← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Ek misaal
Urdu · 12 min
ایک مثال: مسٹر گیری ہارٹ، امریکہ کے صدارتی الیکشن 1987 کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار تھے۔ تمام اندازوں کے مطابق ان کی کامیابی یقینی تھی، مگر اس درمیان میں ایک واقعہ ہوا۔ اس کے بعد امریکہ میں اتنا طوفان اٹھا کہ مسٹر ہارٹ کو صدارت کے مقابلے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ 50 سالہ مسٹر ہارٹ الیکشن کی مہم میں مصروف تھے۔
اس کے لیے انہوں نے 1 ملین سے زیادہ قرض لیا تھا۔ اس درمیان میں، ہفتے کا آخری دن گزارنے کے لیے، یکم مئی کو وہ خاموشی کے ساتھ مایامی پہنچے۔ یہاں انہوں نے ایک 29 سالہ ایکٹرس، مسٹر ڈونا رائس، کے ساتھ ایک دن اور ایک رات گزاری۔ اس کی خبر ایک امریکی اخبار، مایامی ہیرلڈ، کو ہو گئی۔
اس نے اپنی 3 مئی 1987 کی اشاعت کے صفحے اول پر یہ کہانی حسبِ ذیل سنسنی خیز سرخی کے ساتھ چھاپ دی: "Miami Woman is Linked to Heart." اس کے فوراً بعد ریڈیو، ٹیلی ویژن، اخبارات، ہر جگہ اس کا چرچا ہونے لگا۔ مسٹر ہارٹ کی تصویریں مس ڈونا رائس کے ساتھ چھپنے لگیں۔ مسٹر ہارٹ جہاں جاتے، وہاں ان سے پوچھا جاتا کہ کیا وہ زنا کے مرتکب ہوئے ہیں۔ مسٹر ہارٹ عوامی عدالت میں زنا کاری کے ملزم کی حیثیت سے کھڑے کر دیے گئے۔
Heart stood in the public dock, accused of adultery. پیج 6۔ مایامی ہیرلڈ میں اگر یہ خبر چھپتی کہ مسٹر ہارٹ فلاں مکان میں اپنی بیوی کے ساتھ رات بھر رہے، تو کوئی اس پر دھیان نہ دیتا۔ مگر اخبار نے جب یہ خبر چھاپی کہ مسٹر ہارٹ نے مایامی کے فلاں مکان میں ایک غیر عورت کے ساتھ رات گزاری، تو ہر طرف ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔
یہ واقعہ اس بات کا تجرباتی ثبوت ہے کہ غیر عورت کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا فطرتِ انسانی کے خلاف ہے۔ اگر یہ فعل انسانی فطرت کے خلاف نہ ہوتا تو ہنگامہ کرنے والے کبھی اپنے منصوبے میں کامیاب نہیں ہو سکتے تھے۔ مسٹر ہارٹ نے اس مصیبت سے بچنے کے لیے اپنی ساری ذہانت صرف کر دی۔ پہلے انہوں نے انکار کیا، پھر ٹالنے والے جوابات دیتے رہے۔
انہوں نے اپنی بیوی لی ہارٹ کو راضی کیا کہ وہ 1300 میل کا سفر طے کر کے ہیمشائر سے ڈینور پہنچیں اور اخبار نویسوں کے سامنے اپنا یہ بیان دیں کہ "یہ بات اگر مجھے پریشان نہیں کرتی تو میں نہیں سمجھتی کہ کسی اور کو اس سے پریشان ہونا چاہیے۔ " If it doesn't bother me, I don't think it ought to bother anyone else. پیج 7۔ مسٹر ہارٹ نے جب دیکھا کہ معاملے کو چھپانے کے بارے میں ان کی ساری تدبیروں کے باوجود راز کھل گیا ہے، تو آخر کار انہوں نے اعتراف کر لیا۔
اب انہوں نے کہا کہ زنا کوئی قانونی جرم نہیں ہے، وہ صرف ایک گناہ ہے، اور وہ میرے اور میری بیوی اور میرے اور خدا کے درمیان ہے۔ Adultery is not a crime; it's a sin, and that is between me and God. پیج 7۔ تاہم، مسٹر ہارٹ کی یہ باتیں امریکی عوام کو مطمئن نہ کر سکیں۔
اوپینین پول میں اس سے پہلے امکانی صدر کی حیثیت سے ان کا نام سرفہرست رہتا تھا۔ اب پول کے ذریعے عوام کی پیشگی رائے معلوم کی گئی، تو اچانک ان کا نام بالکل نیچے آ گیا۔ اس کے بعد مسٹر ہارٹ نے اپنے آپ کو ملک میں تنہا پایا۔ And in the end, he found himself alone.
