Maulana Wahiduddin Khan
13 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Ahadees

Urdu · 13 min

احادیث: "وما أكرم النساء إلا كريم، ولا أهانهن إلا لئيم"۔ "الایماء إلى زوائد الأمالي والأجزاء"۔ حدیث نمبر 4399۔ یعنی: عورتوں کی عزت وہی شخص کرے گا جو شریف ہو، اور عورتوں کو وہی شخص بے عزت کرے گا جو کمینہ ہو۔

خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي۔ سنن الترمذی، حدیث نمبر 3495۔ یعنی: تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم میں سب سے اچھا ہوں۔ لا يفرق مؤمن مؤمنة إن كره منها خلقاً رضي منها آخر۔

صحیح مسلم، حدیث نمبر 1469۔ یعنی: کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے نفرت نہ کرے، اگر اس کی کوئی خصلت اس کو ناپسند ہوگی تو کوئی دوسری خصلت اس کی پسند کے مطابق ہوگی۔ أكمل المؤمنين إيماناً أحسنهم خلقاً، وخيركم خيركم لنسائهم۔ سنن الترمذی، حدیث نمبر 1142۔

یعنی: مومنین میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہے، اور تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لیے اچھا ہو۔ ایک حدیث میں اچھی عورت کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے: عن أبي هريرة قال: قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم: "أي النساء خير؟ " قال: "التي تسره إذا نظر، وتطيعه إذا أمر، ولا تخالفه في نفسها ومالها بما يكره". سنن نسائی، حدیث نمبر 3231۔

یعنی: حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: "سب سے بہتر عورتیں کون ہیں؟ " فرمایا: "وہ عورت کہ مرد جب اسے دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے، اور مرد جب کسی کام کے لیے کہے تو وہ اس کی اطاعت کرے، اور اپنے نفس اور اپنے مال میں وہ مرد کی مرضی کے خلاف کچھ نہ کرے"۔ عورت کو اسلام میں کتنا باعزت مقام دیا گیا ہے، اس کا اندازہ حسبِ ذیل روایات سے ہوتا ہے: عن عبد الله بن عمر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "الدنيا متاع، وخير متاع الدنيا المرأة الصالحة". صحیح مسلم، حدیث نمبر 1467۔

یعنی: دنیا کی ہر چیز سامان ہے، اور دنیا کا سب سے اچھا سامان نیک عورت ہے۔ عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا أخبرك بخير ما يكنز المرء؟ المرأة الصالحة إذا نظر إليها سرّته، وإذا أمرها أطاعته، وإذا غاب عنها حفظته". سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 1664۔

یعنی: کیا میں تم کو نہ بتاؤں کہ آدمی کے لیے بہتر جمع کرنے والا مال کیا ہے؟ نیک عورت کہ جب وہ اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے، اور جب وہ اس کو حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے، اور جب وہ موجود نہ ہو تو وہ اس کی حفاظت کرے۔ عن ثوبانة، قال: "لما نزلت، والذين يكنزون الذهب والفضة". سورہ نمبر 9، آیت 34۔

قال: "كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في بعض أسفاره". فقال بعض أصحابه: "أنزلت في الذهب والفضة". لو علمنا أي المال خير فنتخذه. فقال: "أفضله لسان ذاكر، وقلب شاكر، وزوجة مؤمنة تعينه على إيمانه".

مسند احمد، حدیث نمبر 22392۔ سنن الترمذی، حدیث نمبر 3094۔ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 1856۔ یعنی: قرآن میں جب یہ آیت اتری کہ جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں، ان کے لیے وعید ہے، تو بعض صحابہ نے کہا کہ اگر ہم یہ جانتے کہ کون سا مال بہتر ہے تو ہم اسی کو لیتے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سب سے افضل چیز خدا کی یاد کرنے والی زبان ہے، اور خدا کا شکر کرنے والا دل ہے، اور مومن بیوی ہے جو اس کے ایمان پر اس کی مدد کرے"۔ عن أبي أمامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، أنه كان يقول: "ما استفاد المؤمن بعد تقوى الله خير له من زوجة صالحة إن أمرها أطاعته، وإن نظر إليها سرّته، وإن أقسم عليها أبرّته، وإن غاب عنها نصحته في نفسها وماله". سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 1857۔ یعنی: اللہ کے تقوے کے بعد سب سے بہتر چیز جو ایک مومن پاتا ہے، وہ نیک بیوی ہے۔

