Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Munakahat na ke Musafahat

Urdu · 12 min

مناقحت، نہ کہ مصافحہ۔ ٹائم نیویارک انگریزی زبان کا مشہور ہفتہ وار میگزین ہے؛ وہ دنیا کے تقریباً 95 ملکوں میں پڑھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر اس کی اشاعت 6 ملین ہے۔ ٹائم 2 فروری 1987۔

اس میگزین کی ہر اشاعت میں ایک تحقیقی مضمون ہوتا ہے، جس کو اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی ٹیم خصوصی ریسرچ کے ذریعے تیار کرتی ہے۔ اس مضمون کو "سرورخ کا مضمون" یعنی کور اسٹوری کہا جاتا ہے۔ اسی قسم کا ایک مضمون ان کے شمارہ 16 فروری 1987 میں شائع ہوا ہے۔ اس کا عنوان ہے: "عظیم پژمردگی" یعنی The Big Chill۔

اس مضمون میں مختلف پہلوؤں سے اس نئی بیماری کی تحقیق کی گئی ہے جس کو ایڈز کہا جاتا ہے۔ ایڈز کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ ایک متعدی مرض ہے، چنانچہ یہ مرض اب نئے قسم کے اچھوت پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ جو مرد یا عورت ایک بار ایڈز میں مبتلا ہو جائیں، لوگ ان سے دور بھاگنے لگتے ہیں، کیونکہ انہیں اندیشہ ہوتا ہے کہ انہیں بھی یہ مرض لگ جائے گا۔ بعض مغربی ملکوں میں باربر شاپ پر اس قسم کے نشانات نظر آنے لگے ہیں، جن کے اوپر لکھا ہوا ہوتا ہے کہ "شیو کے لیے یہاں نہ آئیں"، No shaves here۔

حکومتی ذمہ داروں نے اس کو ایڈز ہسٹریا کہا ہے۔ تاہم باربر حضرات کا کہنا ہے کہ مریض کے چہرے کا پسینہ، یا شیو کرتے ہوئے معمولی سا خون نکل آنا بھی بیماری کے پھیلنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے احتیاطی طور پر ایسے مریضوں سے بچنا ضروری ہے۔ ٹائمز آف انڈیا 19 فروری 1987۔

ٹائم کے محققین کی جماعت نے تفصیلات پیش کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ اس مہلک مرض کا سب سے بڑا سبب آزادانہ جنسی تعلق یعنی promiscuity ہے۔ اسی بنا پر اس مرض کو "رندی کا مرض" یعنی Gay disease کہا جاتا ہے۔ یہ مرض بہت تیزی سے پھیلتا ہے، چنانچہ اس نے جدید دنیا میں جیومیٹرک انتشار یعنی جیومیٹرک ایکسپلوژن کی صورت اختیار کر لی۔ ایڈز کی ہلاکت خیزی کو دیکھ کر ایک مبتلا مرض نے کہا: "Oh, what will happen in this world if we have to die when we make love?

AIDS is the century's evil. " پیج 32۔ آہ، اس دنیا کا کیا ہوگا اگر ہمارا حال یہ ہو جائے کہ ہم کو محبت کرنے کے لیے مر جانا پڑے؟ ایڈز اس صدی کی آفت ہے۔

آزادانہ جنسی تعلق، جس کو مغرب میں خوبصورت طور پر "آزادانہ محبت" کہا جاتا ہے، وہ اب لوگوں کے لیے عذاب بنتا جا رہا ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 1991 تک امریکہ میں 270,000 افراد اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہوں گے، جن کا علاج کرنا امریکی ڈاکٹروں کے خوابوں سے باہر ہو جائے گا۔ چنانچہ حکومت کی طرف سے جو مخالف ایڈز مہم یعنی Anti-AIDS campaign چلائی جا رہی ہے، اس کا خاص نعرہ ہے: "احتیاط کے ساتھ محبت کیجیے، Love carefully"۔ احتیاط کے ساتھ محبت کیجیے کی نصیحت کو اگر ہم لفظ بدل کر کہیں تو وہ یہ ہوگی کہ "نکاح کے ساتھ محبت کیجیے، بے نکاح محبت کا طریقہ چھوڑ دیجیے"۔

ڈی ایچ لارنس کا ناول "لیڈی شٹرلی کا محبوب" یعنی Lady Chatterley Lover پہلی بار 1928 میں چھپا۔ اس میں آزادانہ جنسی تعلق کی وکالت کی گئی تھی۔ اس وقت اس ناول کو فحش سمجھا گیا، اور جلد ہی اس کو بند یعنی بین کر دیا گیا۔ اس کے بعد حالات بدلے، اور 1959 میں دوبارہ اس ناول کو چھاپنے اور فروخت کرنے کی قانونی اجازت دے دی گئی۔

