← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Ek ayat
Urdu · 11 min
ایک آیت: یہی وہ چیزیں ہیں جو خدا کو ہر فرد کے اندر درکار ہیں، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ قرآن میں یہ بات مندرجہ ذیل الفاظ میں ملتی ہے: إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيراً وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا. سورہ نمبر 33، آیت 35۔ یعنی: بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں، اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، اور سچے مرد اور سچی عورتیں، اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، اور عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، اور روزے دار مرد اور روزے دار عورتیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے مرد اور بہت یاد کرنے والی عورتیں، ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔
اس آیت میں وہ تمام بنیادی صفات بتا دی گئی ہیں جو اس مرد یا عورت میں ہونی چاہئیں، جو اللہ کے یہاں اس کے مقبول بندوں میں شامل ہونا چاہے۔ وہ صفات یہ ہیں: اسلام۔ پہلی چیز اسلام بتائی گئی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی کا نفس اللہ کی اطاعت پر راضی ہو جائے۔
وہ اللہ کے احکام کی پیروی میں اپنی زندگی گزارنے لگے۔ ایمان۔ اس سے مراد وہ شعوری یافت ہے جبکہ آدمی خدا کو اپنے خالق اور معبود کی حیثیت سے پا لے۔ جب آدمی کا فکر خدا کے فکر میں ڈھل جائے۔
جب آدمی اس یقین تک پہنچ جائے کہ سب سے بڑی حقیقت وہی ہے جو اللہ نے اپنے رسول کے ذریعے انسان کے لیے ظاہر کی ہے۔ قنوت۔ یعنی مخلصانہ فرمانبرداری۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ذہن کی پوری یکسوئی اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس طریقے کو اختیار کر لیا جائے جو خدا اور رسول نے بتایا ہے۔
صدق۔ اس سے مراد قول اور عمل کی مطابقت ہے۔ یعنی وہی کہنا جو آدمی کرنے والا ہو، اور وہی کرنا جو اس نے اپنی زبان سے کہا ہے۔ لوگوں کے درمیان وہ ایک صاحبِ کردار انسان کی حیثیت سے زندگی گزارے۔
صبر۔ یعنی دین کے احکام پر چلنے کے لیے اگر تکلیفیں اٹھانی پڑیں، تب بھی اس سے نہ ہٹنا۔ نفس اور شیطان کا مقابلہ کرتے ہوئے دینی تقاضوں پر قائم رہنا۔ غیر خدائی محرکات کی بنا پر خدائی راستے کو نہ چھوڑنا۔
خشوع۔ اس کا مفہوم تواضع اور خاکساری ہے۔ یہ کیفیت وہ ہے جو خدا کی بڑائی اور اس کے کامل اختیار کے تصور سے پیدا ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے اوپر سب سے زیادہ جو چیز چھائی ہوئی ہوتی ہے، وہ خدا کا خوف ہے۔
یہ احساس ان کو خدا کے آگے بالکل جھکا دیتا ہے، اور دوسرے انسانوں کے سامنے بھی ان کو متواضع اور مہربان بنا دیتا ہے۔ صدقہ۔ یعنی وہ اپنے مال میں سے بندوں کا حق ادا کرتے ہیں۔ جس طرح اپنی ضرورت کا احساس انہیں اپنے اوپر خرچ کرنے پر مجبور کرتا ہے، اسی طرح وہ دوسرے حاجت مندوں کی امداد سے بھی بے پرواہ نہیں ہوتے۔
صوم۔ یعنی اللہ کے لیے روزہ رکھنا۔ روزہ رکھ کر آدمی اپنے آپ کو اس حالت کی طرف لے جاتا ہے جبکہ وہ خدا کے مقابلے میں اپنی محتاجی کا تجربہ کرے، اور پھر اس رزق پر خدا کا شکر ادا کرے جو خدا نے اس کو اپنے پاس سے عطا کیا ہے۔ حفظِ فروج۔
