Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Fitrat se jung

Urdu · 9 min

فطرت سے جنگ۔ کسی ڈاکٹر کو ایک روز خیال آ جائے کہ منہ کا مقام چہرے پر نہیں بلکہ پیٹ پر ہونا چاہیے، اور اس کے بعد وہ آپریشن کے ذریعے منہ کو چہرے سے ہٹا کر پیٹ پر منتقل کرنا شروع کر دے، تو دنیا اس کی بیوقوفی پر ہنسے گی۔ کیونکہ فطرت نے کسی چیز کا جو مقام متعین کر دیا ہے، وہاں سے اس کو ہٹایا نہیں جا سکتا۔ ہماری کامیابی یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھ کر معاملہ کریں، نہ کہ خود ساختہ نظریے کے تحت اشیاء کی ترتیب بدل کر ایک نیا نقشہ بنانے کی مہم شروع کر دیں۔

اسی تخیل پسندی کی ایک مثال عورت کا مسئلہ ہے۔ جدید تہذیب نے زندگی کا نیا نقشہ بنانا شروع کیا تو اس میں اس کا ایک نعرہ یہ تھا کہ عورت اور مرد کے درمیان کامل مساوات ہونی چاہیے۔ اس خوشنما تخیل کو وجود میں لانے کے لیے خاندان اور معاشرت کا سارا ڈھانچہ الٹ پلٹ دیا گیا، مگر آخر میں جو چیز حاصل ہوئی وہ یہ کہ عورت گھر سے باہر تو آ گئی، مگر عملی زندگی میں وہ مرد کی ہمسر نہ ہو سکی۔ اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ یہاں فطرت نے انسانی تخیل کا ساتھ دیا۔

ایک روسی سائنسدان، اینٹون نملوف، جو خواہش کی حد تک خود بھی عورت اور مرد میں کامل مساوات دیکھنا چاہتا ہے، اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ حیاتیات میں ہماری اس خواہش کے لیے بنیاد موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عملاً یہ چیز اب تک حاصل نہ ہو سکی۔ وہ سائنس کے تجربات اور مشاہدات پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے: "آج کل اگر یہ کہا جائے کہ عورت کو نظامِ تمدن میں محدود حقوق دیے جائیں، تو کم سے کم آدمی اس کی تائید کریں گے۔ ہم خود اس تجویز کے سخت مخالف ہیں، مگر ہمیں اپنے نفس کو یہ دھوکا نہ دینا چاہیے کہ مساواتِ مرد و زن کو عملی زندگی میں قائم کرنا کوئی سادہ اور آسان کام ہے۔

" دنیا میں کہیں بھی عورت اور مرد کو برابر کر دینے کی اتنی کوشش نہیں کی گئی جتنی سوویت روس میں کی گئی ہے۔ کسی جگہ اس باب میں اس قدر غیر متعصبانہ اور فیاضانہ قوانین نہیں بنائے گئے، مگر اس کے باوجود واقعہ یہ ہے کہ عورت کی پوزیشن خاندان میں بہت کم بدل سکی ہے۔ صفحہ 76۔ اب تک عورت اور مرد کی نامساوات کا تخیل، نہایت گہرا تخیل، نہ صرف ان طبقوں میں جو ذہنی حیثیت سے ادنیٰ درجے کے ہیں بلکہ اعلیٰ درجے کے تعلیم یافتہ سوویت طبقوں میں بھی جمع ہوا ہے۔

اور خود عورتوں میں اس تخیل کا اتنا گہرا اثر ہے کہ اگر ان کے ساتھ ٹھیٹھ مساوات کا سلوک کیا جائے تو وہ اس کو مرد کے مرتبے سے گرا ہوا سمجھیں گی، بلکہ اسے مرد کی کمزوری اور نامردی پر محمول کریں گی۔ بلکہ اسے مرد کی کمزوری اور نامردی پر محمول کریں گی۔ اگر ہم اس معاملے میں کسی سائنسدان، کسی مصنف، کسی طالب علم، کسی تاجر یا کسی صد فیصد کمیونسٹ کے خیالات کا تجسس کریں تو بہت جلد یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی کہ عورت کو وہ اپنے برابر کا نہیں سمجھتا۔ اگر ہم زمانہ اگر ہم زمانہ حال کے کسی ناول کو پڑھیں، خواہ وہ کیسے ہی آزاد خیال مصنف کا لکھا ہوا ہو، یقیناً اس میں ہم کو کہیں نہ کہیں ایسی عبارتیں ضرور ملیں گی جو عورت کے متعلق اس تخیل کی چغلی کھا جائیں گی۔

