ایک حدیث: "ڈیٹ" کا مذکورہ مغربی رواج اس بات کو جائز قرار دیتا ہے کہ غیر شادی شدہ عورت اور مرد تنہائی میں ایک دوسرے سے ملیں، اور جتنی دیر تک چاہیں ایک ساتھ اپنے اوقات گزاریں۔ اس رواج نے مغرب میں جو اندوہناک صورتحال پیدا کی ہے، اس کو نظر میں رکھیے اور پھر مندرجہ ذیل حدیث پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ شریعت نے اس معاملے میں جو اصول مقرر کیے ہیں وہ کس قدر بامعنی ہیں۔ "من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يخلون بامرأة ليس معها ذو محرم منها فإن ثالثهما الشيطان" مسند احمد، حدیث نمبر 14651۔ یعنی جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو اس کو چاہیے کہ ہرگز وہ کسی ایسی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ رہے جس کے ساتھ کوئی محرم موجود نہ ہو، کیونکہ وہاں ان کا تیسرا شیطان ہوتا ہے۔
غیر مرد اور عورت اگر تنہائی میں ملیں تو شیطان کو فوراً انہیں ورغلانے کا موقع مل جاتا ہے، لیکن اگر ملاقات کے وقت کوئی محرم رشتہ دار بھی ساتھ موجود ہو تو شیطان کو ان کی نفسیات میں داخل ہونے کا موقع نہیں ملے گا۔ پہلی صورت میں ملاقات کسی حد پر نہیں رکتی، اور دوسری صورت میں ملاقات حد کے اندر رہتی ہے، وہ اس سے آگے جانے نہیں پاتی۔ کتاب "خاتونِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 151۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.