Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Paakbazi ki ahmiyat

Urdu · 7 min

پاک بازی کی اہمیت: موجودہ زمانے میں صنفی اباحیت کا طریقہ بہت بڑے پیمانے پر اختیار کیا گیا۔ مغربی دنیا میں نکاح سے پہلے جنسی تعلق قائم کرنا عام ہو گیا، حتیٰ کہ اس کو ایک فلسفہ بنا دیا گیا۔ کہا گیا کہ مستقل شریکِ حیات کے انتخاب کے لیے یہ زیادہ محفوظ اور بہتر طریقہ ہے کہ پیشگی طور پر پوری طرح اس کا تجربہ کر لیا جائے۔ مرد اور عورت نکاح سے پہلے اسی طرح کھلے طور پر ایک دوسرے سے ملنے لگے، جس طرح ایک مرد اور ایک عورت نکاح کے بعد آزادانہ طور پر ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔

مگر یہ طریقہ فطرت سے ٹکراؤ تھا؛ تخلیقی نظام کی خلاف ورزی نے ایسے ایسے مسائل پیدا کیے جن کا حل موجودہ ڈھانچے میں ناممکن نظر آنے لگا۔ ان نتائج نے لوگوں کے اندر نظرِ ثانی کا ذہن پیدا کیا، حتیٰ کہ اب خود وہی لوگ اس طریقے کے مخالف ہو رہے ہیں جو اس سے پہلے نہایت پرجوش طور پر اس کی حمایت کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں امریکہ کی ایک بڑی سبق آموز رپورٹ اخبارات میں شائع ہوئی ہے، اے ایف پی کے حوالے سے۔ ٹائمز آف انڈیا 18 مارچ 1987 نے اس رپورٹ کا خلاصہ حسبِ ذیل الفاظ میں نقل کیا ہے: "A survey carried out in America on more than 1,400 college students aged 18-19 reveals that young women are more attracted to male virgins than they were ten years ago.

" The New York psychologist Mr. Shreely Blatnick, whose company carried out the survey, said: "The male virgin may not make the best lover, but usually he is eager to learn and he is the safest. The safest that is from the risk of AIDS and other sexually transmittable diseases. " Mr.

Blatnick said it was the risk of sexually related diseases that makes the male virgins so attractive to women. His latest survey showed that 22% of college women now want their next lover to be a virgin, compared to just 9% ten years ago. ایک جائزہ جو 1,400 سے زیادہ کالج کے طلبہ سے لیا گیا، جن کی عمریں 18 تا 19 سال کی تھیں، بتاتا ہے کہ امریکہ کی نوجوان عورتیں ازدواجی تعلق کے لیے پاک باز مردوں کی طرف زیادہ راغب ہیں، جبکہ 10 سال پہلے ایسا نہ تھا۔ نیویارک کے ماہرِ نفسیات مسٹر شری لی بلیٹنک، جن کی کمپنی نے یہ جائزہ لیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ پاک باز مرد بہت اچھا محبت کرنے والا نہ ہو، مگر عام طور پر وہ سیکھنے کا شوق رکھتا ہے اور وہ محفوظ ہے۔

وہ ایڈز اور دوسری متعدی جنسی بیماریوں کا خطرہ اپنے ساتھ لیے ہوئے نہیں ہوتا۔ مسٹر بلیٹنک نے کہا کہ یہ دراصل جنس سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کا خطرہ ہے، جس نے پاک باز مرد کو عورتوں کی نظر میں اتنا زیادہ جاذب بنا دیا ہے۔ ان کے اس جائزے نے بتایا ہے کہ کالج کی عورتوں میں اب 22% وہ ہیں جو پاک باز مرد چاہتی ہیں، جبکہ 10 سال پہلے اس قسم کی عورتوں کی تعداد صرف 9% تھی۔ ہندوستان ٹائمز 19 مارچ 1987 نے امریکی نیوز ایجنسی کی اس خبر کو شائع کرتے ہوئے اس پر یہ سرخی قائم کی ہے: "پاک باز مرد کی مقبولیت: Male virgins in vogue"۔

شادی کے لیے پاک بازی کی شرط طرفین کے لیے صنفی آزادی میں رکاوٹ تھی، چنانچہ آزادیِ نسواں کی تحریک کے ابتدائی دور میں اس کا مذاق اڑایا گیا اور اس کو محض ایک مذہبی افسانہ قرار دیا گیا۔ مگر تجربے نے بتایا کہ یہ مذہبی افسانہ نہیں، بلکہ ایک حیاتیاتی حقیقت ہے۔ اگر آپ اپنے لیے درست اور بے ضرر جوڑا چاہتے ہیں تو آپ کو پاک بازی کی شرط کو قبول کرنا پڑے گا۔ پاک بازی اس سے پہلے صرف ایک مذہبی حکم نظر آتی تھی، آج وہ صحت مند ازدواجی تعلق کے لیے ایک لازمی اصول کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔

خدائی احکام کے مبنی برحقیقت ہونے کا یہ کیسا عجیب ثبوت ہے، جو خود انسانی تجربے نے موجودہ زمانے میں فراہم کیا ہے۔ اس کے بعد بھی آدمی اگر خدائی شریعت کی اہمیت کو نہ مانے تو یہ اس کی دھاندلی ہوگی، نہ کہ مبنی برحقیقت رویہ۔ کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 152۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.