Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Be qaidi ka tajriba

Urdu · 4 min

بے قیدی کا تجربہ: امریکی میگزین نیوز ویک، 21 جنوری 1985، صفحہ 35 پر ایک تصویر ہے۔ اس تصویر میں امریکی خواتین کا ایک جلوس دکھائی دے رہا ہے۔ جلوس کے آگے ایک نوجوان عورت ایک بینر اٹھائے ہوئے ہے، اس کے اوپر جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہے: "Keep your laws, keep your morality off my body. " اپنے قوانین اور اپنے اخلاق کو میرے جسم سے دور رکھو۔

مضمون میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے لوگ اس وقت دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں: ایک وہ جو کھلے عام اس خط کے قائل ہیں، یہ لوگ اپنے کو اس خط نواز نہ کہہ کر اپنے کو انتخاب نواز، یعنی pro-choice کہتے ہیں۔ دوسرا گروہ جو اس خط کا مخالف ہے، وہ اپنے آپ کو زندگی نواز، یعنی pro-life کہتا ہے۔ جدید مغربی مفکرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے جو سب سے بڑی چیز دریافت کی ہے وہ آزادی ہے، مگر بے قید آزادی کا تجربہ جو جدید مغرب میں ہوا وہ بتاتا ہے کہ بے قید آزادی خیرِ اعلیٰ نہیں ہو سکتی۔ بے قید آزادی اگر خیرِ اعلیٰ ہو تو وہ اس خبیث انجام تک کیسے پہنچ جاتی ہے جس کا ایک نمونہ اوپر کے اقتباس میں نظر آتا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ آزادی بے حد قیمتی چیز ہے، مگر انسان کے لیے خیرِ اعلیٰ پابند آزادی ہے، نہ کہ مطلق آزادی۔ یعنی انسان کے مقابلے میں آزادی، مگر خدا کے مقابلے میں پابندی۔ انسان خدا اور بندے کے درمیان ہے، جہاں تک اپنے جیسے انسانوں کا تعلق ہے، ان کے مقابلے میں بلاشبہ ہر انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔ مگر اسی کے ساتھ دوسری شدید تر حقیقت یہ ہے کہ خدا کے مقابلے میں انسان مکمل طور پر پابند ہے۔

خدا کے مقابلے میں کسی انسان کو کوئی آزادی حاصل نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو اپنی آزادی کا استعمال اس طرح کرنا ہے کہ وہ ہر حال میں خدا کے احکام کا پابند رہے۔ یہی پابندی آزادی کے صحیح استعمال کی ضمانت ہے۔ کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 168۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.