← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Jadid aurat ki mazlumi
Urdu · 10 min
جدید عورت کی مظلومی۔ ایک سیاح امریکہ گیا، ایک بار وہ وہاں کے ایک کلب میں تھا جہاں لڑکے اور لڑکیاں مل کر رقص کر رہے تھے۔ سیاح کنارے کی ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک ایک امریکی لڑکی آئی اور اس کے پاس بیٹھ گئی۔
اس نے اداس لہجے میں کہا، "مسٹر سیاح، کیا میرے اندر گلیمر نہیں؟ " "کیوں نہیں، تمہارے اندر تو گلیمر ہے،" سیاح نے جواب دیا۔ "پھر کیا وجہ ہے کہ کوئی لڑکا مجھے ڈیٹ نہیں دیتا؟ " لڑکی نے کہا۔
ڈیٹ کے معنی انگریزی زبان میں تاریخ کے ہوتے ہیں، مغربی ملکوں میں یہ لفظ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے ایک رواج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ وہ ہے ایک صنف کا دوسری صنف کو، کسی مقررہ تاریخ کو مدعو کرنا۔ شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کا تجربہ کرتے، اور اس مقصد کے لیے ڈیٹ دے کر ایک دوسرے کو اپنے پاس بلاتے۔ مغربی زندگی میں یہ رواج اتنا زیادہ عام ہو گیا ہے کہ جس لڑکی کو کوئی لڑکا ڈیٹ نہ دے، وہ اپنے آپ کو کچھ کم سمجھنے لگتی ہے۔
اس کا خیال یہ ہو جاتا ہے کہ شادی کے بازار میں اس کی کوئی قیمت ہی نہیں۔ ڈیٹنگ کا یہ طریقہ ابتدا میں صرف گفتگو اور ملاقات تک محدود تھا۔ اب بڑھتے بڑھتے وہ باقاعدہ جنسی تعلقات تک پہنچ گیا ہے۔ مغربی لڑکوں کے لیے یہ ایک مہذب طریقہ بن گیا ہے کہ وہ ڈیٹ دے کر ایک لڑکی کو تنہا کمرے میں بلائیں، اور پھر وہاں اس کے ساتھ جبری طور پر بدکاری کریں۔
اس سلسلے میں امریکی میگزین ٹائم، 23 مارچ 1987 میں ایک سبق آموز رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کا عنوان بامعنی طور پر یہ ہے: "جب ڈیٹ زنا کاری میں تبدیل ہو جائے" "When the date turns into rape" سوزن، 22 سال کی ایک غیر شادی شدہ خاتون ہے، اس کی ملاقات ایک مرد سے ہوئی۔ جب دونوں رخصت ہونے لگے تو مرد نے اس کو ڈیٹ دی۔ اس کے مطابق دونوں ایک کمرے میں جمع ہوئے۔
45 منٹ تک وہ ٹیلی ویژن دیکھتے رہے، اور ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔ اس کے بعد مرد اس کے پاس آ گیا اور آگے کے افعال کرنا شروع کر دیے۔ عورت ٹھہرو ٹھہرو ٹھہرو کہتی رہی، مگر مرد نہیں مانا۔ اس نے کہا کہ تم محض تکلف میں ایسا کہہ رہی ہو، ورنہ حقیقتاً تم مجھ کو روکنا نہیں چاہتی ہو۔
"You really don't want me to stop" اس کے بعد اس کمرے میں وہ سب کچھ ہوا جس کو قانونی اصطلاح میں زنا بالجبر کہا جاتا ہے۔ اس قسم کی ڈیٹ، اس قسم کی ڈیٹ ریپ، موجودہ ترقی یافتہ ملکوں میں عام ہو چکی ہے۔ ڈیٹ کے ذریعے بدکاری کرنا بعض محققین کے نزدیک آج کا بہت بڑا سماجی مسئلہ ہے۔ کالج کے طلبہ کا جائزہ یہی بتاتا ہے جو کہ 6200 مردوں اور عورتوں کے درمیان 32 کیمپس میں 3 سال تک کیا گیا۔
ماہرِ نفسیات میری کاس نے پایا ہے کہ جن عورتوں کو اس قسم کے تجربات ہوئے، جو کہ قانون کے مطابق زنا بالجبر کی تعریف میں آتے ہیں، ان میں آدھے سے زیادہ تعداد ڈیٹ کے ذریعے بدکاری کرنے کی تھی۔ ایک لیکچرر، اینڈریا پیرٹ، نے اندازہ لگایا ہے کہ دو کیمپس جن کا اس نے جائزہ لیا، ان کی 20% خواتین کے ساتھ زنا بالجبر کیا گیا تھا۔ 1985 میں زنا بالجبر کے واقعات کی تعداد 87340 تھی۔ میری کاس نے کہا ڈیٹ کے موقع پر بدکاری کا خطرہ اس سے زیادہ ہے کہ اچانک جھاڑی سے نکل کر کوئی اجنبی شخص ایسا کرنے لگے۔
آزادی نسواں کے بعض علمبرداروں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ایک بدکاری کلچر پیدا ہو چکا ہے جس میں مردوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ عورتوں کے ساتھ جارحانہ انداز اختیار کریں، اور عورتیں ان کے آگے سپر ڈال دیں۔ "When the date turns into rape" ڈیٹ ریپ، according to some researchers, is a major social problem so far studied mostly through surveys of college students in a three-year study of 6200 male and female students on 32 campuses. Kentucky state psychologist Mary Kos found that 15% of all women reported experiences that met legal definitions of forcible rape; more than half those cases were date rapes. Andrea Parrott, a lecturer at Cornell University, estimates that 20% of college women at two campuses she surveyed had been forced into sex during their college years or before, and most of these incidents were date rapes.
The number of forcible rapes reported each year is 87340. In 1985, it is believed to be about half the total actually committed, says Kos. You are a lot more likely to be raped by a date than by a stranger jumping out of the bushes. Some feminists argue that the U.S.
has a rape culture in which males are encouraged to treat women aggressively, and women are trained to submit. Times of India, 23 March 1987, page 35. مسٹر سری پrakash، یعنی سابق گورنر مہاراشٹر اور پاکستان میں پہلے ہندوستانی ہائی کمشنر، نے اپنی یادداشت میں لکھا ہے کہ 1947 میں انہوں نے ایک انگریز سے پوچھا کہ تم لوگ ہم ہندوستانیوں کو حقیر کیوں سمجھتے ہو۔ انگریز نے اس سوال کے جواب میں جو کچھ کہا، اس میں سے ایک بات یہ تھی: آپ لوگ شادی کے سلسلے میں بہت سی پابندیاں ملحوظ رکھتے ہیں۔
یورپ کا نظریہ یہ ہے کہ نوجوان لڑکا اور لڑکی خود ایک دوسرے کو پسند کر کے شادی کر لیں۔ آپ کے یہاں ایسا نہیں ہو سکتا۔ آپ لوگ سماجی بندھنوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ صفحہ 172۔
آزادی نسواں کی تحریک کے آغاز میں یہ بات بہت اچھی معلوم ہوتی تھی، مگر غیر شادی شدہ لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان سے ہر قسم کی پابندیوں کو اٹھانے کا نتیجہ آخر کار قبل از نکاح، صنفی تعلقات، اور پھر زنا بالجبر کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اس تجربے نے بتایا کہ صنفی تعلقات کے معاملے میں پابندی کا اصول ہی صحت مند اصول ہے۔ اس معاملے میں آزادی کا اصول معاشرے کو بربادی کے سوا اور کہیں نہیں پہنچاتا۔ کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 148۔