← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Ghair fitri musawat ka natija
Urdu · 9 min
غیر فطری مساوات کا نتیجہ: کوئی شخص جو مجھ کو جانتا ہو، وہ یقین نہیں کر سکتا کہ میں نے کیا کیا ہے۔ ایک 35 سالہ امریکی نے کہا، جو کہ بظاہر ایک سنجیدہ اور معصوم چہرے والا آدمی ہے، اس نے اپنی عورت کو مارنے کی کہانی بیان کی جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ اس نے گلا گھونٹ کر اس کو بے ہوش کر دیا، اس نے اس کو کیچڑ میں دھکیل دیا، اس نے چھری سے اس کا گلا کاٹ دینا چاہا، وغیرہ۔ میں نے کیسے ایسا کیا؟
اس نے تعجب کے ساتھ کہا، "لوگ مجھ کو ایک اچھے آدمی کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ " میرا اپنا ایک بزنس ہے، میں شراب نہیں پیتا، میں سگریٹ نہیں پیتا، میں دوسری عورتوں کا پیچھا نہیں کرتا۔ اس کے باوجود، ایسا ہوا کہ اس شخص نے بار بار اپنی بیوی کو مارا۔ امریکی ماہ نامہ "ریڈرز ڈائجسٹ" مارچ 1987 میں اس طرح کے بہت سے امریکیوں کی کہانی بیان ہوئی ہے۔
"ڈائجسٹ" کے اس مضمون کا عنوان ہے: لوگ کیوں ان عورتوں کو مارتے ہیں جن سے وہ محبت کرتے ہیں۔ Why Men Hurt the Women They Love پانچ صفحے کے اس مضمون میں عورتوں کو مارنے یعنی وائف بیٹنگ کی بہت سی مثالیں نقل کرتے ہوئے حسبِ ذیل رپورٹ دی گئی ہے۔ According to one survey, in America a woman is battered by a husband or boyfriend every 18 seconds, and every year it is estimated that more than a million of these need medical help every day for dying. پیج 135۔
ایک جائزے کے مطابق، امریکہ میں ہر 18 سیکنڈ میں ایک عورت ماری جاتی ہے، کبھی اپنے شوہر کے ہاتھوں اور کبھی اپنے دوست لڑکے کے ہاتھوں۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ ان میں سے 1 ملین سے زیادہ عورتوں کو ہر سال طبی امداد کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہر ایک دن میں 4 عورتیں مر جاتی ہیں۔ امریکہ کے ترقی یافتہ اور مہذب معاشرے میں عورتوں کو مارنے کی یہ برائی کیوں ہے؟
اس پر موجودہ زمانے میں کافی تحقیق کی گئی ہے۔ مسز سویزن شکٹر نے اس موضوع پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے "عورتیں اور مردانہ تشدد" یعنی Women and Male Violence۔ ان کا جواب یہ ہے کہ یہ جابرانہ کنٹرول حاصل کرنے کی ایک صورت ہے۔ It is a pattern of coercive control پیج 136۔
"ریڈرز ڈائجسٹ" کی مذکورہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے: Any batterer can tell you why he hit her سے ایلن پینس، Director of the Domestic Abuse Intervention Program، he wanted control over her, he wanted his way پیج 140۔ کوئی بھی مارنے والا مرد آپ کو بتائے گا کہ اس نے عورت کو کیوں مارا۔ ڈی اے آئی پی کے ڈاکٹر ایلن پینس نے کہا، "اس نے عورت کے اوپر کنٹرول حاصل کرنا چاہا، اس نے چاہا کہ اس کی اپنی مرضی چلے۔ " مذکورہ بیان کی روشنی میں غور کیجئے تو یہ صورتحال براہِ راست طور پر جدید مغربی تہذیب کا نتیجہ ہے۔