پیج 10۔ ٹائم 18 مئی 1987 کے الفاظ میں، ایکٹرس سے جنسی تعلق ان کے لیے ان کی سیاسی موت، یعنی پولیٹیکل ڈیتھ، کے ہم معنی بن گیا۔ 3 مئی کو اس معاملے کا انکشاف ہوا، اور صرف 5 دن بعد، 8 مئی کو انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ صدارتی مقابلے سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ I was withdrawing from the race and would then quietly disappear from the stage.
پیج 6۔ ٹائم نے اس سلسلے میں اپنی طویل رپورٹ کا خاتمہ ان الفاظ پر کیا ہے کہ امریکی اب اپنے لیڈروں کے بارے میں وہی گہری معلومات جاننا چاہتے ہیں جو کسی وقت کلاک گیبل، یعنی ایکٹر، اور الزبتھ ٹیلر، یعنی ناول نگار، کی رومانیت کے لیے مخصوص تھیں۔ ہتھیاروں کے کنٹرول کے مسائل سے نبرد آزما ہونے اور معاشی مسائل سے نمٹنے سے زیادہ، امریکی عوام ایسے افراد چاہتے ہیں جن پر وہ بھروسہ کر سکیں، جن کا فیصلہ اور جن کی دیانت داری ان کے لیے اطمینان بخش ہو۔ Americans now demand the same intimate knowledge about their leaders, that once was reserved for the romantic entanglements of Clark Gable or Elizabeth Taylor, rather than wrestling with the complexities of arms control and a troubled economy.
The public tends to look for personalities they can trust, whose judgment and integrity make them feel comfortable. پیج 78۔ یہی بات سابق صدرِ امریکہ لندن جانسن کے پریس سیکریٹری، جارج ریڈی، نے اس طرح کہی کہ صدارت کے امیدوار کے لیے جو چیز اہمیت رکھتی ہے، وہ اس کا کردار ہے، اور یہ سب سے زیادہ عورتوں کے ساتھ اس کے تعلق کے معاملے میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس عہدے پر ایک ایسا آدمی ہوتا ہے جو آپ سے کہتا ہے کہ آپ اپنے بینک اکاؤنٹ کے معاملے میں اس پر بھروسہ کریں۔
اسی طرح آپ کے بچوں، آپ کی زندگی، اور آپ کے ملک کے معاملے میں بھی۔ 4 سال تک اگر خود اس کی اپنی بیوی اس پر اعتماد نہ کر سکے، تو یہ بات کس چیز کا پتہ دیتی ہے؟ What counts with a candidate for president is his character, and nothing shows it like his relationship with women. Here you have a man who is asking you to trust him with your bank account, your children, your life, and your country for 4 years.
If his own wife can't trust him, what does that say? پیج 50۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص ایسا کرے کہ وہ نکاح کے دائرے سے باہر جنسی تعلق قائم کرے، وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کے اندر ذہنی ڈسپلن نہیں ہے۔ وہ اپنے جذباتی محرکات پر قابو رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
ایسا شخص اپنے کردار کے اعتبار سے ہرگز اعتبار کے قابل نہیں۔ اس کے اندر ایک ایسی نفسیاتی کمزوری ہے جس کی بنا پر شدید اندیشہ ہے کہ وہ اپنی کسی ذاتی خواہش کے لیے بڑے بڑے قومی مفاد کو قربان کر دے۔ ایسا شخص عام زندگی میں بھی بھروسے کے قابل نہیں۔ کجا کہ ریاست کے اعلیٰ منصب کے لیے اس پر بھروسہ کیا جائے۔
تجربات بتاتے ہیں کہ جنسی تعلقات کے معاملے میں خدائی حد کو توڑنا، سادہ معنوں میں صرف ایک مذہبی برائی نہیں ہے، وہ مہلک قسم کی سماجی برائی بھی ہے۔ وہ صرف ایک گناہ نہیں، وہ ایک جرم بھی ہے، بلکہ اپنے نتائج کے اعتبار سے سب سے بڑا جرم۔ کتاب "خاتون اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 177۔