اس ناول نے امریکی نوجوانوں پر گہرا اثر ڈالا۔ ان کے اندر آزادانہ جنسی تعلقات عام ہو گئے۔ مگر اب دوبارہ آواز اٹھ رہی ہے کہ اس ناول پر پابندی لگائی جائے۔ یہ ایڈز کا کرشمہ ہے: آزادانہ جنسی تعلقات نے ایڈز کی پراسرار مگر حد درجہ مہلک بیماری پیدا کی ہے، اور اب مغرب کے لوگ مجبور ہو رہے ہیں کہ آزادانہ جنسی تعلق کے بارے میں اپنے خیالات پر نظرِ ثانی کریں۔

صفحہ 24۔ ٹائم کے الفاظ میں: "ہر جنسی ترغیب پر دوڑنے والے لوگ جلد یا بدیر جنسی احتیاط اور پابندی کے ایک نئے دور کی حقیقت سے دوچار ہوں گے"۔ سوئنگرز آف آل پرسویشنز میں Sooner or later be faced with the reality of a new era of sexual caution and restraint۔ پیج 24۔

مذکورہ تبصرے کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ فطرت کے حقائق انسان کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ آزادانہ جنسی تعلق کے طریقے کو چھوڑ دے اور پابند جنسی تعلق کے طریقے کو اختیار کرے۔ شریعتِ خداوندی میں عورت اور مرد کے درمیان جنسی تعلق کو نکاح کی قید کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے۔ شریعتِ خداوندی میں عورت اور مرد کے درمیان جنسی تعلق کو نکاح کی قید کے ساتھ وابستہ کیا گیا تھا، مگر موجودہ زمانے کے آزادی پسند لوگوں نے کہا کہ یہ انسان کے اوپر غیر ضروری قسم کی پابندی ہے۔ اس سلسلے میں بے شمار لٹریچر شائع کیا گیا، یہاں تک کہ مغربی ممالک میں آزادانہ جنسی تعلق ایک عمومی رواج کی صورت اختیار کر گیا۔

لوگ خوش تھے کہ انہوں نے شریعت اور مذہب کی پابندی سے آزاد ہو کر لامحدود عیش کا راز دریافت کر لیا ہے۔ مگر 20ویں صدی کے روبِ آخر میں پہنچ کر آزادانہ جنسی تعلق نے نئے نئے امراض پیدا کر دیے، اور بالآخر ایڈز کی مہلک بیماری نے لوگوں کو یہ ماننے پر مجبور کر دیا کہ شریعتِ خداوندی کا طریقہ ہی فطری طریقہ ہے۔ اس کے مقابلے میں آزادانہ جنسی تعلق انسانی صحت کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹائم میگزین کے مذکورہ شمارہ، صفحہ 24 میں، ایک مرد اور ایک عورت کو اس حال میں دکھایا گیا ہے کہ ان کو ایک خوفناک سانپ نے چاروں طرف سے لپیٹ لیا ہے۔

قرآن میں ہدایت کی گئی تھی کہ عورتوں کے ساتھ جنسی تعلق قیدِ نکاح میں لا کر کرو، نہ کہ بدکاری کے طور پر کرنے لگو۔ محسنین غیر مصافحین" سورہ نمبر 5 آیت 5۔ مفسرین نے قرآن کی اس آیت کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے کہ عورتوں کے ساتھ نکاح کے ذریعے تعلق قائم کرو، نہ کہ زانی بن کر، یعنی متزوجین غیر زانین۔ تجربات نے بتایا کہ یہی طریقہ صحیح فطری طریقہ ہے۔

مناکحت اور مصافحت یعنی بدکاری میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ ایک اگر زندگی ہے تو دوسرا موت۔ ایک طریقہ انسانی سماج کے لیے رحمت ہے تو دوسرا طریقہ انسانی سماج کے لیے عذاب۔ ٹائمز آف انڈیا 19 مارچ 1987 نے "ایڈز روک" یعنی ایڈز چیک کے عنوان کے تحت ایک امریکی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی حکومت نے اپنے شہریوں کو بعض تدبیریں اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے، جس کے ذریعے وہ ایڈز کی مہلک بیماری سے بچ سکتے ہیں۔

ان تدبیروں میں سب سے زیادہ خاص تدبیر جنسی پرہیز ہے۔ The U.S. government has released its new education plan, which stresses on sexual abstinence as a preventive measure. یہ واقعہ انسانی قانون پر خدائی شریعت کی برتری کا کھلا ہوا ثبوت ہے۔

خدائی شریعت کو ماننے والا ایک شخص اگر خدانخواستہ مصافحت کا طریقہ اختیار کرے اور اس کو ایڈز کی بیماری لگ جائے، تو اس کو اصولِ شریعت سے انحراف کا نتیجہ کہا جائے گا۔ اس کے برعکس مغربی تہذیب کا ایک انسان مصافحت کر کے ایڈز میں مبتلا ہو تو وہ عین اس کے اصول کے غلطی کا نتیجہ ہے۔ پہلے واقعے کی صورت میں ایک انسان کی غلطی ثابت ہوتی ہے، جبکہ دوسرے واقعے کی صورت میں خود تہذیبِ جدید کے اصول کی غلطی۔ کتاب "خاتونِ اسلام" مولانا وحیب الدین خان، صفحہ نمبر 140۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.