جدید مغربی تہذیب نے عورت کو مرد کے برابر قرار دیا۔ اس نے عورتوں کے لیے علیحدہ روزگار کا انتظام کر کے انہیں یہ موقع دیا کہ وہ مردوں سے آزاد اپنی مستقل معاشی بنیاد حاصل کر سکیں۔ اس بنا پر عورتوں کے اندر برابری کا احساس شدت کے ساتھ پیدا ہو گیا۔ تاہم یہ احساس مصنوعی تھا، کیونکہ مذکورہ معاشی بندوبست کے باوجود مغربی تہذیب کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ وہ فطرت کی اس تقسیم کو بدل دے کہ مرد پیدائشی طور پر صنف قوی اور عورت پیدائشی طور پر صنف ضعیف۔
اس مصنوعی مساوات کے نتیجے میں ان ملکوں کی گھریلو زندگی ایک تضاد کا شکار ہو گئی۔ ان گھروں میں ایسی عورتیں رہنے لگیں جو اپنی جسمانی بناوٹ کے اعتبار سے تو مرد کے مقابلے میں اسی طرح کمزور تھیں جس طرح ہر دور کی عورتیں کمزور رہی ہیں، مگر مزاج کے اعتبار سے وہ اپنے آپ کو مردوں کا ہمسر سمجھ رہی تھیں۔ مرد صنف قوی ہونے کی وجہ سے عورتوں پر اپنا کنٹرول قائم کرنا چاہتا تھا، مگر عورتوں نے اپنے مصنوعی مزاج کی بنا پر کنٹرول قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کشمکش کا نتیجہ یکطرفہ طور پر عورتوں کے حق میں برا ثابت ہوا۔
عورت اور مرد دونوں اگر واقعتاً حیاتیاتی طور پر یکساں ہوتے تو کبھی مرد عورت کو مارتا اور کبھی عورت مرد کو مارتی۔ مگر چونکہ یہاں معاملہ یکسانیت کا نہ تھا، اس لیے وہی صورت پیش آئی جو خربوزے اور چھری کے ٹکراؤ میں پیش آتی ہے۔ مرد ہمیشہ مارنے والا ثابت ہوا اور عورت ہمیشہ مار کھانے والی۔ اس معاملے میں جدید عورت کی مظلومی اتنی زیادہ بڑھی ہوئی ہے کہ وہ بھاگ کر بھی اپنے آپ کو نہیں بچا سکتی۔
رپورٹ کے مطابق ایک عورت نے کہا کہ اگر کوئی عورت بھاگنا چاہے تو اس کا شوہر اس کو دھمکی دیتا ہے کہ "میں تم کو پکڑوں گا اور تمہیں مار ڈالوں گا"۔ اگر سنگین ضربیں اور موتیں اس وقت پیش آتی ہیں جبکہ عورتیں باہر بھاگ جانا چاہتی ہیں۔ If you try to leave your husband, may threaten "I will find you and kill you" many of the worst injuries and deaths happen as women try to get away پیج 137۔ فطرت کی تقسیم میں مرد کو عورت کے اوپر خوام بنایا گیا ہے۔
اب اگر اس تقسیم کو مصنوعی طور پر بدلنے کی کوشش کی جائے تو اس کا انجام وہی ہوگا جس کی ایک تصویر مذکورہ بالا رپورٹ میں دکھائی دیتی ہے۔ جدید تہذیب سے پہلے کبھی ایسا نہ تھا کہ عورتیں اس طرح اپنے گھروں میں ماری جائیں۔ یہ صرف دورِ جدید کی خصوصیت ہے، اور یہ براہِ راست طور پر اس مصنوعی نظریۂ مساوات کا نتیجہ ہے جو تاریخ میں پہلی بار مغربی تہذیب میں اختیار کیا گیا۔ تاریخ کے پچھلے دور میں بھی عورت کو مارنے کے واقعات ہوتے تھے، مگر وہ استثنائی طور پر صرف نچلے طبقات میں پیش آتے تھے۔
لیکن جدید حالات نے ان کو بڑھا کر اعلیٰ طبقات کے دائرے تک پہنچا دیا۔ اس نے ایسے واقعات کو مہذب انسانوں کا مسئلہ بنا دیا، جبکہ اس سے پہلے وہ صرف غیر مہذب انسانوں کے مسئلے کی حیثیت رکھتا تھا۔ کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 145۔