Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Do misalein

Urdu · 6 min

دو مثالیں: آزادی کے مصنوعی تصور نے مغربی گھروں میں جو مسائل پیدا کیے ہیں، ان کا تعلق صرف نچلے یا درمیانی طبقے کے لوگوں میں نہیں ہے۔ اس کے برے اثرات اونچے خاندانوں اور نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں تک پہنچے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں یہاں ہم دو مثالیں نقل کریں گے۔ حال میں آئن سٹائن کے کچھ خطوط ملے ہیں؛ یہ خطوط اس نے ایک عورت، یعنی ملیوا ماریچ، کے نام لکھے تھے، جو بعد کو اس کی پہلی بیوی بنی۔

یہ خطوط ان کے تعلقات کی خوشی اور غم کی کہانی بیان کرتے۔ یہ خطوط آئن سٹائن کی تحریروں کے مجموعے کے لیے مواد کی تلاش کے دوران حاصل ہوئے۔ اس کتاب کا نام ہے "The Collected Papers of Albert Einstein"۔ ملیوا ماریچ کی عمر آئن سٹائن سے 4 سال زیادہ تھی۔

خطوط سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں آئن سٹائن کی ماں اس رشتے پر راضی نہ تھیں، جس کی بنا پر انہیں مایوسی کا صدمہ اٹھانا پڑا۔ بعد کو آئن سٹائن اور ملیوا کا نکاح ہوا، تاہم نکاح سے پہلے ان کے یہاں ایک لڑکی پیدا ہو چکی تھی۔ اس بات کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے کہ لڑکی کے ساتھ کیا پیش آیا؛ بظاہر وہ آئن سٹائن کے ساتھ کبھی نہیں رہی۔ آئن سٹائن اور مس ماریچ کی ملاقات 1896 میں فیڈرل ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ، زیورخ میں ہوئی تھی۔

ان کا نکاح جنوری 1903 میں ہوا۔ یہ شادی کامیاب نہ ہو سکی، اور 1919 میں ان کے درمیان طلاق ہو گئی۔ Einstein had met Mrs. Marich in 1896 at the Federal Technical Institute in Zurich.

They were married in January 1903. Their marriage ended in divorce in 1919. The Times of India May 5, 1987. دوسری مثال موجودہ برطانوی ولی عہد چارلس کی ہے۔

مسز پینی جونر نے حال میں پرنس چارلس کی سوانح عمری شائع کی ہے۔ اس میں وہ کہتی ہیں کہ پرنس چارلس نے ایک غلط عورت سے شادی کی۔ اس سلسلے میں بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پرنس چارلس ایک غم زدہ شخص ہیں، وہ زمین پر بالکل تنہا ہو کر رہ گئے ہیں، ایک بیوی سے جو مدد ملنی چاہیے وہ انہیں حاصل نہیں۔ شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈائنا ایک دوسرے سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے جا رہے ہیں۔

مسز جونر نے کہا کہ انہوں نے یہ نتیجہ ان لوگوں سے بات کر کے حاصل کیا ہے جو شہزادے سے بہت قریب ہیں۔ میں نے اپنی کتاب میں جو کچھ لکھا ہے اور جو نتیجہ نکالا ہے، اس کو شادی محل دیکھ چکا ہے۔ محل کے کسی آدمی نے نہیں کہا کہ میں غلط راستے پر ہوں۔ چارلس، ڈائنا، مس فٹس، پرنس چارلس، ایئر ٹو دا برٹش تھرون، میریڈ دا رونگ وومن، سیڈ ہز بائیوگرافر مسز پینی جونر ان اے ریسنٹ انٹرویو ود بی بی سی۔

چارلس، شی سیڈ، واز اے سیڈ کریکٹر ود دا لونلیسٹ پوزیشن ان ارتھ۔ ہی ڈیڈ ناٹ ہیو دا سپورٹ ہی شوڈ ہیو فرام اے وائف۔ پرنس چارلس اینڈ پرنسس ڈائنا وار گروئنگ مور اینڈ مور اپارٹ۔ مسز جونر سیڈ شی ہیڈ ڈرون ہر کنکلوژنز افٹر ٹاکنگ ٹو پیپل ہو وار کلوز ٹو ہم۔

دا پیلس ہیز سین واٹ ائی ہیو رٹن اینڈ دا کنکلوژنز ائی ہیو کم ٹو۔ نو ون ہیز ٹولڈ می دیٹ ائی ایم ان دا رونگ لائنز۔ ٹائم نیویارک 11 مے 1987۔ ٹائمز اف انڈیا ہندوستان ٹائمز 29 اپریل 1987۔

کتاب خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 174۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.