← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Maghribi Aurat
Urdu · 80 min
مغربی عورت ٹائم مشہور امریکی ہفتہ وار میگزین ہے۔ اس کی ہر اشاعت میں کسی خصوصی موضوع پر تفصیلی رپورٹ ہوتی ہے۔ اس کی 20 مارچ 1972 کی اشاعت میں "امریکی عورت" سے متعلق معلومات درج ہیں۔ اس رپورٹ کو میگزین کے وسیع ادارتی اسٹاف کی 20 خواتین نے خصوصی جدوجہد سے مرتب کیا ہے۔
پرچے کا بیشتر حصہ اسی موضوع پر مشتمل ہے۔ پرچے کے ہر شعبے کے ماہرین نے اس کی تیاری میں حصہ لیا ہے۔ یہاں اس تفصیلی رپورٹ کے کچھ اجزاء کا ترجمہ درج کیا جاتا ہے: امریکہ کی جدید عورت پر تقریباً ایک صدی گزر چکی ہے۔ 1898 میں اسکاٹ لینڈ کے سیاح مائر ہیڈ نے لکھا تھا کہ مرد یہاں عورت کے مقابلے میں جنس برتر کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ وہی سارے محنت کے کام کرتا ہے۔
مگر جدید نسوانی تحریک کے علمبردار کہتے ہیں یہ ستم ظریفی ہے کہ اسکاٹ لینڈ کے سیاح نے سو برس پہلے جو بات کہی تھی وہ اب بھی باقی ہے: اب بھی عورتیں ہی ہیں جو محکوم ہیں۔ صفحہ 15۔ امریکی خواتین میں آج کل ایک نئی تحریک چل رہی ہے جس کو "نئی نسوانیت" کہا جاتا ہے۔ یہ اس بے چینی کا مظہر ہے جو آج کل امریکہ کی عورتوں میں پائی جاتی ہے۔
امریکی عورت کو آج تاریخ میں سب سے زیادہ خوش ہونا چاہیے۔ تعلیم، لباس، سامانِ عیش، ہر چیز میں آج وہ پہلے سے زیادہ حصہ پائے ہوئے ہیں۔ مگر اس سبب مگر اس سیب میں ایک کیڑا پڑ گیا ہے۔ وہ خاندانی ذمہ داریوں سے پریشان ہے۔
وہ ایک ایسی زندگی چاہتی ہے جس میں بچہ، باورچی خانہ، چرچ، ان چیزوں کا کوئی دخل نہ ہو۔ اگرچہ ایک بڑا طبقہ ایسا موجود ہے جو یہ کہتا ہے کہ عورت کا مقام مرد سے مختلف ہے، مگر بہت سی عورتیں اس سے اتفاق نہیں کرتیں۔ نئی نسوانی تحریک نے ایسی نوجوان عورتوں کی تعداد بہت بڑھا دی ہے جنہوں نے طے کیا ہے کہ وہ شادی نہیں کریں گی اور تنہا رہیں گی۔ ایک امریکی جریدہ "سائیکالوجی ٹوڈے" کے ایک سوال نامے کے جواب میں 51% مردوں نے کہا کہ امریکی سماجی عورتوں کا استحصال اسی طرح کرتا ہے جس طرح کالے نیگروں کا۔
ایک سیاست دان، کلیئر یوتھ لوس، نے کہا کہ امریکی عورت نے جب 1920-30 میں ووٹ کا حق حاصل کیا اور کالج جانا شروع کیا تو اس وقت عورتوں نے سمجھ لیا کہ لڑائی جیتی جا چکی ہے۔ انہوں نے ایک بہادرانہ آغاز شروع کیا۔ وہ گھروں سے باہر نکلیں اور ملازمتوں میں اپنی جگہ بنانا شروع کیا۔ مگر ابھی تک انہوں نے امریکی زندگی میں کوئی اہم جگہ حاصل نہیں کی۔
امریکی عورت آج کہاں ہے؟ جواب یہ ہے کہ اعداد و شمار کی زبان میں، پہلے کے مقابلے میں 106 ملین زیادہ مضبوط ہے۔ وہ قومی ملازمتوں کے دو تہائی سے زیادہ حصے پر قابض ہے۔ لیکن ڈیپارٹمنٹ آف لیبر کے ایک سروے کے مطابق امریکی عورت عام طور پر مرد کے مقابلے میں کم مہارت اور کم تنخواہ کے کام کرتی ہے۔
کئی ملازمتوں میں وہ ایک ہی کام کے لیے مساوی تنخواہ نہیں پاتی۔ کسی کارخانے میں چٹنی ہو تو اس کا حال کالوں کا سا ہوتا ہے۔ اس کو سب سے پہلے نکال دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ شادی کا عدم استحکام اور طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح ہے۔
1964 میں لندن جانسن نے صدارتی حکم جاری کیا کہ عورتوں کو زیادہ سے زیادہ سرکاری ملازمتیں زیادہ سے زیادہ سرکاری ملازمتوں میں لیا جائے۔ 1967 میں فیڈرل سول سروس نے مکمل اعداد و شمار شائع کیے جس میں عورتوں کا تناسب بتایا گیا تھا۔ اونچے اسکیل کی سرکاری ملازمتیں جن کی تنخواہ 28,000 ڈالر سالانہ سے شروع ہوتی ہے، اس کے مطابق 1966 میں صرف 176% عہدے عورتوں کے پاس تھے۔ صدر نکسن نے وعدہ کیا کہ وہ زیادہ عورتوں کو سرکاری محکموں میں لیں گے، حتیٰ کہ انہوں نے عورتوں کی بھرتی کا ایک شعبہ وائٹ ہاؤس میں کھول دیا۔
مگر واشنگٹن کی عورتیں مشکل ہی سے اونچے سرکاری عہدوں پر پہنچ پاتی ہیں۔ یہاں کوئی عورت کبھی سپریم کورٹ کی جج نہ بن سکی۔ صرف دو عورتیں ہیں جنہیں امریکہ کی تاریخ میں کابینہ میں بیٹھنے کا موقع ملا ہے۔ اس وقت صرف ایک عورت امریکی سینٹ میں ہے اور 11 عورتیں ہاؤس آف ریپریزنٹیٹیو میں۔
نیویارک واحد اسٹیٹ ہے جہاں ایک خصوصی ویمنز ایڈوائزری یونٹ برائے گورنر قائم ہے۔ مگر اس کا بھی حال یہ ہے کہ اس کی سیاہ فام خاتون صدر نے کہا ہم تو صرف ایک علامتی ایجنسی ہیں۔ صفحہ 18۔ خاتون نے مزید کہا نیویارک اسٹیٹ گورنمنٹ میں 63 علیحدہ ایجنسیاں ہیں۔
ان میں سے صرف 13 ایسی ہیں جن میں سیکریٹری سے اوپر کا کوئی عہدہ کسی عورت کو ملا ہے۔ پورے امریکہ میں صرف چند خاتون میئر ہیں۔ پورے امریکہ میں صرف چند خاتون میئر ہیں۔ آخری اسٹیٹ گورنر البامہ میں تھی جس کا نام لورلین ویلس تھا۔
لورلین ویلس تھا۔ 50 ریاستوں کے لیجسلیچر اداروں میں مجموعی طور پر 7,000 ممبران ہیں جن میں صرف 340 عورتیں ہیں۔ ان میں سے چند ہی ایسی ہیں جو کوئی اثر رکھتی ہیں۔ مردوں کی اس دنیا میں عورتیں اب بھی صرف ایک روایتی درجہ رکھتی ہیں۔
وہ صرف ایسے شعبوں میں جوش و خروش سے لی جاتی ہیں جو عورتوں پر انحصار رکھتے ہیں جیسے فیشن یا ایکٹنگ۔ جیسا کہ کلیئر لیوس نے کہا ہے اقتدار، روپیہ اور جنس آج امریکہ کی تین سب سے بڑی خدریں ہیں۔ اور عورتیں اقتدار تک کوئی پہنچ نہیں رکھتیں سوائے اپنے شوہروں کے ذریعے۔ وہ روپیہ حاصل کرتی ہیں تو زیادہ تر جنس کے ذریعے، خواہ جائز ہو یا ناجائز۔
