غلطی کا اعتراف: امریکہ میں ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام "باعتبار مفہوم" یہ ہے کہ بچے اپنے باپوں کو دوبارہ پا رہے ہیں۔ Dr. Sam O'Sher-son: "Finding Our Fathers" (1987) یہ امریکہ کی خاندانی زندگی میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ جدید تہذیب میں زندگی کا اعلیٰ معیار یہ بن گیا تھا کہ عورت اور مرد دفتروں میں کام کریں، اور بچوں کو گھریلو خادم یعنی بی بی سٹرز یا مرکزِ اطفال یعنی ڈے کیئر سینٹرز کے حوالے کر دیا جائے۔
مگر کئی نسل کی بربادی کے بعد امریکیوں کی سمجھ میں یہ بات آ رہی ہے کہ بچوں کی تربیت اور ارتقا کے لیے والدین کا کوئی بدل نہیں۔ چنانچہ امریکہ میں ایسے والدین پیدا ہو رہے ہیں جو اپنے بیرونی مشاغل میں کمی کر کے اپنے بچوں کے لیے وقت نکال رہے ہیں۔ کن شومان کو اونچی تنخواہ کا اعلیٰ عہدہ مل رہا تھا، مگر اس نے کم تنخواہ کی ملازمت پر قناعت کیا، کیونکہ اعلیٰ عہدہ آدمی کو اتنا زیادہ مصروف بنا دیتا ہے کہ اپنے بچوں کی نگہداشت کے لیے وہ وقت نہیں نکال سکتا۔ اس نے کہا کہ موجودہ ملازمت کے ساتھ میں اعلیٰ درجے کے ہوٹلوں میں لنچ نہیں لے سکتا۔
اس نے کہا کہ موجودہ ملازمت کے ساتھ میں اعلیٰ درجے کے ہوٹلوں میں لنچ نہیں لے سکتا، نہ ہوائی جہاز کے فرسٹ کلاس میں سفر کر سکتا ہوں۔ مگر میں اپنے فیصلے پر خوش ہوں، کیونکہ اب میرے پاس کافی وقت ہے، جبکہ اپنے بچوں کے تعمیری دور یعنی فارمیٹیو سٹیج میں ان کی زیادہ مدد کر سکتا ہوں۔ جان فیشر یعنی جان جی فیشر بھی اسی قسم کے نئے باپوں یعنی نیو بریڈز آف فادرز میں سے ایک ہے۔ اس نے کہا کہ میں نے اس طرزِ زندگی کو از سرِ نو اختیار کیا ہے۔
I'm a convert to this way of life یہ معلومات امریکی میگزین "اسپان" ستمبر 1987 کے ایک مضمون میں دی گئی ہیں۔ 6 صفحات کے اس مضمون کا عنوان یہ ہے: "Putting Kids First: The New Generation of American Fathers Is Balancing the Demands of Careers and Children" جدید انسان اپنے نظریات کی ترقی کی انتہا پر پہنچ کر دوبارہ اپنی غلطی کا اعتراف کر رہا ہے۔ اگرچہ جدید معاشرے پر ابھی تک اس کے سابقہ نظریات کا اتنا زیادہ غلبہ ہے کہ جو لوگ اس تبدیلی کے وکیل ہیں وہ اپنا نام ظاہر کرنا پسند نہیں کرتے۔ اسپان، ستمبر 1987، صفحہ 31۔
کتاب "خاتونِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 157۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.