اگر وہ اس کو کوئی حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے، اور اگر وہ اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے، اور اگر وہ اس پر قسم کھا لے تو وہ اس کو پورا کرے، اور اگر وہ اس کے پاس موجود نہ ہو تو وہ اپنے نفس اور اس کے مال میں اس کی خیرخواہی کرے۔ عن ابن عباس، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "أربع من أعطيهن فقد أعطي خير الدنيا والآخرة: قلب شاكر، ولسان ذاكر، وبدن على البلاء صابر، وزوجة لا تبغيه خوفاً في نفسها ولا في ماله". سنن البیہقی، حدیث نمبر 717۔ یعنی: چار چیزیں ہیں جن کو وہ دی گئیں تو اس کو دنیا اور آخرت کی تمام بھلائی دے دی گئی: شکر کرنے والا دل، اور ذکر کرنے والی زبان، اور مصیبتوں پر صبر کرنے والا بدن، اور ایسی بیوی جس کے نفس اور اپنے مال میں اس کو کوئی ڈر نہ ہو۔

قال عمر: "تصنعوا للنساء فإنهن يحببن منكم ما تحبون منهن". المحاسن والأسداد للجاحظ، صفحہ 212۔ یعنی: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "تم لوگ عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، کیونکہ وہ بھی تم سے وہی چاہتی ہیں جو تم ان سے چاہتے ہو"۔ عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "استوصوا بالنساء فإن المرأة خلقت من ضلع، وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه؛ فإن ذهبت تقيمه كسرته، وإن تركته لم يزل أعوج؛ فاستوصوا بالنساء".

صحیح البخاری، حدیث نمبر 3331۔ یعنی: حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اور پسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھ اس کے اوپر کے حصے میں ہوتی ہے۔ اگر تم اس کو سیدھا کرنے لگو تو تم اس کو توڑ دو گے، اور اگر تم اس کو چھوڑ دو تو وہ ویسی ہی رہے گی۔ پس تم عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی میری نصیحت قبول کرو"۔

إنما حببت إلي من دنياكم النساء والطيب، وجعلت قرة عيني في الصلاة۔ سنن الکبری للبیہقی، حدیث نمبر 13583۔ یعنی: مجھے تمہاری دنیا کی چیزوں میں سے خوشبو اور عورتیں محبوب بنائی گئی ہیں، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔ إن النساء شقائق الرجال سنن الترمذی، حدیث نمبر 113۔

یعنی: عورتیں مردوں کی نصف ثانی ہیں۔ خياركم خياركم لنسائهم سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 1978۔ یعنی: تم میں سب سے اچھے وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے لیے اچھے ہیں۔ اتقوا الله في النساء سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 1905۔

یعنی: عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔ ليس من متاع الدنيا شيء أفضل من المرأة الصالحة سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 1855۔ یعنی: دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز نیک بیوی سے بہتر نہیں۔ الجنة تحت أقدام الأمهات مسند الشہاب القضائی، حدیث نمبر 119۔

یعنی: جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔ من آل ثلاث بنات فأدبهن وزوجهن وأحسن إليهن فله الجنة سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 5147۔ جس شخص نے تین لڑکیوں کی پرورش کی، پھر ان کو ادب سکھایا، اور ان کی شادی کی، اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا، تو اس کے لیے جنت ہے۔ من كانت له أنثى فلم يأیدها ولم يهنها ولم يؤثر ولده عليها قال یعنی: الذكور أدخله الله الجنة سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 5146۔

یعنی: جس شخص کے یہاں لڑکی ہو، پھر وہ نہ اس کو زمین میں گاڑے، اور نہ اس کی تحقیر کرے، اور نہ اس پر اپنے لڑکے کو ترجیح دے، تو اللہ اس کو جنت میں داخل کرے گا۔ ألا أدلكم على أفضل الصدقة؟ ابنتك مردودة إليك، ليس لها كاسب غيرك سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3667۔ یعنی: کیا میں تم کو نہ بتاؤں کہ افضل صدقہ کیا ہے؟

تمہاری لڑکی جو بیوگی یا طلاق کی وجہ سے تمہاری طرف لوٹا دی جائے، تمہارے سوا کوئی اس کا کمانے والا نہ ہو۔ من ابتلي في من هذه البنات بشيء، كن له سترًا من النار صحیح البخاری، حدیث نمبر 1352۔ یعنی: اللہ جس شخص کو ان لڑکیوں کے ذریعے کچھ آزمائے، پھر وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے، تو وہ اس کے لیے آگ سے بچاؤ کا ذریعہ ہوں گی۔ کتاب خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 188۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.