صفحہ 18۔ نسوانی انقلاب اگر سادہ طور پر یہ چاہتا کہ ایک کارفرما طبقے کی جگہ دوسرے کو کارفرما بنا دے، اگر وہ کلی طور پر نسوانی غلبے کو اپنا مقصد بناتا تو منزل شاید آسان ہوتی۔ برابری کا مطالبہ نہ کہ غلبے کا، انتہائی طور پر پیچیدہ ہے۔ خود مختار شرکاء کے درمیان سچی برابری حاصل کرنا ایک دشوار امر ہے، خواہ دونوں ایک ہی جنس کے کیوں نہ ہوں۔
رول اور ذمہ داریوں اور حقوق کا محتاط توازن بغیر روایتی ڈھانچے کے جو اس کی پشت پناہی کرے، بعض اوقات بالکل خیالی معلوم ہوتا ہے۔ تقریباً ہر شخص نئی تحریک نس تقریباً ہر شخص نئی تحریک نسوانیت کے بعض بنیادی مقاصد کی حمایت کرتا ہے: یکساں کام کے لیے، یکساں تنخواہ، یکساں روزگار کے مواقع، یکساں قانونی سلوک۔ مگر ان چیزوں کا حصول اس سے زیادہ گہری تبدیلیوں کا طالب ہے جو نسوانی تحریک کے حامیوں نے ابتدا فرض کیا تھا۔ عورتوں کے اوقات کار اور کام کے شرائط کے لیے تحفظاتی قانون سازی کی ضرورت ہے۔
پھر بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ امریکی عورت کو دوبارہ گڑیا گھر میں زبردستی لوٹایا جا سکے۔ وہ حیرت انگیز حد تک برے ہیں مگر وہی حقیقتاً عورتوں کے محافظ ہیں۔ جینی نے مردوں کے بارے میں کہا جینی نے بلیو بلوپرنٹ ریڈنگ اور میتھمیٹکس میں مہارت حاصل کی جب اس نے نیوٹن کی ایک المونیم کمپنی میں ایک ملازمت کے لیے درخواست دی تو حسب امید اس کو جواب ملا۔ کیا واقعی آپ اس درخواست میں سنجیدہ ہیں؟
میں نے جہاں بھی کام تلاش کیا مجھ کو مردانہ ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری خاتون بیٹی جیکسن 15 سال کی عمر کی تھی کہ اس کے یہاں ایک ناجائز بچہ تولد ہو گیا۔ اس صدمے کے بعد اس کی ماں مر گئی اور بیٹی جیکسن کی ساری امید امیدیں ختم ہو گئیں۔ آج وہ سات ناجائز بچوں کی ماں ہے۔
گیس اور بجلی کا بل میری طاقت سے باہر ہے۔ میں ایک گندی گلی میں ایک ایسے گھر میں رہتی ہوں جہاں گرم پانی نہیں۔ چوہے اور چیونٹے ہر طرف دوڑتے رہتے ہیں۔ ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ ماہانہ 92 ڈالر اس کو دیتا ہے اور مزید 128 ڈالر وہ دوسرے ذرائع سے کماتی ہے۔
مگر یہ رقم اس کی ناگزیر ضروریات کے لیے بھی کافی نہیں۔ ٹیلی فون، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور دوسرے سامان تعیش کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ میری زندگی بے معنی ہے۔ مائی لائف از میننگ لیس۔
اس نے کہا اب اس کی 19 سالہ لڑکی نے ایک ناجائز بچہ جنا ہے جس نے اس کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ آزادی نسواں کی تحریک کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ٹائم کے نامہ نگار نے اس سے پوچھا۔ مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔
اور مذہب میں چرچ نہیں جاتی۔ وہ سب ڈاکو وہ سب ڈاکو ہیں۔ میں گھر پر عبادت کر سکتی ہوں اور خدا یقینا سنے گا۔ میرے پاس چرچ کو ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں۔
اس کے خیالات کا خلاصہ یہ تھا کہ مجھے زندہ رہنے کے لیے جگہ چاہیے اور بس۔ آئی جسٹ نیڈ سم سپیس ٹو سروائیو۔ گلیگن یعنی تارل گلیگن کی شادی 1944 میں ہوئی۔ تعلیم کے بعد اس نے کچھ دن کام کیا۔
اب اس نے باہری دلچسپیاں ترک کر دی ہیں تاکہ وہ گھر پر زیادہ سے زیادہ وقت گزار سکے۔ 52 سال کی عمر میں اب بھی وہ صبح ساڑھے چھ بجے اٹھ جاتی ہے تاکہ اپنے شوہر کا ناشتہ تیار کرے اور بچوں کو تیار کر کے وقت پر اسکول بھیج سکے۔ وہ بہت خوش ہوتی ہے جب اس کا شوہر اس کو اپنا سب سے بڑا سرمایہ کہتا ہے۔ اس کا کہنا ہے میں سب سے پہلے اپنے خاندان اور اپنے شوہر کے کام کو ترجیح دیتی ہوں۔
اس کے بعد میں دوسری چیزوں کے لیے کام کرتی ہوں۔ لاریٹا کبھی برج نہیں کھیلتی اور اتفاقا کبھی فیشن شو میں جاتی ہے۔ اس کی زیادہ تر سوشل زندگی شوہر کے بزنس کے گرد گھومتی ہے۔ ماں بننا اور گھر بنانے میں مشغول ہونا بڑا دلچسپ مشغلہ ہے۔
سیوزیان یعنی سیوزیان ساپی عمر 23 سال شادی شدہ ہونے پر خوش ہے مگر وہ اولاد نہیں چاہتی۔ اگر کبھی ایسا ہو تو میں اس خات کو پسند کروں گی۔ مجھے بچے پسند نہیں۔ بچوں کو اس قابل بنانا کہ وہ وقت کے مسائل کا مقابلہ کر کے زندہ رہ سکیں بڑا مشکل کام ہے اور وقت اور قوت چاہتا ہے۔
میں اس جھنجھٹ میں پڑنا نہیں چاہتی۔ اس نے ارادہ کیا تھا کہ وہ اپریشن کروا لے مگر پھر رک گئی کیونکہ جسمانی اور نفسیاتی رد عمل کا خطرہ تھا۔ وہ کہتی ہے اگر آپ ایک کام کرنے والی عورت ہیں تو آپ کس طرح بچوں کی نگہداشت کر سکتی ہیں؟ اگر ایک عورت کے ایک بچہ ہو تو کم از کم ایک سال ورنہ دو یا تین سال تک اس کو پوری طرح اس میں مشغول ہونا پڑے گا۔
نورین یعنی نورین کیلیگین اس خط کے خلاف ہے۔ یہ تو قتل ہے۔ اس کو تردد ہے کہ کچھ عورتیں مرکز تحفظ اطفال کو بچوں کی پرورش کا بدل سمجھتی ہیں۔ وہ آزادی نسواں سے ہمدردی رکھتی ہے مگر اس کا کہنا ہے کہ عورتیں اگر ساری سرگرمیوں میں شریک ہوں تو مردوں کی طرح ہو جائیں گی اور یہ اچھا نہیں ہوگا۔
ہیوبر یعنی مری کا ہیوبر جب میں ہائی سکول میں تھی تو میری سب سے بڑی منزل شادی تھی۔ اگرچہ وہ اتنا ہی سخت کام کرتی ہے جتنا اس کا شوہر مگر جب وہ شوہر کے مقابلے میں اپنی حیثیت پر غور کرتی ہے تو وہ محسوس کرتی ہے کہ مرد کو غالب جنس ہونا چاہیے۔ وہ پورے یقین کے ساتھ کہتی ہے میں چاہتی ہوں کہ میرے شوہر کو یہ احساس ہو کہ وہ گھر کا بڑا ہے۔ ہم مل جل کر فیصلے کرتے ہیں مگر میں سمجھتی ہوں کہ آخری حرف اسی کا ہونا چاہیے۔
