Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Khatun singer ki maut ke ba'd

Urdu · 3 min

خاتون سنگر کی موت کے بعد، ٹائمز آف انڈیا 30 مارچ 1987 میں ایک رپورٹ جاپان کے متعلق شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ کا عنوان ہے "Suicide: Easy Escape for Japanese Youth." اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 19 سال کے اندر کی عمر کے جاپانی نوجوانوں میں خودکشی کے واقعات تیزی سے بڑھے ہیں۔ 1985 میں ایسے نوجوانوں کی تعداد 557 تھی، جبکہ 1986 میں ان کی تعداد 802 تک پہنچ گئی۔ خودکشی کرنے والے اکثر نوجوان وہ تھے جو عمارتوں کی چھتوں سے کود پڑے۔

یہ واقعہ اس کے بعد ہوا جبکہ 18 سالہ خاتون پاپ سنگر یوکی کو اوکادا نے محبت میں ناکامی کے بعد ایک چھت سے کود کر اپریل 1986 میں اپنی جان دے دی تھی۔ نوجوانوں نے بھی اسی کی نقل کی، کچھ لوگ جنہوں نے اس طریقے سے اپنی جان دی وہ مس اوکادا کی موت سے غمزدہ تھے۔ انہوں نے چاہا کہ وہ بھی موجودہ دنیا سے رخصت ہو جائیں اور جنت میں پہنچ کر اپنی دل پسند سنگر سے جا ملیں۔ کچھ لوگوں نے مرتے وقت ایسی تحریر چھوڑی جس میں مذکورہ پاپ سنگر خاتون کا نام لکھا ہوا تھا: "Many of our youngsters who jumped from roofs of buildings after 18 years old." پاپ سنگر یوکی کو اوکادا used that method of killing herself in April 1986 because of an unhappy loan affair.

Some of the people who did kill themselves because they felt sorry for her, Miss Okada, and wanted to be in heaven with her, a few left notes mentioning the singer. Times of India, 30 March 1987, page 6. یہ ان بے شمار نقصانات میں سے ایک نقصان ہے جو عورتوں کو اسکرین کی چیز بنانے کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔ عورت اگر گھر کو سنبھالے تو وہ نوجوان نسل کو زندگی دینے والی ثابت ہوتی ہے، لیکن اگر وہ گھر سے باہر نکل کر لوگوں کی تفریح کا سامان بنے تو وہ نوجوان نسل کو ہلاکت سے دوچار کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 163۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.