Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Taraqqi ke bajaye tanazzul

Urdu · 5 min

ترقی کے بجائے تنزل۔ امریکی میگزین ٹائم کی اشاعت 29 دسمبر 1986 ایک اسپیشل نمبر تھی جس کو اس نے "2086 کے نام ایک اے لیٹر ٹو دا ایئر 2086" کا عنوان دیا تھا۔ اس شمارے میں مختلف پہلوؤں سے امریکہ کا حال آنے والی صدی کو بتایا گیا تھا۔ اس کا ایک جز خاندان کے احوال کے بارے میں بھی تھا۔

اس میں جو احوال لکھے ہوئے تھے، اس کا ایک حصہ یہ تھا: "The American family, not fifty years ago, the rock on which the country built its church has fractured into atoms with separate orbits. The American women, having shunned motherhood and housewifhood fifteen years ago to establish herself in the labor market, now seek to balance all three lives like dinner plates on sticks. The American man finds himself in new and scary territory and scrambles for adjustment. When the American man and woman part company as half the newly married couples are expected to do these days, the American child is suddenly stranded, growing taller, without a structure." پیج 22-21۔

"پچاس سال پہلے امریکی خاندان ایک چٹان تھا جس پر ملک نے اپنا معبد تعمیر کیا تھا۔ اب وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا ہے۔ امریکی عورت نے مادری ذمہ داری اور گھر سنبھالنے کی ذمہ داری کو پندرہ سال پہلے چھوڑ دیا تھا تاکہ وہ روزگار کے بازار میں اپنی جگہ بنا سکے۔ اب وہ ان تینوں ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے نازک کام کی کوشش کر رہی ہے۔

امریکہ مرد اپنے آپ کو ایک نئی سخت دنیا میں پا رہا ہے، اور بمشکل ہم آہنگی کی کوشش کر رہا ہے۔ جب امریکی مرد اور عورت ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں، جیسا کہ شادی شدہ جوڑوں کی نصف تعداد آج کل کرتی ہے، تو امریکی بچہ اپنے سرپرستوں سے محروم ہو کر ایسا محسوس کرتا ہے کہ وہ کسی سہارے کے بغیر پروان چڑھ رہا ہے۔ بیسویں صدی کے آخر میں پہنچ کر امریکہ کا دانشور طبقہ اس بات کا اعتراف کر رہا ہے کہ بیسویں صدی کے آغاز میں امریکہ نے جس چیز کو ترقی کا زینہ سمجھ کر اختیار کیا تھا، وہ اس کے لیے صرف بربادی کا زینہ ثابت ہوا ہے۔ عورت کو گھر سے باہر نکالنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکہ کا خاندانی نظام بالکل منتشر ہو کر رہ گیا۔

مزید یہ کہ عورت کو آزاد کرانے کا خوشنما منصوبہ عملاً ازدواجی زندگی کو غیر مستحکم بنانے کا ذریعہ ثابت ہوا، اور اس کے نتیجے میں بے شمار معاشرتی خرابیاں پیدا ہو گئیں۔ اب امریکہ میں اس سابقہ فکر پر نظرِ ثانی کا ذہن پیدا ہو رہا ہے، مگر جدید عورت چونکہ دوبارہ گھریلو عورت بننے کے لیے تیار نہیں ہے، اس لیے جو عورت نئی زندگی کو اختیار کرتی ہے، اس کے حصے میں صرف یہ آ رہا ہے کہ وہ باہر کی ذمہ داریوں کے ساتھ گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی اٹھائے۔ کیسی عجیب ہے وہ ترقی جس کا نتیجہ بربادی کی صورت میں ظاہر ہو، کیسی عجیب ہے وہ آزادی جو عملاً غیر آزادی بن جائے۔ کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 182۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.