← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Fitrat se dur hokar
Urdu · 6 min
فطرت سے دور ہو کر۔ انسان کا بچہ تمام جانداروں کے بچوں میں سب سے زیادہ کمزور ہوتا ہے۔ اس کو جسمانی پرورش اور ذہنی تربیت دونوں مقصد کے لیے لمبے عرصے تک اپنے ماں باپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدرت نے انسان کے اندر اپنے بچے کے لیے خصوصی کشش رکھی ہے۔
قدیم زمانے میں بچے کے لیے اپنے باپ یا ماں سے محروم ہونا صرف ہنگامی اسباب سے ہوتا تھا، جنگ یا کسی اتفاقی حادثے سے قبل از وقت موت۔ عام حالات میں یقین کیا جا سکتا تھا کہ بچوں کو اپنے والدین کی سرپرستی پختگی کی عمر تک حاصل رہے گی۔ جدید ترقی یافتہ سماج میں یہ استثنا اب عموم بن گیا ہے، اور یہ نتیجہ ہے جدید تصورِ زندگی کا، جس نے نکاح کے رشتے کو غیر مقدس بنا دیا ہے۔ اب یا نکاح کے بغیر لڑکے پیدا ہوتے ہیں، یا نکاح کے جلد ہی بعد طلاق کی شکل میں دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔
دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہے: بچوں کی اپنے ماں باپ سے جدائی، بچوں کا اپنے والدین کے جیتے جی یتیم ہو جانا۔ اس بڑھتی ہوئی یتیمی نے جدید معاشرے کے لیے طرح طرح کے پیچیدہ مسائل پیدا کر دیے۔ ان میں سے ایک وہ ہے جس کو محرومی کا بونا پن، یعنی ڈیپریویشن ڈورفزم، کا نام دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مغرب کے طبی ماہرین کی ایک تازہ رپورٹ ایوننگ نیوز 27 جون 1984 سامنے آئی ہے۔
اس رپورٹ میں مغربی طرزِ حیات کے نتائج کے بارے میں بہت سے انکشافات کیے گئے ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ماں باپ سے محرومی کی بنا پر جن بچوں کو ابتدائی عمر میں محبت نہیں ملتی، ان میں مختلف قسم کا نقص پیدا ہو جاتا ہے۔ مثلاً جسمانی نشونما میں کمی، دماغ کا ہلکا پن، حتیٰ کہ یہ چیزیں بعض اوقات ان کی قبل از وقت موت کا باعث ہو جاتی ہیں۔ محرومی کا بونا پن نامی بیماری کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ ٹھیک طرح سو نہیں پاتا، اس کا نظامِ ہضم ٹھیک طرح کام نہیں کرتا۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اسپتالوں میں جہاں چھوٹے بچے بیڈ پر ڈال دیے جاتے ہیں، پیٹھ کے بل دیر دیر تک پڑے رہنے سے ان کے سر کا پچھلا حصہ گنجا ہو جاتا ہے، کیونکہ وہاں کوئی ماں بار بار کروٹ بدلنے کے لیے موجود نہیں ہوتی۔ ماں باپ سے محروم ہو کر دارالاطفال میں پرورش پانے والے بچے اپنے ذہنی اور جسمانی ارتقاء سے محروم رہتے ہیں۔ ڈاکٹر گارڈنر کا کہنا ہے کہ مطالعہ بتاتا ہے کہ دماغ کی اعلیٰ سطح سے ارتعاشات، یعنی امپلسز، اٹھتے ہیں۔ یہ ارتعاشات جسمانی نظام میں داخل ہو کر مختلف قسم کے ہارمون پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں، جو زندگی کی نشونما کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
انہی میں سے ایک وہ ہے جو پروٹین کو شکر میں تبدیل کرتا ہے۔ ماں باپ کی محبت سے محروم ہو کر جو بچے پرورش پاتے ہیں، ان میں یہ قدرتی عمل کم ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا جسم حاصل شدہ پروٹین کو پوری طرح استعمال نہیں کر پاتا، جو ان کے نشونما کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فطرت کے راستے سے ہٹنا کس قدر تباہ کن ہے۔
انسان خدا کی بنائی ہوئی دنیا سے ہٹ کر اپنے لیے کوئی دوسری دنیا نہیں بنا سکتا۔ اس کے لیے لازم ہے کہ اسی دنیا کے ساتھ مطابقت کرے۔ اگر وہ فطرت کی شاہراہ کو چھوڑ کر اپنے لیے کوئی دوسری شاہراہ بنانا چاہے گا تو وہ صرف ناکامی اور بربادی پر ختم ہوگا۔ اس کے سوا اس کا کوئی انجام نہیں۔
کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 164۔