← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Fitrat ka faisla
Urdu · 9 min
فطرت کا فیصلہ مغربی تہذیب کے مخصوص نظریات میں سے ایک نظریہ، مرد اور عورت کی مساوات تھا۔ مغربی دنیا میں پچھلے 100 سال سے اس نظریے کا تجربہ کیا جا رہا ہے، مگر یہ تجربہ سراسر ناکام ثابت ہوا ہے۔ کسی بھی شعبے میں یہ ممکن نہ ہو سکا کہ مرد اور عورت کو برابر کا درجہ دیا جائے۔ خانون کے اعتبار سے برابر کا درجہ پانے کے باوجود عملی طور پر دونوں سماج کے اندر برابر کا مقام حاصل نہ کر سکے۔
اس فرق کے بارے میں ابتداً یہ کہا گیا کہ یہ فرق ماحول، یعنی environment، کا پیدا کردہ ہے۔ مگر جدید تحقیقات اس مفروضے کو بے بنیاد ثابت کر رہی ہیں۔ مختلف شعبوں میں تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ یہ فرق حیاتیاتی فرق کا نتیجہ ہے۔ یہ تمام تر پیدائشی ہے، نہ کہ تاریخی۔
نیو یارک کے نیوز ویک 18 مئی 1981 میں ایک مفصل رپورٹ شائع ہوئی ہے، جس میں مختلف امریکی محققین کے نتائج درج ہیں۔ ان میں مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی۔ عورت اور مرد کی بناوٹ کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مرد کا مسائل کو حل کرنے میں زیادہ بہتر ثابت ہونا، عورتوں کا جذباتی طور پر سوچنا، لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کا زیادہ بہادرانہ انداز سے کھیلنا، ریاضیات میں مردوں کا زیادہ برتر رہنا، یہ سب دونوں صنفوں کے درمیان حیاتیاتی فرق کا نتیجہ ہے، نہ کہ محض ماحول کا۔ محققین کا خیال ہے کہ قائدانہ خصوصیتیں، یعنی leadership capacities، مردوں میں نسبتاً زیادہ ہوتی ہیں۔
جدید تحقیقات لوگوں کو اس عقیدے کی طرف لے جا رہی ہیں کہ سابقہ خیال کے برعکس، پرورش یعنی نرچر نہیں، بلکہ فطرت یعنی نیچر وہ اصل عامل ہے جس نے مرد اور عورت کے عمل میں فرق پیدا کیا ہے۔ عمومی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے کہ لڑنے بھڑنے کی صلاحیت عورتوں کے مقابلے میں مردوں کے اندر زیادہ ہوتی ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ دونوں کے ہارمون جدا جدا ہوتے ہیں، اور وہی دونوں کے درمیان فرق پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کچھ محققین نے نر کے ہارمون، یعنی ہارمون ٹیسٹوسٹیرون، کو مادہ کے جسم میں داخل کیا تو مادہ کے اندر نر کی خصوصیات محسوس کی جانے لگیں۔
کچھ لڑکیوں میں پیدائش سے پہلے مردانہ ہارمون داخل کر دیے گئے، چنانچہ پایا گیا کہ پیدائش کے دوران ان میں گڑیوں سے کھیلنے کا شوق بہت کم تھا۔ ان میں لڑکوں کی طرح جارحیت کا مزاج زیادہ پایا گیا۔ محققین نے پایا ہے کہ ہارمون خود دماغ کے ڈھانچے کو بدل دیتے ہیں۔ نر اور مادہ کے دماغ، یعنی برین، میں فرق پایا گیا ہے، اور اس کا سبب دونوں کے ہارمون کا فرق ہے۔
ان تحقیقات کے ذریعے دونوں صنفوں کے درمیان ناقابلِ انکار فرق، یعنی undeniable difference، موجود ہے۔ یہ تحقیقات واضح طور پر ثابت کر رہی ہیں کہ عورت اور مرد کی تخلیق میں فرق ہے، اور جب دونوں میں فرق ہے تو دونوں کا دائرہ عمل الگ الگ ہونا چاہیے۔ مگر جو لوگ لمبی مدت تک پچھلے خیال کے ساتھ وابستہ رہے ہیں، وہ ابھی اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ایک مغربی عالم نے کہا: "Whether these physiological differences destine men and women for separate roles in society is another and far more delicate question." کیا یہ عضویاتی فرق مردوں اور عورتوں کے لیے سماج کے اندر الگ الگ کردار مقرر کرتے ہیں؟
یہ ایک علیحدہ اور زیادہ پیچیدہ سوال ہے۔ Readers Digest, October 1981. اس سے پہلے امریکہ کے ایک اور ہفتہ وار میگزین، ٹائم، 20 مارچ 1976 عیسوی میں اس موضوع پر تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی۔ میگزین کے وسیع ادارتی اسٹاف میں 20 تعلیم یافتہ خواتین کو مقرر کیا گیا کہ وہ جدید امریکہ میں عورتوں کی حالت کا جائزہ لیں۔
انہوں نے ہر میدان میں اس کا جائزہ لیا، اور ہر شعبے کے ماہرین سے مدد لی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک مفصل رپورٹ تیار کی جو خصوصی نمبر کے طور پر مذکورہ میگزین میں شائع ہوئی۔ اس رپورٹ کا خلاصہ یہ تھا کہ سائنس کے تمام متعلقہ شعبوں کی تحقیق کے مطابق مرد جنس غالب، یعنی dominant sex ہے۔ ٹائم کی اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 100 سالہ جدوجہد کے باوجود امریکی عورت ابھی تک اسی مقام پر ہے جہاں وہ 100 سال پہلے تھی۔
مرد اب بھی عملاً امریکہ میں جنس برتر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی وجہ قدیم نظریے کے مطابق سماجی نہیں ہے، بلکہ تمام تر حیاتیاتی اور نفسیاتی ہے۔ مغرب میں آزادی نسواں کی تحریک 100 سالہ تجربے کے بعد اب اس رائے پر پہنچی ہے کہ حیاتیاتی حقائق عورت کو مرد کے برابر مقام دینے میں رکاوٹ ہیں۔ یہ قدرت کا ظلم ہے، نہ کہ سماج کا ظلم۔
اس لیے اب ان کا مطالبہ یہ ہے کہ سائنس آف یوجینکس کے ذریعے رحمِ مادر میں جینیٹک کوڈ کو بدل دیا جائے، اور اس طرح نیا حیاتیاتی نظام وجود میں لایا جائے، جس میں نئے قسم کی عورتیں پیدا ہوں، اور مردوں کی برتری ختم ہو کر یکساں صنفی صلاحیت کا سماج بن سکے۔ یہ تجویز ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص بطور خود یہ نظریہ قائم کرے کہ مچھلی اور بکری دونوں ایک ہی صنف سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے مچھلی کو بھی دودھ دینا چاہیے جس طرح بکری دودھ دیتی ہے۔ اور جب کوشش کے باوجود مچھلی دودھ نہ دے تو وہ کہے کہ ہم میڈیکل سائنس کے ذریعے نئی قسم کی مچھلیاں پیدا کریں گے جو بکری کی مانند دودھ دینے لگیں۔ کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 105۔