دیشیا ایک نہایت سرگرم عورت ہے۔ اس نے جو زندگی بنائی ہے اس پر اس کو فخر ہے۔ شادی شدہ ہونا اور ایک فیملی کا مالک ہونا میرے لیے سب سے اہم چیزیں ہیں۔ میں اپنی زندگی پر بہت خوش ہوں۔
ینگ یعنی لین ینگ ایک 33 سالہ خاتون ہے۔ اس نے طے کیا ہے کہ وہ شادی نہیں کرے گی۔ میں سرجن بننا چاہتی تھی اس نے کہا مگر ایک دوست ڈاکٹر نے اس ارادے کی حوصلہ شکنی کی۔ اس نے بتایا یہ پیشہ بہت سخت ہے اور عورت کے بس کا نہیں۔
بہت سی عورتیں اپنے اپنے کو شوہر کے بغیر محفوظ نہیں سمجھتی مگر یہ شادی کرنے کی بہت بےہودہ وجہ ہے۔ صفحہ 22 ایلز میں اپنے شوہر کو اے بی کہتی ہوں یعنی مغرور نمک حرام اور وہ واقعہ ہے مگر وہ مضبوط اور غالب ہے اور میں اس کو پسند کرتی ہوں۔ جب مجھے یونیورسٹی میں ایک ملازمت ملی تو اس نے کہا جاؤ مگر میں چاہتا ہوں کہ میرے موزے دھلے ہوئے ہوں۔ عورتیں عورتوں کی آزادی نہیں چاہتی وہ صرف محبت چاہتی ہیں۔
تنظیم آزادی نسواں رسمی رسمی طور پر 1966 میں قائم ہوئی۔ آج وہ عورتوں کی سب سے طاقتور تنظیم ہے۔ اس کے ممبروں کی تعداد 18 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ بچوں کی پرورش سے لے کر اس خط حمل کے قانون میں اصلاح تک اس نے متعدد کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
آزادی نسواں کا خاص مقصد یکساں کام کے لیے یکساں تنخواہ ہے۔ ایک ایسی قوم میں جہاں عورتوں کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے، سیاسی نفوذ اور اقتصادی طاقت حاصل کرنے پر کوئی رکاوٹ نہیں۔ صفحہ 23 پچھلے سال صدر نکسن نے ایک بل کو وی ٹو کر دیا جو سرکاری اہتمام میں تحفظ اطفال مراکز کے قیام سے متعلق تھا۔ یہ ایک نہایت جامع منصوبہ تھا جس پر بالاخر سالانہ 30 ملین ڈالر خرچ ہوتا۔
یہ سرکاری بجٹ پر ایک غیر معمولی اضافہ تھا جو اس وقت بھی بہت بڑھ چکا ہے۔ اگر مائیں آزادانہ طور پر روزگار کے سلسلے میں مردوں کا مقابلہ کرتی ہیں تو بہرحال کوئی انتظام ہونا چاہیے جہاں وہ اپنے بچوں کو چھوڑ سکیں۔ معقول معاوضے پر جبکہ وہ کام کر رہی ہوں۔ تحریک نسواں سے زیادہ انقلابی لوگ اس پر مطمئن نہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ جنسی عمل میں ایسی تبدیلی کی جانی چاہیے کہ دونوں صنف پرانے طرز کے بندھنوں اور ذمہ داریوں سے آزاد ہو جائیں۔ یہ تصور کہ مرد کمانے والا فرد ہے اور عورت کا کام گھر سنبھالنا ہے۔ وہ کہتے ہیں فرسودہ ہے اور دونوں صنفوں کے لیے تباہ کن ہے۔ جدید نسوانی تحریک کے زیادہ انقلابی عناصر محسوس کرتے ہیں کہ ان کی راہ کی رکاوٹ صرف سماج نہیں ہے بلکہ اس سے بڑی رکاوٹ حیاتیاتی محدودیت ہے۔
چنانچہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سائنس اف یوجینکس کے ذریعے جینیٹک کوڈ کو اس طرح بدل دیا جائے کہ نئے قسم کے مرد اور نئی قسم کی عورتیں پیدا ہونے لگیں۔ خلاصہ یہ کہ یہ انتہا پسند لوگ چاہتے ہیں کہ عورت بشمول جنسی تعلقات مرد سے مکمل طور پر آزاد ہو جائے۔ جل جان جل جانسٹن کے نزدیک نسوانی تحریک درحقیقت اس بات کی تحریک کہ ہم جنسی کا طریقہ رائج کر دیا جائے یہ اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب کوئی عورتیں جنسی تقاضوں کے لیے مردوں کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں۔ صفحہ 24 ماسکو کے میگزین اسپٹنگ اکتوبر 1987 کے ایک مضمون کا عنوان ہے کیا باپوں کو ماں بننا چاہیے شوڈ ڈیڈیز بی ممیز اس کے مطابق ایک جرمن ڈاکٹر نے تبدیلی جنس یعنی سیکس چینج کا نظریہ پیش کیا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ عورت کی بچہ دانی کو نکال کر بذریعہ اپریشن مرد کے پیٹ میں نصب کر دیا جائے تاکہ مرد بھی بچہ پیدا کرنے کا کام کرے اور اس طرح دونوں صنفوں میں فطری عدم مساوات کو ختم کیا جا سکے۔ امریکہ میں خواتین کی ایک تنظیم ہے جس کی شاخیں امریکہ کی 42 ریاستوں میں قائم ہیں۔ اس کا موٹو یہ ہے عورتوں کافی نہ بناؤ پالیسی بناؤ۔ اس تنظیم کا مقصد عورتوں کو سیاست میں بھرپور شریک کرنا ہے۔
1960 کے صدارتی الیکشن میں عورتوں کے ووٹ کا بڑا حصہ جان کینیڈی کو ملا تھا۔ صفحہ 27 امریکہ کے مرد سیاست دان عورتوں کے مطالبات پورے کرنے میں چست رہے ہیں۔ مثلاً ایکساں کام کے لیے ایکساں تنخواہ طلاق اور اس خات کی اسانیاں ڈے کیئر سینٹر کا انتظام خاتون صدر مملکت کا تصور اب تک امریکہ میں مذاق سمجھا جاتا رہا ہے۔ مسز روزویلٹ نے 1934 میں کہا تھا ابھی ہم اس نوبت کو نہیں پہنچے کہ عوام کی اکثریت ایک عورت کی صدارت پر مطمئن ہو سکے۔
کیا اج امریکی ووٹرز اس نوبت کو پہنچ چکے ہیں؟ غالبا نہیں۔ حتی کہ وہ عورت کو وائس پریزیڈنٹ کی کرسی پر بھی نہیں دیکھ سکتے۔ حال میں ایک ازمائشی رائے شماری میں خود عورتوں کی بڑی تعداد نے امریکی مرد کی صدارت کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
اگر امریکہ میں کسی خاتون کے نائب اگر امریکہ میں کسی خاتون کے صدر یا نائب صدر ہونے کا امکان ہے تو یہ تعجب انگیز خبر صرف 2000 میں پیش ا سکتی ہے۔ مستقبل کی کسی خاتون امیدوار کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اس سے پہلے بڑی تعداد میں سرکاری خدمات انجام دے چکی ہو تاکہ ذمہ داری اور اقتدار کے عہدوں میں اس کی شخصیت عوام کے دماغ میں بیٹھ جائے۔ جیسا کہ اندرا گاندھی اور گولڈامیر اور گولڈا میئر کے ساتھ ہوا۔ اس کی ذات کو سیاسی طور پر معروف ہونا چاہیے نہ کہ جنسی طور پر۔
