Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Shadi na karna ghalati

Urdu · 5 min

شادی نکرنا غلطی۔ گریٹا گاربو کسی زمانے میں ہالی وڈ کی مشہور ترین ایکٹرس تھی، مگر اب بڑھاپے کی عمر کو پہنچنے کے بعد فلمی دنیا میں اس کی کوئی قیمت نہیں۔ اس کے پرانے دوست بھی سب کے سب اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ 18 ستمبر 1980 کو اس نے اپنی 75ویں سالگرہ تنہا منائی۔

گریٹا گاربو کے سوانح نگار نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس بات پر افسوس ہے کہ آپ نے شادی نہیں کی، جس کی وجہ سے آج آپ کی تنہائیوں کا کوئی ساتھی نہیں۔ گریٹا گاربو نے غمگین لہجے میں جواب دیا کہ میرا خیال ہے کہ میرا شادی نکرنا ایک غلطی تھی۔ "Not getting married was a mistake. " ہندوستان ٹائمز، 21 ستمبر 1980۔

خدا نے انسان کو جوڑے کی صورت میں بنایا ہے، مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے سے مل کر انسانیت کی تکمیل کرتے ہیں۔ پھر زندگی کی نوعیت کچھ اس قسم کی ہے کہ اس کا مستقل ہونا بھی ضروری ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے خدا نے نکاح کا طریقہ مقرر کیا ہے۔ نکاح ایک مرد اور عورت کو مستقل خاندانی تعلق میں جوڑتا ہے۔

اس طرح دونوں ایک دوسرے سے جڑ کر خود اپنے تقاضوں کی تکمیل بھی کرتے ہیں اور سماج کے تقاضوں کی بھی۔ مغربی زندگی میں آزادی کے غلط تصور کا یہ نتیجہ ہوا کہ شادی کو بندھن خیال کیا جانے لگا۔ اس کے نتیجے میں جو آزادانہ زندگی پیدا ہوئی، اس نے بے شمار خاندانی اور سماجی مسائل پیدا کر دیے۔ انہی میں سے ایک وہ ہے جس سے گریٹا گاربو جیسی عورتیں دوچار ہوتی ہیں۔

جوانی کی عمر میں، جبکہ ان کے اندر مردوں کے لیے کشش ہوتی ہے، وہ ہر جگہ رونقِ محفل بنی رہتی ہیں۔ ان کو روزانہ ایسے تفریحی پروگرام ملتے رہتے ہیں جن میں مصروف رہ کر وہ اپنے صبح و شام گزارتی رہیں۔ مگر جب عمر زیادہ ہوتی ہے اور جنسِ مخالف کے لیے اپنی نسوانی کشش کھو دیتی ہیں، تو اچانک ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ماضی کی تمام سرگرمیاں محض مصنوعی سرگرمیاں تھیں۔ دوستیاں اور تعلقات اس طرح چھوٹ جاتے ہیں جیسے خزاں کے موسم میں درخت کے پتے۔

اس وقت انہیں معلوم ہوتا ہے کہ مستقل وفاداری کو بندھن سمجھنا ان کی کتنی بڑی غلطی تھی۔ ان پر یہ کھلتا ہے کہ اب تک وہ خوابوں کی دنیا میں جی رہی تھیں۔ ان کی رونقوں سے بھری زندگی اچانک ایک سونے گھر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ان کی رونقوں سے بھری زندگی اچانک ایک سونے گھر میں تبدیل ہو جاتی ہے، جہاں ان کے لیے اس کے سوا اور کوئی راہ نہیں ہوتی کہ کتے اور بلی پال کر دل بہلاتی رہیں۔

ان کا کوئی رفیقِ حیات نہیں ہوتا جو خوشی اور غم میں ان کا شریک ہو۔ ان کے سامنے اپنے بچوں کا وہ باغ نہیں ہوتا جن کی صورت میں ایک آدمی اپنی ختم ہوتی ہوئی زندگی کے تسلسل کو دیکھ کر مطمئن ہوتا ہے۔ ان کے آس پاس کوئی اپنا نہیں ہوتا جس کو اپنی زندگی کا اثاثہ سونپ کر وہ سمجھیں کہ انہوں نے دنیا میں بے کار محنت نہیں کی۔ ان کو گوشت پوست کی کوئی ایسی دنیا نظر نہیں آتی جس کو وہ اپنا سمجھیں اور جو انہیں اپنا سمجھے۔

ایسے لوگ بھری ہوئی کائنات میں بالکل تنہا ہو کر رہ جاتے ہیں، اور یقیناً کسی آدمی کے لیے تنہائی سے بڑی کوئی سزا نہیں۔ خاتون کتاب خاتونِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 111۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.