Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Na qabil-e-etemaad kirdaar

Urdu · 4 min

ناقابلِ اعتماد کردار: ٹائم نیویارک نے اپنے شمارہ 25 مئی 1987 میں پینٹاگان سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کا عنوان ہے "جنس کا تعلق رازداری سے: مکسنگ سیکس اینڈ سیکرٹس"۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ادارہ پینٹاگان 2. 7 ملین لوگوں کے جنسی اعمال کی بابت محکمہ دفاع کے سیکریٹری کلیرنس کے معاملے میں پریشان ہے۔ جنوری 1987 میں پینٹاگان نے اپنے ضوابط کی توسیع کرتے ہوئے فوج کے لوگوں، شہری کارکنوں، اور ٹھیکے کے ملازموں پر یہ شرط عائد کر دی ہے کہ وہ کلیئرنس کے تحت یہ بتائیں کہ کیا وہ جنسی اعمال، مثلاً زنا، اغلام، اور محرمات کے ساتھ مباشرت میں مبتلا رہے ہیں۔

ان قوانین کا مقصد یہ اطمینان حاصل کرنا ہے کہ وہ لوگ جن کی پہنچ حکومت کے رازوں تک ہے، ان میں یہ کمزوری نہیں ہے کہ ان کو بلیک میل کیا جا سکے۔ The Pentagon has been threatening about the sexual practices of the 2. 7 million people with Defense Department security clearances. In January 1987, the Pentagon expanded its rules to compel service personnel, civilian workers, and contract employees with clearance to divulge whether they had engaged in such sexual acts as adultery, sodomy, and incest.

The rules were intended to ensure that those with access to secrets are not vulnerable to blackmail. Time: New York, 25 May 1987, page 29. اباحیت پسند لوگوں کا دعویٰ تھا کہ نکاح سے باہر جنسی تعلقات محض گناہ ہیں، یعنی وہ خدا کے نزدیک برے ہو سکتے ہیں، مگر انسانی معاملات میں ان سے کوئی نقصان واقع نہیں ہوتا۔ مگر تجربات نے بتایا کہ جو شخص جنسی تعلق کے معاملے میں نکاح کے حدود کا پابند نہ ہو، وہ ایک ناقابلِ اعتماد شخص بن جاتا ہے۔

اس کے اندر ایک ایسا اخلاقی رخنہ پیدا ہو جاتا ہے جس سے داخل ہو کر دشمن ہمارے نازک ترین رازوں تک پہنچ جائے۔ کتاب: خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 176۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.