← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Khawateen e Islam ki misaal
Urdu · 9 min
خواتینِ اسلام کی مثال، تاہم دین کے معاملے میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لیے جس طرح مردوں کے دو درجے ہیں، اسی طرح عورتوں کے بھی دو درجے ہیں: ایک عام، دوسرا خاص۔ عام درجہ وہ ہے جو ہر خاتون کے لیے ہے، یعنی ذاتی معاملے میں خدا اور بندوں کے حقوق ادا کرنا، خدا کے بارے میں عقیدے کی درستگی، خدا کے احکام کی بجا آوری، زندگی کے معاملات میں انصاف پر قائم رہنا، نفسانی محرکات اور شیطانی وساوس کا مقابلہ کرنا، اپنی ذات اور اپنے مال سے خدا کا حق نکالنا۔ ہمیشہ دنیا کے مقابلے میں آخرت کو سامنے رکھنا، اپنے گھر اور اپنے متعلقین کے درمیان اسلامی اخلاق کے ساتھ رہنا، معاملات میں ہمیشہ وہ کرنا جو اسلام کا تقاضا ہے۔ عورت کا دوسرا اہم فرض اپنے بچوں کی اصلاح و تربیت ہے؛ ہر عورت بالآخر ماں بنتی ہے، بچے سے ماں کا اور ماں سے بچے کا بے حد گہرا تعلق ہوتا ہے۔
یہ تعلق بگاڑ کا سبب بھی بن سکتا ہے اور بناؤ کا بھی۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے عورت کا فرض یہ ہے کہ وہ اس تعلق کو صرف بناؤ اور اصلاح کے لیے استعمال کرے۔ تیسری چیز جو ہر عورت کے لیے ضروری ہے، وہ یہ کہ اپنے شوہر کے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے مسئلہ نہ بنے: زندگی میں کیا کیا جائے سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ کیا نہ کیا جائے۔ اس معاملے میں عورتوں سے جذباتی ہونے کی بنا پر کوتاہیاں ہوتی ہیں۔
عورتیں اپنے شوہروں کے ساتھ اور اپنے گھر والوں کے ساتھ غیر ضروری قسم کے مسائل کھڑے کر دیتی ہیں، اس کی وجہ سے گھر کا سکون غارت ہو جاتا ہے۔ بظاہر سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ایسا معلوم ہونے لگتا ہے جیسے گھر میں کچھ نہیں۔ عورت اگر اتنا کرے کہ وہ گھر کے اندر مسئلہ نہ پیدا کرے، تب بھی اس نے بہت بڑا کام کیا۔ اگر عورت کے اندر مزید صلاحیت ہو اور اس کو وسیع تر مواقع حاصل ہوں، تو وہ اس کے آگے کا کام بھی کر سکتی ہے، جس کو ہم نے خصوصی درجے کا نام دیا ہے۔
اسلامی تاریخ میں اس کی کثرت سے مثالیں موجود ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ نہایت ذہین خاتون تھیں، ان کا حافظہ بہت اچھا تھا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے بھرپور استفادہ کیا۔ غالباً ان کا حافظہ وہ تھا جس کو موجودہ زمانے میں عکسی حافظہ یعنی فوٹوگرافک میموری کہا جاتا ہے۔
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی باتوں کو اچھی طرح یاد رکھا۔ وہ چونکہ رسول اللہ کے مقابلے میں بہت کم عمر تھیں، اس لیے آپ کی وفات کے بعد تقریباً 50 سال تک زندہ رہیں۔ وہ امت کے لیے ایک زندہ ٹیپ ریکارڈر ثابت ہوئیں، اور آپ کی وفات کے نصف صدی بعد تک آپ کی باتیں لوگوں کو سناتی رہیں۔ عبداللہ ابن عباس صحابہ کے درمیان بہت بڑے عالم تھے، وہ حبر الامہ کہے جاتے تھے، اور قرآن کی تفسیر میں امتیازی مقام رکھتے ہیں۔
یہ عبداللہ ابن عباس حضرت عائشہ کے شاگرد تھے، انہوں نے علم دین زیادہ تر حضرت عائشہ سے سیکھا۔ اسی طرح بہت سے صحابہ و تابعین آپ سے علم دین سیکھتے رہے۔ اس مثال میں ایک اسلامی خاتون علم دین میں مہارت پیدا کر کے لوگوں کی رہنمائی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مہر کی مقدار کم ہوتی تھی۔
بعد کو جب فراخی کا دور آیا تو لوگ مہر کی رقم زیادہ مقرر کرنے لگے۔ عمر فاروق اپنے زمانۂ خلافت میں ایک بار منبر پر آئے اور تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ 400 درہم مہر پر کس نے زیادتی کی۔ رسول اللہ کا اور آپ کے اصحاب کا مہر آپس میں 400 درہم یا اس سے کم ہوتا تھا۔ حضرت عمر نے مزید کہا کہ خبردار تم لوگ عورتوں کے مہر میں زیادتی مت کرو، جب بھی مجھے معلوم ہوگا کہ کسی نے رسول اللہ کے مہر سے زیادہ مہر باندھا باندھا ہے، تو میں اس زیادتی کو ضبط کر کے بیت المال میں داخل کر دوں گا۔
اس کے بعد مجمعے کے گوشے سے ایک عورت اٹھی، اس نے کہا کہ اے امیرالمومنین! اللہ کی کتاب زیادہ اتباع کے قابل ہے یا آپ کا قول؟ حضرت عمر نے کہا کہ اللہ کی کتاب۔ اور عورت نے کہا کہ ابھی آپ نے لوگوں کو منع کیا ہے کہ وہ عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کریں، حالانکہ اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: وَأَتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيًّا سورہ نمبر 4 آیت 20۔
یعنی: اور تم اس کو بہت سا مال دے چکے ہو تو تم اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ یہ سن کر حضرت عمر نے فرمایا کہ ہر ایک عمر سے زیادہ عالم ہے۔ كُلُّ أَحَدٍ أَفْقَهُ مِنْ عُمَرٍ پھر انہوں نے اپنا حکم فوراً واپس لے لیا۔ سنن سعید ابن منصور، حدیث نمبر 598۔
اس مثال میں ایک عورت دینی بات کا مجمع عام میں اعلان و اظہار کر رہی ہے۔ امام جعفر طحاوی، 229 تا 321 ہجری، ایک مشہور محدث ہیں۔ ان کی کتاب طحاوی حدیث کی ایک مشہور کتاب ہے، اور عربی مدارس میں پڑھائی جاتی ہے۔ امام طحاوی نے یہ کتاب اپنی بیٹی سے املا کرائی ہے۔
اس کی ترتیب اس طرح ہوئی کہ باپ حدیث پڑھ کر سناتے، اور اس کے مطالب بیان کرتے، اور بیٹی ان کے پاس بیٹھی ہوئی لکھتی جاتی۔ اس طرح پوری کتاب تیار ہو گئی۔ اس مثال میں عورت دین کے معاملے میں اپنے محرم رشتہ دار کی معاونت کر رہی ہے۔ یہ چند مثالیں ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ عورت اسلام کی حدود میں رہتے ہوئے کہاں تک آگے جا سکتی ہے۔
کتاب خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 201۔