صفحہ 194 تا 95۔ عورت کو مساوات کا درجہ نہ ملنا کوئی وقتی اور عملی خرابی نہیں، بلکہ اس کی وجہ حیاتیات تک جاتی ہے۔ چنانچہ مصنف لکھتا ہے: "اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں انقلابی اصول ایک نہایت اہم صورتِ واقعی سے ٹکراتا ہے، یعنی اس حقیقت سے کہ حیاتیات یعنی biology کے اعتبار سے دونوں صنفوں کے درمیان مساوات نہیں ہے، اور دونوں پر یکساں بار نہیں ڈالا گیا ہے۔ " اینٹون نملوف، The Biological Tragedy of Women, لندن، 1932۔

فطرت کی خلاف ورزی کا نتیجہ یہی نہیں ہوتا کہ وہ چیز عملاً حاصل نہیں ہوتی، بلکہ یقینی طور پر اس کی وجہ سے کئی نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ فطرت نے کسی چیز کو جہاں رکھا ہے، وہی اس کی اصل جگہ ہے۔ اور جب کسی چیز کو اس کے واقعی مقام سے ہٹایا جائے تو اس کے نتیجے میں خرابی کا پیدا ہونا لازمی ہے۔ یہی چیز عورت کے معاملے میں ہوئی۔

عورت کو مرد کے مساوی بنانے کے لیے گھر سے باہر نکالا گیا۔ اس سے یہ تو نہیں ہوا کہ عورت فی الواقع مرد کے مساوی ہو جاتی، البتہ اس کو زندگی کے ہر موڑ پر مردوں کے ساتھ کھڑا کر دینے کا انجام یہ ہوا کہ فواحش کا سیلاب امڈ آیا۔ مذکورہ بالا مصنف لکھتا ہے: "سچی بات تو یہ ہے کہ تمام عمال یعنی ورکرز میں صنفی انتشار یعنی sexual anarchy کے آثار نمایاں ہو چکے ہیں۔ یہ ایک نہایت پرخطر حالت ہے جو سوشلسٹ نظام کو تباہ کرنے کی دھمکی دے رہی ہے۔

ہر ممکن طریقے سے اس کا مقابلہ کرنا چاہیے، کیونکہ اس محاذ پر جنگ کرنے میں بڑی مشکلات ہیں۔ میں ہزارہا ایسے واقعات کا حوالہ دے سکتا ہوں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہوانی بے خیری یعنی sexual licensedness نہ صرف ناواقف لوگوں میں بلکہ طبقۂ عمال کے نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور عقلی حیثیت سے ترقی یافتہ افراد میں بھی پھیل گئی ہے۔ " سورہ نمبر 102، آیت 3۔ صفحہ 102 تا 3۔

روسی مصنف نے یہ بات 50 سال پہلے کہی تھی، مگر بعد کے سالوں نے اس کی مزید تصدیق کی ہے۔ اس کے الفاظ آج مزید اضافے کے ساتھ جدید معاشرے کے لیے صحیح ہیں، وہ کسی اعتبار سے غلط ثابت نہیں ہوئے۔ جدید انسان نے عورت اور مرد کے قدیم تصور کو دخیانوسی قرار دیا، اور عورت اور مرد کے درمیان صنفی مساوات قائم کرنے کی کوشش کی، مگر یہ فطرت یعنی nature سے جنگ کرنا تھا۔ یہ حقیقتِ واقعی سے ٹکرانا تھا۔

اس کا نتیجہ الٹا ہوا۔ اس کے نتیجے میں دونوں صنفوں کے درمیان مساوات کا مقصد تو حاصل نہیں ہوا، البتہ اس مصنوعی کوشش کا یہ نقصان ہوا کہ معاشرے کے اندر نئی نئی برائیاں پیدا ہو گئیں۔ کتاب "خاتون اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 108۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.