ووٹر لازما یہ چاہیں گے کہ خاتون امیدوار میں بھی وہی صفات ہوں جو وہ مرد میں دیکھتے ہیں۔ لیاقت حوصلہ لیاقت حوصلہ تجربہ استحکام ذہانت یہ افواہ کہ عورتیں صلاحیت میں کمتر ہوتی ہیں اس سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دو سال پہلے سرجن ایڈگر برمن کا ایک بیان عورتوں کے حلقے میں بڑی خفگی کا سبب ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ عورتیں اپنی ہارمون کیمسٹری کی وجہ سے اقتدار کے مناسب کے لیے جذباتی یعنی ایموشنل ہو سکتی ہیں۔
مسز بربچ ایک عالم فلکیات ہیں مگر انہیں شکایت ہے کہ مردوں کے تسلط والی دنیائے سائنس میں انہیں ان ان کی صحیح جگہ نہ مل سکی۔ امریکہ میں کام کرنے والوں کے درمیان عورتوں کی تعداد 40 فیصد ہے مگر امریکہ کے تین لاکھ پچاس ہزار سائنس دانوں میں خاتون سائنس دانوں کی تعداد صرف 10 فیصد ہے۔ ڈاکٹریٹ کی ڈگری یافتہ خواتین مردوں کے مقابلے میں بہت کم ہے اس لیے وہ اعلی سائنسی عہدوں پر بہت کم پہنچ پاتی ہیں۔ مثلاً نیشنل اکیڈمی اف سائنس کے منتخب ممبروں کی تعداد 800 سے زیادہ ہے جس میں خواتین صرف نو ہیں۔
سائنس کا نوبل پرائز پانے والے 278 لوگوں میں صرف چھ عورتیں شامل ہیں۔ حال میں عورتوں کے سلسلے میں رجحان میں کچھ تبدیلی ہوئی ہے مگر یہ صورتحال اب بھی باقی ہے کہ وہ مردوں کے مقابلے میں نسبتا چھوٹے درجے کے عہدوں کے لیے منتخب کی جاتی ہیں۔ صفحہ 20 کیا عورتیں غیر متغیر طور پر مردوں سے مختلف ہیں؟ کیا عورتیں غیر متغیر طور پر مردوں سے مختلف ہیں؟
ازادی نسواں کے علمبرداروں کا یقین ہے کہ جسمانی پہلو کو چھوڑ کر جتنے بھی فرق ہیں وہ سب سماجی حالات کے پیدا کردہ ہیں۔ دوسرے نقطہ نظر کے حاملین کا کہنا ہے کہ ہر قسم کے فرق جین کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ جین کے اندر صنفی میلان ہونا تین مشاہدات سے اخذ کیا گیا ہے۔ پہلی چیز مارگریٹ میڈ کے الفاظ میں تہذیبی عالمگیریت تقریبا ہر جگہ یہ مثال ملتی ہے کہ ماں بچے کی نگہداشت کی ذمہ دار ہے اور مرد کا غلبہ مسلمہ طور پر رائج ہے۔
علم الانسان کے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ عورتوں کے غلبے کا سماج بھی دنیا میں کبھی کبھی پایا گیا ہے مگر دوسرے اس کا قطعا انکار کرتے ہیں۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ زمین پر پائے جانے والے بیشتر حیوانات میں نر ہی غالب ہوتا ہے۔ وہ مادہ اور بچوں کی حفاظت کرتا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ صورتحال اس وقت بھی باقی رہتی ہے جبکہ کسی جانور کے بچوں کو شروع ہی میں الگ کر کے پرورش کی جائے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنا صنفی عمل اپنے معاشرے سے نہیں سیکھتے۔ اخری بات یہ ہے کہ کرداری صنفی فرق بچپن میں اس سے بہت پہلے ظاہر ہو جاتا ہے جبکہ ایک بچہ امکانی طور پر ماں اور باپ کا فرق سمجھتا ہو یا یہ جان سکے کہ والدین میں سے کس کی اسے نقل کرنی چاہیے۔ ایک سائنس دان نے کہا ہے کہ زیادہ بہتر مفروضہ یہ ہے کہ ہم یہ مانیں کہ صنفی فرق کے پیچھے حیاتیاتی عوامل کام کر رہے ہیں۔ طبیعیاتی فرق پیدائش سے بھی پہلے ظاہر ہو جاتے ہیں۔
بچہ جب ابتدائی حالت میں رحم کے اندر ہوتا ہے اس وقت دیکھا گیا ہے کہ بچی کا دل اکثر زیادہ تیزی سے دھڑکتا ہے۔ ایک سوشیالوجسٹ نے کہا ہے کہ عورت زیادہ بہتر تخلیق کا نمونہ ہے۔ مرد زیادہ طاقتور اور متحمل ہو سکتے ہیں مگر یہ ٹیکنالوجیکل سماج میں زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ حالیہ تحقیقات بتاتی ہیں کہ عورتوں اور مردوں کے دماغ میں بھی صنفی فرق ہو سکتے ہیں۔
کچھ تجربہ کرنے والوں کے نزدیک رحم کے ابتدائی جرسومے کے اندر مردانہ ہارمون کی موجودگی اس کے دماغ کو جنس مذکر بنانے کا سبب ہو سکتی ہے۔ پیدائش سے پہلے مرکزی اعصابی نظام میں یہ جنسیت مردوں اور عورتوں کے اندرونی احساسات میں فرق پیدا کر سکتی ہے۔ سوشیالوجسٹ جان گیگنن کا کہنا ہے درحقیقت بعض حالات میں نومولود لڑکیاں مختلف قسم کے تاثرات ظاہر کرتی ہیں۔ ان کو چھوا جائے یا ان کے اوپر سے کپڑا ہٹایا جائے تو بہت تیزی سے ان پر اس کا رد عمل ظاہر ہوتا ہے۔
مزید یہ کہ تجربات بتاتے ہیں کہ 12 ہفتے کی لڑکیاں جیومیٹری کے اشکال کے مقابلے میں چہروں کی تصویروں کو زیادہ دیر تک دیکھتی ہیں۔ لڑکے اس قسم کا فرق نہیں کرتے اگرچہ بالاخر وہ جیومیٹری کی اشکال کو زیادہ متوجہ ہو کر دیکھتے ہیں۔ تجربہ کیا گیا ہے کہ اگر کھیل کے ٹکڑوں سے گھر بنانے کے لیے کہا جائے تو 10 سے 12 سال کی لڑکیاں گھر کے اندرونی حصے کو عمدہ بنانے کی کوشش کرتی ہیں جبکہ اسی عمر کے لڑکے گھر کے بیرونی حصے کو عمدہ بنانے پر زیادہ توجہ صرف کرتے ہیں۔ علمائے حیاتیات کا خیال ہے کہ یہ فرق دونوں صنفوں کے درمیان جنینی فرق کی بنا پر ہو سکتا ہے۔
صفحہ 32 لڑکیاں لڑکوں کے مقابلے میں گننا یا بولنا زیادہ جلد سیکھ لیتی ہیں مگر جبکہ لڑکیاں لفظی معاملے میں لڑکوں سے اگے تجزیاتی سوالات کو حل کرنے میں لڑکوں سے پیچھے رہتی ہیں۔ ایسے سوالات جو زیادہ توجہ طلب ہوتے ہیں۔ مختلف قسم کے ٹیسٹوں سے ثابت ہوا ہے کہ عورتیں مردوں کے مقابلے میں کم تخلیقی ہوتی ہیں۔ اکثر سوشل سائنٹسٹ خیال کرتے ہیں کہ اس کی وجہ کلچر ہے۔