یعنی عفت اور پاک دامنی کا طریقہ اختیار کرنا، اور بے حیائی والے اعمال سے بچنا۔ حیا کا فطری پردہ جو خدا نے پیدا کیا ہے، اس کا پورا لحاظ رکھنا۔ ذکر اللہ۔ خدا کو بہت زیادہ یاد کرنا خدا کی حقیقی دریافت کا لازمی نتیجہ ہے۔
جو کوئی خدا کو حقیقی طور پر پا لیتا ہے، اس کا حال یہ ہوتا ہے: جو کوئی خدا کو حقیقی طور پر پا لیتا ہے، اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ ہر موقع پر اس کو خدا یاد آتا ہے۔ وہ دل اور زبان سے بار بار خدا کو یاد کرنے والا بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سورہ تحریم آیت 5 میں عورتوں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ اس میں تین مزید صفتوں کا ذکر ہے: توبہ، عبادت، سیاحت۔
توبہ۔ توبہ کے معنی ہیں لوٹنا۔ یعنی غلطی کر کے پلٹ آنا۔ یہ مومن اور مومنہ کی نہایت خاص صفت ہے۔
اس دنیا میں ایسے امتحانی اسباب رکھے گئے ہیں کہ آدمی سے بار بار غلطیاں ہوتی ہیں۔ ایسے موقع پر یہ ہونا چاہیے کہ نفس کے غلبے سے آدمی وقتی طور پر غلطی کر جائے، تو اس کے بعد خدا کی پکڑ کا احساس اس پر طاری ہو، اور وہ فوراً پلٹ کر خدا سے معافی مانگنے لگے۔ توبہ اپنے مقابلے میں خدا کی عظمت کا اعتراف ہے۔ وہ اللہ کو بہت پسند ہے۔
عبادت۔ عبادت سے مراد وہ عمل ہے جو کسی کی فوق الفطری بڑائی کو مان کر اس کے سامنے کیا جائے۔ اسی کو پرستش کہتے ہیں۔ اس قسم کی پرستش اللہ کے سوا کسی اور کے لیے جائز نہیں۔
مومن اور مومنہ کی عبادت صرف خدا کے لیے ہوتی ہے۔ سیاحت۔ اس کی بہترین تشریح اس حدیث سے ملتی ہے جو ابو داؤد میں آئی ہے: أَنَبِئُوا أُمَامَةً أَنَّ رَجُلاً قَالَ: "يَا رَسُولَ اللَّهِ، اِئْذَنْ لِي فِي السِّيَاحَةِ" قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ سِيَاحَةَ أُمَّتِي الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى" سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 2486۔ یعنی: حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھ کو سیاحت یعنی درویشی کی اجازت دیجئے۔
آپ نے فرمایا: میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں جہاد یعنی کوشش کرنا ہے۔ سیاحت سے مراد اللہ کے راستے کا وہ عمل ہے جس کی خاطر چلنا پھرنا پڑے، مثلاً علم دین حاصل کرنے کے لیے سفر کرنا۔ دین کی خاطر ایک مقام کو چھوڑ کر دوسرے مقام کی طرف ہجرت کرنا۔ نصیحت کی غرض سے فطرت کے مناظر اور تاریخی عبرت کے مقامات کو دیکھنے کے لیے جانا۔
اللہ کے دین کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے دوڑ دھوپ کرنا وغیرہ۔ امام راغب اصفہانی اپنی کتاب "مفردات القرآن" میں لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں کی رائے میں سائحون سے وہ لوگ مراد ہیں جو قرآن کی اس آیت کا مصداق ہیں: أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آَذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا سورہ نمبر 22، آیت 46۔ یعنی: کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل ایسے ہو جاتے کہ وہ ان سے سمجھتے، یا ان کے کان ایسے ہو جاتے کہ وہ ان سے سنتے؟ اوپر جو صفات بیان کی گئی ہیں، وہ سب وہ ہیں جن کا تعلق کسی خاص صنف سے نہیں۔
ان کا تعلق مرد اور عورت دونوں سے ہے۔ یہی چیزیں اسلام کی اصل ہیں، اور یہی فلاح و نجات کا ذریعہ ہیں، عورتوں کے لیے بھی اور مردوں کے لیے بھی۔ کتاب "خاتونِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 197۔