تقسیمِ کار کا اصول: اسلام نے سماجی زندگی میں دونوں صنفوں کے عمل کے درمیان ایک حد تک تقسیمِ کار کا اصول اختیار کیا ہے۔ مرد کی سرگرمیوں کا دائرہ بنیادی طور پر باہر ہے، اور عورت کی سرگرمیوں کا دائرہ بنیادی طور پر اندر۔ اس تقسیم کا کوئی بھی تعلق امتیاز سے نہیں ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ دونوں کی صنفی خصوصیات مجروح نہ ہوں، دونوں اپنی پیدائشی صلاحیتوں کو پوری طرح کام میں لا سکیں، بغیر اس کے خاندان یا سماج کے اندر کوئی رخنہ واقع ہو۔
بالفاظِ دیگر، یہ فرق انتظام کی بنیاد پر ہے، نہ کہ اعزاز کی بنیاد پر۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں مغفرت کے لیے جو چیز درکار ہے، اللہ تعالیٰ کے یہاں مغفرت کے لیے جو چیزیں درکار ہیں، وہ عورتوں کے لیے بھی وہی ہیں جو مردوں کے لیے ہیں۔ آخرت کی نجات کا مستحق بننے کے لیے عورتوں کو بھی وہی کرنا ہے جو مردوں کو کرنا ہے۔ دنیا میں زندگی کا انتظام چلانے کے لیے عورت اور مرد کے اندر حیاتیاتی فرق رکھا گیا ہے۔
اس اعتبار سے بعض امور میں دونوں کے حدود، اس اعتبار سے بعض امور میں دونوں کے حدودِ کار ایک دوسرے سے مختلف ہو جاتے ہیں۔ تاہم خدا کی رضا اور آخرت کی نجات حاصل کرنے کے لیے جو بنیادی شرط درکار ہے، وہ ایک صنف کے لیے بھی وہی ہے جو دوسری صنف کے لیے ہے۔ اسلام کا آغاز حقیقتاً خدا کی شعوری دریافت سے ہوتا ہے، جس کو ایمان کہتے ہیں۔ یہ ایمان اگر حقیقی ہو تو اس کے بعد لازماً ایسا ہوتا ہے کہ مرد یا عورت خدا کے آگے جھک پڑتے ہیں، وہ اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیتے ہیں، ان کا اثاثہ خدا کے لیے وقف ہو جاتا ہے۔
خدا کی خاطر وہ صبر کرنے والے بن جاتے ہیں، وہ جھوٹ چھوڑ دیتے ہیں اور سچ بولنے والے بن جاتے ہیں۔ وہ خدا کے حکم کی تعمیل میں سال کے ایک مہینے میں کھانا پینا تک چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ اپنی خواہشات پر کنٹرول کرتے ہیں، اپنی عبدیت کا شعور اور خدا کی معرفت ان کا یہ حال کر دیتی ہے کہ وہ ہر وقت اور ہر موقع پر خدا کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ خاتونِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 196۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.