عورتوں اور مردوں میں شخصیت کا فرق بھی پایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر نیویارک یونیورسٹی میں ریسرچ کرنے والوں نے دیکھا کہ ایک لڑکی اگر بوتل پینے میں مشغول ہے اگر مثال کے طور پر نیویارک یونیورسٹی میں ریسرچ کرنے والوں نے دیکھا کہ ایک لڑکی اگر بوتل پینے میں مشغول ہو تو اس وقت پینے سے رک جاتی ہے جبکہ کوئی شخص کمرے میں اتا ہوا نظر ائے جبکہ ایک لڑکا کسی انے والے پر کوئی دھیان نہیں دیتا۔ اسی طرح کاگن کے تجربے میں پایا گیا ہے کہ 12 ماہ کی لڑکیاں کسی اجنبی کمرے میں ہوں اور انہیں خوفزدہ کیا جائے تو وہ اپنی ماؤں کی طرف بھاگتی جبکہ اس عمر کے لڑکے کچھ کرنے کی راہ ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ اسی طرح چار ماہ کی لڑکیاں کسی لیبارٹری میں خوفزدہ کی جائیں تو وہ اسی عمر کے لڑکوں کے مقابلے میں دگنا زیادہ روتی چلاتی ہیں۔
مزید یہ کہ یہی فرق بندر کے بچوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ چنانچہ گوگن نے کہا ہے یہ واقعہ ہم کو یہ ماننے پر مجبور کرتا ہے کہ مردوں اور عورتوں میں بعض نفسیاتی فرق کا امکان محض معاشرتی تجربات کی بنا پر نہیں ہو سکتا بلکہ وہ لطیف قسم کے حیاتیاتی فرق کی پیداوار ہے۔ ایموٹبلی ڈفرنٹ اور وومن ایموٹبلی ڈفرنٹ فرام مین وومنز لبریشنسٹ بیلیو دیٹ اینی ڈفرنسز ادر دین اناٹومیکل ار رزلٹ اف کنڈیشننگ بائی سوسائٹی اپوزنگ ویو از دیٹ ال اف دا ڈفرنسز ار فکسڈ ان دا جینز پیج 43 مینی ریسرچرز ہیو فاؤنڈ گریٹر ڈیپینڈنس اینڈ ڈوسیلیٹی ان ویری ینگ گرلز گریٹر اٹونمی اینڈ ایکٹیوٹی ان بوائز وین اے بیریئر از سیٹ اپ ٹو سپریٹ ینگسٹرز فرام دیر مدرز بوائز ٹرائی ٹو ناٹ اٹ ٹو ناٹ اٹ ڈاؤن گرلز کرائی ہیلپ لیسلی پیج 44 سرجن ایڈگر برمن ارن لو پلیس ان دا بیسٹیری اف وومنز لبریشن وین ہی سجیسٹڈ دیٹ بیکاز اف دیر ہارمونل کیمسٹری وومن مائٹ بی ٹو ایموشنل فار پاور پیج 34 بیٹر ایجوکیشن ہیز براڈن وومنز ویو بیونڈ ہوم اینڈ ہیلتھ اینڈ ہاتھ ہیٹننگ دیر اویرنس اف پوسیبلیٹیز اینڈ دیر سینس اف فرسٹریشن وین دوز پوسیبلیٹیز ار ناٹ ریلائزڈ ایز ٹوائن بی ہیڈ نوٹڈ ارلی مڈل کلاس وومن اکوائرڈ ایجوکیشن اینڈ اے چانس ایٹ اے کیریئر ایٹ دا ویری ٹائم شی لاسٹ ہر ڈومیسٹک سرونٹس اینڈ ان پیڈ ہاؤس ہولڈ ہیلپ اف ریلیٹوز لیونگ ان دا اولڈ لارج فیملی شی ہیڈ ٹو بیکم ائیدر اے ہاؤس ہولڈ ڈریج اور کیری دا انٹالریبلی ہیوی لوڈ اف ٹو سائملٹینیس فل ٹائم جابز پیج 27 ایون افٹر انفینسی سکسیس شو ڈفرینشن انٹرسٹ ڈیٹ ڈو ناٹ سیم ٹو گرو سولی اؤٹ ایکسپیرینس سائیکو سائیکو اونلسٹ ایرک ایرکسن ہیز فاؤنڈ دیٹ بوائز اینڈ گرلز ایجڈ 10 ٹو 12 یوز سپیس ڈفرنٹلی وین اسکڈ ٹو کنسٹرکٹ اے سین ود ٹوائز گرلز افن بلڈ اے لو وال سم ٹائمز ود این ایلابوریٹ ڈور وے سراؤنڈنگ ایکویٹ انٹیریئر سین بوائز ار لائکلی ٹو کنسٹرکٹ ٹورڈز فساد ود کیننز اینڈ لائیولی ایکسٹیریئر سینز پیج 43 ان اٹس موسٹ ریڈیکل لیول نیو فیمینزم ایٹ ٹائم سیمز ٹو کنسٹرکٹ ٹو کانسٹیٹیوٹ اینڈ اسوالٹ سم ٹائمز ایموشنل اینڈ فولش ناٹ جسٹ ان سوسائٹی بٹ ان دا لیمیٹیشنز اف بائیولوجی سم ارگیو دیٹ تھرو دا سائنس اف یوجینکس دا جینیٹک کوڈ کڈ بی الٹڈ ٹو پروڈیوس اے ڈفرنٹ کائنڈ اف مین اینڈ وومن پیج 30 ٹائم میگزین مارچ 20 1972 اکثر ریسرچ کرنے والوں نے پایا ہے کہ چھوٹی لڑکیوں میں انحصار کا مادہ زیادہ ہے اس کے برعکس چھوٹے لڑکوں میں سرگرمی اور خود مختاری زیادہ ہوتی ہے اگر بچوں اور ماں کے درمیان ایک روک کھڑا کر دیا جائے تو لڑکے اس کو ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ لڑکیاں بے یار و مددگار ہو کر چلاتی ہیں عورتوں کی انفعالیت ایک بحث کا موضوع رہا ہے اسی طرح دوسرا زیر بحث مسئلہ ہارمون کے اثر کا ہے اس سلسلے میں سائنٹیفک محققین کے نتائج سے زیادہ تر بعض خواتین نے اختلاف کیا ہے جو عورتوں کی انفعالیت یا ہارمون کے اثر کو ماننے کے لیے تیار نہیں جہاں تک سائنسی محققین کا سوال ہے انہوں نے تقریبا اجتماعی طور پر اتفاق کیا ہے کہ ہارمون ہی یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ لوگ کس طرح محسوس کریں اور کس طرح عمل کریں عورتوں میں جو بڑھتی ہوئی تاثر پذیری پائی گئی ہے اس کی بنا پر محققین کا خیال ہے کہ مردوں کے مقابلے میں عورتیں سخت حالات میں زیادہ جھجک والی ثابت ہو سکتی ہیں محققین بتاتے ہیں کہ تمام کلچر میں عورتوں کے مقابلے میں مرد زیادہ جارح پائے گئے یہ بھی غالبا دونوں صنفوں کے ہارمون میں فرق ہونے کا نتیجہ ہے یعنی اس کے پیچھے جنینی عامل کام کر رہا ہے بعضوں کا خیال ہے کہ عورتیں بھی مردوں ہی کی طرح جارح ہو سکتی ہیں البتہ ان کی جارحیت عملی کے بجائے لفظی ہوگی لڑکوں اور لڑکیوں کا یہ فرق اس وقت بھی موجود ہوتا ہے جبکہ وہ ابھی ماں کے پیٹ میں ہوتے ہیں کیا کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ صنفی مساوات کا سماج قائم ہو جائے جہاں مردوں اور عورتوں میں کوئی فرق نہ ہو ما سوا جسمانی فرق کے یہ بظاہر ناممکن معلوم ہوتا ہے ہارمون اور جارحیت کے بارے میں اخری تحقیق ابھی باقی ہے تاہم یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ میل ہارمون اور فیمیل ہارمون میں فرق ہے اور یہ فرق پیدائش سے پہلے بالکل اغاز حیات میں موجود رہتا ہے تجربات میں دیکھا گیا ہے کہ نر حیوانات کو اگر الگ کر کے رکھا جائے تب بھی وہ اخر تک جارح رہتے ہیں ماہر نفسیات بنڈک نے کہا ہے حیاتیات شخصیت پر سبقت لے جاتی ہے عورت کے مقابلے مرد میں غالب خصوصیات ہونا سابق تصور کے مطابق کلچر کے بجائے خود فطرت سے اس درجہ وابستہ ہے کہ مائیکل لوئس کے الفاظ میں قدرت ظالم ہے عورت کا رول بحیثیت گھر سطن ان کے حیاتیاتی عمل کا ایک ارتقائی نتیجہ ہے دودھ کی بوتل نے عورت کو اس کے بعض کاموں سے رہائی دے دی ہے مگر یونیورسٹی اف مشیگن کے عالم نفسیات بورڈ بارڈوک نے کہا بچے کی نگہداشت کی بڑی ذمہ داری اب بھی عورت ہی کے اوپر ہے حتی کہ روس اور دوسرے کمیونسٹ ممالک میں بھی کہا جاتا ہے کہ مادری مہارت زیادہ تر زیادہ تر اقتصابی چیز ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ اگر جانوروں کو تنہائی میں رکھا جائے اور اس کے بعد کسی ایسے کمرے میں ان کو لے جایا جائے جہاں ان کو نو کے بچے ہوں تو مادہ حیوانات ہی بچوں کے پاس جاتی ہیں اور ان کی دیکھ بھال میں لگ جاتی ہیں یہ حقیقت ہے کہ اگر جانوروں کو تنہائی میں رکھا جائے اور اس کے بعد کسی ایسے کمرے میں ان کو لے جایا جائے جہاں ان کو نو کے بچے ہوں تو مادہ حیوانات ہی بچوں کے پاس جاتی ہے اور ان کی دیکھ بھال میں لگ جاتی ہے جرام کیگن کہتا ہے عورت اور مرد کے حیاتیاتی فرق غالبا مکمل طور پر ختم کیے جا سکتے ہیں اور ایسا سماج بنایا جا سکتا ہے جس میں کسی صنف کو کوئی اہمیت نہ رہے سوا مادری ذمہ داری کے مگر ہمیں پوچھنا چاہیے کہ کیا ایسا سماج اس کے افراد کو مطمئن کر سکے گا اس کے نزدیک لین دین ہی وہ چیز ہے جو افراد کے درمیان تعلقات کو مستحکم اور پرمسرت بناتی ہے عالم نفسیات مارٹن سائمنڈ کہتا ہے بنیادی وجہ جس کی بنا پر صنفی اقسانیت ناکام رہے گی یہ ہے کہ خود جنسی عمل میں مرد دینے والا ہوتا ہے اور عورت قبول کرنے والی ہوتی ہے مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مرد اپنی اس حیثیت کو حاکمیت سمجھنے لگے اور عورتیں اپنی حیثیت کو ماتحتی صنفی اقسانیت ایک تباہ کن چیز ہے کیونکہ ایسے سماج میں کوئی کشاکش نہیں ہوگی جو انسان کے صحت مند ارتخاء کے لیے ضروری ہے اہم بات یہ ہے کہ فرق ہونا نقص کی بات نہیں عالم حیاتیات ایوان اسٹوائیڈ نے کہا ہے ہم سب انسانی وجود ہیں اور اس اعتبار سے برابر ہیں مگر سب یکساں نہیں دوسرے عالم حیاتیات جان منی کے نزدیک اپ صرف اس وقت صحیح عمل کر سکتے ہیں جبکہ مسلمہ فرق کو مانیں اور اس کا احترام کریں امریکہ میں عورتیں تعلیم کے میدان میں بہت اگے مگر وہ شعبے جو روایتی طور پر مردوں کے سمجھے جاتے رہے ان میں عورتوں کا تناسب بہت ہی کم ہے ہاورڈ یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر نے تحقیقات کے بعد بتایا ہے کہ اس کی بڑی وجہ عورتوں کا مقابلے سے گھبرانا ہے اس خاتون نے اپنے تجربات میں پایا کہ مرد مقابلے کے لیے پرجوش طور پر تیار رہتے ہیں جبکہ عورتیں اس کے لیے تیار نہیں پائی گئیں اس سلسلے میں اعداد و شمار بھی افسوسناک ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی عورت اج پہلے سے زیادہ مشقتوں میں مبتلا ہے عورتوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے پہلے یہ تھا کہ مرد اپنے اپ کو زیادہ ہلاک کرتے تھے مگر اب صورتحال برعکس ہو گئی ہے مثلا لاس اینجلس میں 1960 میں خودکشی کرنے والوں میں 35 فیصد عورتیں تھیں مگر 1971 میں ان کی تعداد 45 فیصد تک پہنچ گئی ونسن یونیورسٹی کے ایک جائزے میں بتایا گیا ہے کہ نفسیاتی علاج کے لیے رجوع کرنے والوں میں عورتیں مردوں کے مقابلے میں نسبتا زیادہ اضطراب اور حالات سے نہ لڑنے کی صلاحیت کی شکایت کرتی ہیں امریکی معاشرے کی ایک اور ایک اور چیز قابل ذکر ہے جس کو صنفی انقلاب کہا جاتا ہے امریکی معاشرے کی ایک اور چیز قابل ذکر ہے جس کو صنفی انقلاب کہا جاتا ہے نئی نسل کے لڑکے اور لڑکیاں شادی سے پہلے صنفی تعلقات کو برا سمجھنے کے بجائے اچھا خیال کرنے لگے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دوشیزگی کا احترام ختم ہو گیا ہے 1970 کے ایک گیلی پول میں چار میں تین طلباء نے شادی کے لیے دوشیزگی کو ناقابل لحاظ قرار دیا یونیورسٹی اف مینیسوٹا کے ماہر سماجیات نے پایا کہ 20 سال کی عمر تک کی عورتوں میں 40 فیصد اپنی دوشیزگی کھو چکی تھی اور شادی کے وقت 70 فیصد جنسی تجربہ کر چکی تھی انگریز عالم جنینیات جانسن کا کہنا ہے 1950 سے پہلے کا بوسہ اج کا جنسی عمل بن چکا ہے یونیورسٹی اف مشیگن کے ایک پروفیسر نے گولیوں کے جائزے میں پایا کہ وہ حمل کو روکنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی اور عام خیال کے مطابق وہ عورتوں کے لیے جنسی اجازت نامہ بن نہ بن سکی اکثر وہ ناجائز حمل میں مبتلا پائی گئی ہیں دوسرے شعبوں کے برعکس جرنلزم میں عورتیں بڑی تعداد میں پائی جاتی ہیں مگر اہم بات یہ ہے کہ ان کی بہت کم تعداد ملے گی جو اہم پوزیشن کی مالک ہو وہ یا تو رپورٹر ہیں یا ایڈیٹر ہیں ان کی بڑی تعداد یا تو ہفتہ وار اخباروں میں یا چھوٹے درجے کے روزناموں میں کام کرتی ہے جس میں تنخواہیں عام طور پر کم ہیں کوئی اخباری ادارہ یا کوئی اشاعتی تنظیم ایسی نہیں ہے جو عمومی ہو اور اس کی صدر کوئی خاتون ہو حالانکہ 1971 میں امریکہ کے جرنلزم اسکولوں کے طلباء میں 44 فیصد خواتین تھیں جبکہ 1950 میں ان کی تعداد 35 فیصد تھی امریکہ کے نیوز پیپرز میں خاتون ایڈیٹروں کی تعداد 35 فیصد ہے مگر یہاں بھی فرق پایا جاتا ہے امریکہ کے عظیم ادارہ ایسوسیٹڈ پریس میں سٹاف ممبر کی تعداد 1050 ہے جس میں صرف 112 عورتیں ہیں اور صرف دو عورتیں بیورو مینیجر ہیں یونائٹڈ پریس انٹرنیشنل کے ملازمین کی تعداد 900 ہے مگر ان میں عورتیں صرف 81 ہیں ان میں سے ایک عورت جنرل