Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Masnui aulaad ka masala

Urdu · 8 min

مصنوعی اولاد کا مسئلہ: آزادیِ نسواں کی تحریک کا مقصد یہ تھا کہ عورت اور مرد دونوں ہر اعتبار سے بالکل برابر کا درجہ حاصل کر لیں، مگر عملاً ایسا نہ ہو سکا۔ آزادیِ نسواں کی تحریک اپنے اصل مقصد کو پانے میں پوری طرح ناکام ہے۔ ایک امریکی خاتون، ٹی گریس اٹکنسن، نے کہا کہ یہاں تحریک کا کوئی وجود نہیں۔ تحریک کا مطلب کہیں جانا ہے، اور آزادیِ نسواں کی تحریک کہیں بھی نہیں جا رہی ہے۔

اس نے اب تک کچھ حاصل نہیں کیا۔ There is no movement; movement means going someplace, and the movement is not going anywhere. It hasn't accomplished anything. Time: March 20, 1972, page 30.

اس تجربے کی بنا پر مغربی ملکوں میں کچھ ایسی پرجوش خواتین پیدا ہو گئی ہیں جن کا مطالبہ ہے کہ مردوں پر انحصار کو کامل طور پر ختم کر دیا جائے، حتیٰ کہ ان سے جنسی تعلق بھی نہ رکھا جائے۔ جل جل جانسٹن کا کہنا ہے کہ آزادیِ نسواں دراصل اس کا نام ہے کہ عورتیں ہم جنسی کا طریقہ اختیار کر لیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جبکہ عورتیں اپنی جنسی ضرورت کے لیے مردوں پر انحصار نہ کریں۔ اس طرح وہ مردانہ کنٹرول سے آزاد ہو سکتی ہیں۔

Due to this experience, feminist extremists in Western countries demand a complete withdrawal from dependence on men, including sexual ties. Village-wise, columnist Jill Johnston—for example—insists that feminism is lesbianism, and that it is only when women do not rely upon men to fulfill their sexual needs that they are finally free of masculine control. Time: August 10, 1987, page 25. دو عورتوں کا شوہر اور بیوی کی طرح رہنا سادہ سی بات نہیں۔

اس میں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ جوڑے اگر اپنا بچہ چاہتے ہوں تو وہ اپنے لیے ایک بچہ کیسے حاصل کریں؟ اس کا ذریعہ جدید میڈیکل سائنس نے مصنوعی تخم ریزی، یعنی artificial insemination، کی صورت میں فراہم کر دیا ہے۔ ہالینڈ کی دو عورتیں، پاؤلا ڈیز (39) اور جینین ہاکسمن (38)، میاں بیوی کے طور پر رہتی ہیں۔

ان کو اولاد کی خواہش ہوئی تو انہوں نے لیڈن کے انسٹی ٹیوٹ آف برتھ کنٹرول سے رابطہ قائم کیا۔ پہلی کوشش ناکام رہی۔ دوسری کوشش میں پاؤلا ڈیز حاملہ ہو گئیں۔ ایک نامعلوم شخص کے مادے کے ذریعے ان کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام ٹامس رکھا گیا۔

مگر ٹامس کی پیدائش کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ دوبارہ انہیں اسی مرد کی ضرورت ہے جس سے توحش کی بنا پر انہوں نے ہم جنسی کا طریقہ اختیار کیا تھا۔ دونوں عورتیں اس حقیقت کے بارے میں بہت حساس ہیں کہ ان کے لڑکے ٹامس کو مرد درکار ہیں جو اس کے لیے کرداری نمونہ بن سکیں۔ اب دوبارہ وہ اس مقصد کو مصنوعی طور پر حاصل کر رہی ہیں۔ چنانچہ ان خواتین کے چچا، ان کے دادا، ان کے بھائی، اور مرد پڑوسیوں سے درخواستیں کی جا رہی ہیں کہ وہ بار بار ان کے گھر آئیں۔

جینین ہاکسمن نے کہا کہ ہم نے اپنے ایک مرد دوست کو چنا ہے جو ٹامس کے لیے باپ کا کام کرے۔ ہم ٹامس کو اس کے یہاں تمام فنی ہدایات کے لیے بھیجتے رہیں گے۔ The women are sensitive to the fact that Thomas needs men as role models, uncles, a grandfather, brothers-in-law, and male neighbors. Are encouraged to visit frequently.

We have a good friend not too far from here whom we have chosen to be a father image for Thomas, says Hacksman. We'll send Thomas over to him for all the technical instructions. ٹامس کو ایک باپ فراہم کرنے کا مذکورہ بالا مصنوعی طریقہ کسی طرح اصل باپ کا بدل نہیں۔ یہ یقینی ہے کہ ان دونوں، باپ اور بیٹے، کے درمیان ایک قسم کی اجنبیت حائل رہے گی۔

اور ٹامس جب بڑا ہوگا تو یہ مہوُم اجنبیت، شعوری اجنبیت بن جائے گی۔ ٹامس اپنی ماں کو جانتا ہوگا مگر وہ اپنے باپ سے سراسر ناواقف ہوگا۔ ٹامس کی زندگی کا یہ خلا اس کے اندر طرح طرح کی ذہنی پیچیدگیاں پیدا کرے گا۔ اس کی یہ ذہنی حالت آخر کار اس کو ناممکن بنا دے گی کہ وہ سماج کا ایک مفید حصہ بن سکے۔

گویا عورت اور عورت کے درمیان ہم جنسی کے نظام، یعنی lesbianism، میں لڑکی پیدا کرنے کی گنجائش تو ہے مگر لڑکا پیدا کرنے کی نہیں۔ اگرچہ لڑکی پیدا کرنے کے لیے بھی دوبارہ اسی مرد پر انحصار کرنا پڑے گا جس پر انحصار کو ختم کرنے کے لیے یہ نظام اختیار کیا گیا تھا۔ فطرت کے نظام سے انحراف کرنا آسان ہے، مگر اس کے بعد اس انحراف کی جو قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، اس کو ادا کرنا کسی انسان یا کسی انسانی سماج کے لیے ممکن نہیں۔ کتاب: خاتونِ اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 154۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.