِن جِنْسِهَا" کے معنی میں لینے کی تائید بعض دوسری آیتوں سے ہوتی ہے۔ قرآن میں "نفس" کا لفظ بار بار "جنس" کے معنی میں آیا ہے۔ اس طرح یہ دوسری آیتیں سورہ نساء کی مذکورہ آیت کی نہایت واضح تشریح کر رہی ہیں۔ یہاں ہم چند آیتیں نقل کرتے ہیں: وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا سورہ نمبر 16، آیت 72۔
یعنی: "اور اللہ نے تم ہی میں سے تمہارے لیے بیویاں بنائیں۔ " ومن آياته أن خلق لكم من أنفسكم أزواجًا لتسكنوا إليها سورہ نمبر 30، آیت 21۔ یعنی: "اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں بنائیں، تاکہ تم سکون حاصل کرو۔ " فاطر السماوات والأرض جعل لكم من أنفسكم أزواجًا ومن الأنعام أزواجًا سورہ نمبر 42، آیت 11۔
یعنی: "وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے بنائے، اور اسی طرح مویشیوں میں سے بھی جوڑے بنائے۔ " ان آیتوں پر غور کیجیے؛ ان میں عام مردوں کی ازواج یعنی بیویوں کے لیے بھی عین وہی لفظ آیا ہے جو سورہ نساء کی آیت میں حضرت آدم کی زوج یعنی بیوی کے لیے آیا ہے۔ اس کے مطابق حوا کو جس طرح آدم کی نفس سے پیدا کیا گیا، اسی طرح دوسرے تمام مردوں کی بابت بھی ارشاد ہوا ہے کہ ان کی بیویوں کو ان کے انفس سے پیدا کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان دوسری آیتوں کے یہ معنی نہیں لیے جا سکتے کہ ہر مرد کی بیوی اس کے اپنے جسم کے اندر سے نکالی گئی ہے۔
یہاں لازمی طور پر اس کو "جنس" کے معنی میں لینا ہوگا۔ یعنی یہ کہ "اللہ نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے تمہاری عورتیں بنائیں، تاکہ وہ تمہارے لیے حقیقی معنی میں رفیقِ زندگی بن سکیں۔ " جس طرح عام آدمیوں کی بیویاں ان کی ہم جنس ہیں، نہ کہ حیاتیاتی معنوں میں ان کے جسم کا حصہ۔ اسی طرح حضرت آدم کی بیوی یعنی حوا بھی ان کی ہم جنس تھیں، وہ آدم کے جسم کے اندر سے نکالی نہیں گئیں۔
اللہ نے آدم کی طرح ان کی بیوی کو بھی اپنی قدرت سے پیدا کیا، جس طرح اس نے عام مردوں کی طرح ان کی عورتوں کو اپنی قدرتِ خاص سے پیدا فرمایا ہے۔ کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 204۔