نیوز ایڈیٹر ہے نیویارک ٹائمز میں ایڈیٹروں رپورٹروں کاپی ریڈروں کی تعداد 626 ہے جس میں عورتیں صرف 64 ہیں واشنگٹن پوسٹ میں 385 میں 70 عورتیں ہیں یہی دوسرے بڑے اکثر اخبارات میں عورتیں کھانے فیشن ٹیلی ویژن اور خواتین سے متعلق خبروں پر مامور ہیں میگزینوں میں نسبتا عورتوں کی تعداد زیادہ پائی جاتی ہے ریڈیو اور ٹیلی ویژن میں بھی مردوں ہی کا غلبہ ہے صفحہ 37 تحریک نسواں کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ وہ تمام الفاظ جو مردوں کے غلبے کو ظاہر کرتے ہیں وہ سب مردوں کی ایجاد ہیں اور ان کو بالکل ختم کر دینا چاہیے یہ لوگ زبانوں کا نیا لغت تیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں مثلا مرد کے لیے مسٹر نکسن اور عورت کے لیے مسز نکسن کے بجائے دونوں کا الگ الگ نام لیا جائے اور مسٹر اور مس ان کے ناموں کے ساتھ لگایا جائے اسی طرح چیئرمین کے بجائے پرسن تحریک نسواں کے علمبردار کہتے ہیں کہ عورتوں کو اگر سماجی سرگرمیوں میں پوری طرح شریک کرنا ہے تو ان کے لیے چائلڈ ڈے کیئر سینٹر قائم کرنے ہوں گے جہاں وہ کام پر جاتے ہوئے اپنے چھوٹے بچوں کو چھوڑ سکیں امریکہ میں اس قسم کے سینٹر قائم کیے گئے ہیں جو ڈے کیئر سینٹر کہے جاتے ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ وہ بہت مہنگے ہیں اگرچہ کم امدنی والوں کے لیے 20 ڈالر فیس رکھی گئی ہے لیکن اگر ماں کی ماہانہ امدنی 600 ڈالر ہے تو اس کو چائلڈ کیئر سینٹر سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی تنخواہ کا تہائی حصہ یعنی 200 ڈالر بطور فیس دے دینا پڑے گا اس لیے تحریک نسواں والوں کا ایک بڑا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت اپنے خرچ پر اس قسم کے مراکز قائم کرے حکومت کی طرف سے جو ادارے قائم ہیں ان میں ایک بچے کے اوپر 400 ڈالر خرچ ہوتے ہیں سرپرستوں سے حقیقتا اس کا بہت تھوڑا سا جز وصول کیا جاتا ہے صفحہ 40 تحریک نسواں کے علمبردار شادی کے قدیم طریقے پر سخت تنقید کرتے ہیں شادی کا یہ طریقہ ان کے نزدیک ایک سردار یعنی شوہر اور ایک غلام یعنی بیوی کو جمع کرنے کا دوسرا نام ہے ڈاکٹروں کی کمی کو خواتین کی طبی تعلیم کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے مگر عجیب بات ہے کہ اس سلسلے میں تحقیق کرنے والوں نے مریضوں کے اندر ایک قسم کا تعصب پایا ہے ڈاکٹر ایڈگر اینگلمن نے نیویارک سٹی کے تین ہسپتالوں میں پانچ سو مریضوں سے سوالات کیے 84 فیصد عورتوں نے اپنے جواب میں مرد ڈاکٹر کو ترجیح دی اگرچہ ان کی نصف تعداد نے اعتراف کیا کہ خاتون ڈاکٹر مرد ڈاکٹر کے مقابلے میں زیادہ نرم اور باخلاق ہوتی ہے 54 فیصد نے بتایا کہ عورتیں مرد کے مقابلے میں کمتر صلاحیت کی ڈاکٹر ہوتی ہیں اگرچہ بعض کے نزدیک یہ جوابات مردانہ تسلط والے کلچر کا نتیجہ ہے ایک مریض نے کہا مرد ڈاکٹر کی واقفیت زیادہ ہوتی ہے وہ زیادہ سنجیدگی کے ساتھ دیکھتا ہے وہ اپنے ذہن کو پوری طرح مریض کی طرف لگاتا ہے جبکہ عورت کے لیے گھر کے مسائل ہوتے ہیں کیسے ممکن ہے کہ وہ گھر بھی بنائیں اور ڈاکٹر بھی بنے ایک مریض نے جواب دیا بعضوں نے اور بھی زیادہ سخت جوابات دیے جہاں تک سرجری کا تعلق ہے اس میں عورتیں تقریبا نفی کے برابر ہیں ایک خاتون ڈاکٹر نے کہا مردوں کی انا کی وجہ سے اب تک سرجری کے دروازے عورتوں کے اوپر بند ہیں خاتون سرجن کی سینکڑوں طریقے سے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے ایک خاتون میڈیکل طالبہ نے کہا اگر اپ کھڑے ہونے کے علاوہ کسی اور طریقے سے پیشاب کرنا چاہیں تو یہاں یہ ایک مسئلہ ہے میڈیسن مردوں کی دنیا ہے عورتیں ابھی حال میں اس میدان میں داخل ہوئی وہ ڈاکٹر کے بجائے زیادہ تر نرس کی حیثیت سے کام کرتی رہی دس سال پہلے امریکہ کے دو لاکھ 60 ہزار ڈاکٹروں میں عورتیں صرف چھ فیصد تھیں اب وہ چون تین لاکھ 45 ہزار ڈاکٹروں میں سات فیصد ہیں سرجنوں میں وہ صرف ایک فیصد ہیں جو اس پیشے میں سب سے زیادہ کمائی والا میدان ہے پبلک ہیلتھ فزیشن میں وہ 26 فیصد ہیں جن کی امدنی دیگر ڈاکٹروں کے مقابلے میں صرف اوسط درجے کی ہوتی ہے مگر اب خاتون ڈاکٹروں کی تعداد بڑھ رہی ہے دس سال پہلے 8300 میڈیکل طلباء میں خواتین کی تعداد 600 یعنی سات فیصد تھی 1968 میں ان کی تعداد نو فیصد ہو گئی صفحہ 43 عورت مرد کے مقابلے میں جنسی خیزی زیادہ ہے اس کو جبری مادریت اور نامطلوب حمل کا شکار ہونا پڑتا ہے اور یہ چیز اس کی ساری ازادیوں کو بے معنی بنا دیتی ہے جدید میڈیکل سائنس حیاتیاتی بندھن سے اس کو نکالنا چاہتی ہے اور بہت کچھ کامیاب بھی ہوئی ہے مگر مانے حمل گولیوں کے دیگر اثرات کا مسئلہ اب بھی باقی ہے اس کے علاوہ اب بھی دسیوں ہزار غیر مطلوب حمل رہ جاتے ہیں جن کے لیے اس خات کا سہارا لینا پڑتا ہے امریکہ کی 16 ریاستوں نے اس خات کے معاملے میں کسی حد تک عورت کو قانونی ازادی دے دی ہے اگرچہ ہر ریاست کے قانون میں کچھ نہ کچھ فرق ہے تاہم شخصی اختیار کا حق ہر ایک نے تسلیم کیا ہے صفحہ 44 امریکہ میں خواتین کے نصاب بنائے گئے ہیں اور ان کے تحت ادارے قائم کیے گئے ہیں جن کا مقصد ہے عورتوں کے شور کو اٹھانا کانشیسنس ریزنگ 1970 میں ہائی سکول سے فارغ ہونے والے طلباء میں لڑکیوں اور لڑکوں کی تعداد برابر تھی دونوں تقریبا 50 فیصد مگر لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں نے بہت کم ائندہ تعلیم کے لیے کالج میں داخلہ لیا 59 فیصد لڑکے 41 