Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Mo'mina ki sifaat

Urdu · 5 min

مومنہ کی صفات: مرد اور عورت کی باہمی حیثیت کو سمجھنے کے لیے قرآن کی اس آیت پر غور کیجیے: «إِنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْدُكُمْ مِنْ بَعْدِي» سورہ نمبر 3، آیت 195۔ یعنی: "میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں، خواہ وہ مرد ہو یا عورت؛ تم سب ایک دوسرے سے ہو۔ " اس آیت میں عورت اور مرد کے لیے "بَعْدُكُمْ مِنْ بَعْدِ" کا لفظ آیا ہے، اس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کا جز ہو۔ You are members—one of another.

یہ مرد اور عورت کی حیثیت کے بارے میں نہایت جامع بیان ہے۔ اس بات کو اگر لفظ بدل کر کہنا ہو تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ مرد اور عورت دونوں سماجی طور پر ایک دوسرے کے شریکِ عمل ہیں، دونوں ایک دوسرے کا حصہ ہیں، دونوں ایک دوسرے کے لیے برابر کے ساتھی ہیں۔ حیاتیاتی اعتبار سے، اگرچہ دونوں کی صنف ایک دوسرے سے مختلف ہے—ایک صنف مذکر ہے اور دوسری صنف مؤنث—مگر انسانی مرتبے کے لحاظ سے دونوں بالکل یکساں ہیں۔ جو درجہ ایک کا ہے، وہی درجہ دوسرے کا ہے؛ حقوق کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کسی قسم کا کوئی امتیاز نہیں۔

یہی بات حدیث میں ایک اور انداز سے واضح کی گئی ہے۔ ایک حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتیں مردوں کا شقیقہ ہیں۔ إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ مسند احمد، حدیث نمبر 26195۔ "شق" یا "شقُّ" کے اصل معنی ہیں پھاڑنا۔

ایک لکڑی کو درمیان سے پھاڑا جائے تو وہ دو برابر حصے میں تقسیم ہو جائے گی۔ اس اعتبار سے، شقیق کے معنی ہوئے دو حصوں میں پھٹی ہوئی چیز کا آدھا حصہ۔ چنانچہ کسی چیز کے نصف کو "شق الشئی" کہتے ہیں۔ چنانچہ کسی چیز کے نصف کو "شق الشئی" کہتے ہیں۔

اسی سے مزید وسعت پا کر "شقیق" بمعنی بھائی اور "شقیقہ" بمعنی بہن بولا جانے لگا۔ اس تشریح کے مطابق مذکورہ حدیث کا صحیح ترجمہ یہ ہوگا کہ عورتیں مردوں کا نصفِ ثانی ہیں، یا عورتیں مردوں کا دوسرا نصف ہیں۔ جدید تہذیب میں عورت کو "نصف بہتر" یعنی "better half" کہا گیا ہے، مگر یہ ایک ادبی تعبیر ہے، نہ کہ سائنسی تعبیر۔ حدیث کے مطابق عورت مرد کا نصفِ ثانی یعنی "second half" ہے، اور یہ یقیناً زیادہ صحیح اور سائنسی تعبیر ہے۔

اسی ایک لفظ سے عورت کے بارے میں اسلام کے پورے نقطۂ نظر کو سمجھا جا سکتا ہے۔ زیرِ نظر کتاب گویا حدیث کے اسی بیان کی تفصیل ہے۔ کتاب "خاتونِ اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 195۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.