فیصد لڑکیاں اسی طرح عورتیں مردوں کے مقابلے میں نسبتا کم وظائف اور مالی امداد حاصل کر پاتی ہیں مردوں کے لیے سالانہ 760 ملین ڈالر اور عورتوں کے لیے 518 ملین ڈالر سکول کی تعلیم کے اگے یہ فرق اور زیادہ بڑھ جاتا ہے ڈاکٹریٹ کے مرحلے میں پہنچ کر مالی امداد میں عورتوں کا حصہ صرف 13 فیصد رہ جاتا ہے ابتدائی تعلیم میں 85 فیصد ٹیچر خواتین ہیں مگر ان اسکولوں کی پرنسپل صرف 21 فیصد عورتیں ہیں ہائی سکول میں خاتون پرنسپلوں کا تناسب صرف تین فیصد ہے اور اگر ایک عورت کالج کی صدر بننا چاہے تو اس کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اسے نن بننا چاہیے 1970 میں کالج اور یونیورسٹی کے شعبوں میں عورتوں کی تعداد 20 فیصد تھی مگر ان میں صرف نو فیصد پروفیسر تھیں عورتوں کی تنخواہ بھی مردوں کے مقابلے میں عام طور پر کم ہوتی ہے صفحہ 45 اکثر نوجوانوں کا یہ خیال ہے کہ عورتیں بے دماغ رفیق ہیں وہ صرف اس لیے ہیں کہ مردوں کی ضروریات پوری کریں ایک خاتون نے کہا مردوں نے ابھی تک نہیں سیکھا کہ وہ عورتوں کو ذہنی اعتبار سے اپنا مساوی سمجھیں صفحہ نمبر 46 اکثر خواتین کا خیال ہے کہ ایجوکیشن موجودہ شکل میں بے معنی ہے اگر کو ایجوکیشن کو ایکول بنانا ہے تو یونیورسٹیوں میں طلبہ اور طالبات کی تعداد کو مساوی بنانا ہوگا جو فی الحال ایک امکان بعید معلوم ہوتا ہے ٹیلی ویژن کے کارکنوں کی تعداد تقریبا 4500 ہے ان میں تخمینی طور پر سات میں سے دو عورتیں ہیں فلم کے شعبے میں نسبتا عورتوں کی تعداد زیادہ ہے مثلا ایک فلمی ادارے کے ہزار ممبروں میں سے 90 عورتیں ہیں مگر یہاں بھی بڑے بڑے عہدے مردوں کو حاصل ہیں پروڈیوسر اور ڈائریکٹر تو بہت ہی کم عورتیں ہیں صفحہ 48 امریکی سپریم کورٹ کی عمارت پر یہ فقرہ لکھا ہوا ہے قانون کے تحت ایکساں انصاف مگر امریکی عورت پر یہ الفاظ مشکل سے چسپاں ہوتے ہیں سپریم کورٹ میں کوئی خاتون جج نہ پہلے تھی نہ اب ہے سپریم کورٹ کے نو ججوں میں سے صرف ایک جج کے یہاں خاتون کلرک ہے فیڈرل اپیل کورٹ کے 97 ججوں میں صرف ایک خاتون جج ہے فیڈرل ڈسٹرکٹ کورٹ کے 402 ججوں میں چار کے سوا سب مرد ہیں پورے امریکہ میں تمام ججوں کی تعداد تقریبا دس ہزار ہے ان میں 200 کے قریب عورتیں ہیں کوئی اٹارنی جنرل خاتون نہیں فیڈرل سروس میں 93 ڈسٹرکٹ اٹارنی ہیں جو سب کے سب مرد ہیں قانون کے پیشے میں نسبتا عورتیں کافی ہیں جو عورتیں قانون کی تعلیم حاصل کرتی ہیں ان کے 17 سالہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ قانون دا عورتوں کی 84 فیصد تعداد پرائیویٹ پریکٹس کرتی ہے مگر خاتون وکلاء کی 12 فیصد سے کم تعداد ایسی ہے جس کی امدنی 20 لاکھ ڈالر سے اوپر ہے جبکہ مرد وکلاء میں ان کی تعداد 50 فیصد ہے تین لاکھ 25 ہزار وکیلوں میں خواتین کی تعداد نو ہزار ہے جو دو فیصد سے کچھ زیادہ ہے امریکن بار ایسوسی ایشن میں اج تک کوئی خاتون صدر نہ ہو سکی صفحہ 50 نفاذ قانون کے دائرے میں عورتیں زیادہ تر زیر نفاذ ہیں نہ کہ نفاذ کرنے والی پولیس میں خواتین نیچے درجے کی ملازمتوں میں ایک فیصد سے کچھ زیادہ ہیں گرٹروڈ شمل نیویارک کی پہلی پولیس کیپٹن ہے کیا وہ کسی عورت کے پولیس کمشنر بننے کی امید کر سکتی ہے اس سے پوچھا گیا صرف اس وقت جب کہ نیویارک میں پہلی خاتون میئر مقرر ہوگی اس کا جواب تھا امریکی عورت باہر کی تمام سرگرمیوں میں حصے دار بن رہی ہے وہ اپنا اکاؤنٹ تک الگ رکھتی ہے مگر باہر مردوں کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد جب وہ گھر لوٹتی ہے تو یہاں دوسری ذمہ داریاں اس کے استقبال کے لیے موجود رہتی ہیں اسے اپنے بچوں سے محبت ہے اور اگرچہ یہ اکثر اس کے لیے تکلیف دہ گھونٹ ثابت ہوتا ہے مگر وہ اس کے لیے تیار نہیں کہ بچوں کی دیکھ بھال کی اکثر ذمہ داریاں دوسروں کو سونپ دے اس کو اپنے شوہر سے بھی محبت ہے وہ ان کاموں کو کرنے سے انکار کی ہمت نہیں پاتی جو عام طور پر عورتوں کے کام سمجھے جاتے ہیں خواہ شادی کے وقت اس معاملے میں ازادی کا خول و خرار کیوں نہ ہو گیا ہو اس دوہری ذمہ داری کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کو سخت احساس ستاتا رہتا ہے کہ وہ کسی غلطی کا شکار ہے ارٹ میں عورتوں کا بڑا حصہ ہو سکتا ہے مگر ارٹ کی تاریخ میں جتنے نمایاں نام ہیں وہ سب مردوں کے ہیں اخر خواتین ارٹسٹ کہاں گئیں اس کا جواب تاریخ کے پاس خاموشی ہے ارٹ کے ایک مورخ کا کہنا ہے کہ کوئی بڑی خاتون ارٹسٹ پیدا ہی نہیں ہوئی صفحہ 54 کھیل کا میدان بھی مردوں کا میدان ہے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دوڑ کے مقابلے میں مرد عورتوں سے زیادہ تیز دوڑتے ہیں عورتوں کی کامیابیاں زیادہ تر ان کھیلوں میں ہیں جن میں عورتوں کا مقابلہ عورتوں سے ہوتا ہے مثلا ٹینس وغیرہ مسز کنگ اور مسز سمتھ نے کھیل کے میدان میں کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں مگر انہوں نے بھی اب تک کے بہترین ایک سو مرد کھلاڑیوں کا مقابلہ نہیں کیا ہے نیز ان دونوں عورتوں کو اپنی صنف کی وجہ سے مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ان خواتین کو اپنی مردانہ صفات باقی رکھنے کے لیے اس خات بھی کرانا پڑا ہے صفحہ 95 بلی جین کا کہنا ہے کہ اگر میرے یہاں بچہ ہو گیا تو ماں بن جاؤں گی اور پھر مجھے کھیل کی دنیا کو چھوڑ دینا پڑے گا تاہم میں اچھی ماں بننا پسند کرتی ہوں اس نے کہا دوسری خاتون کھلاڑی رابن شادی اور بچوں کے بارے میں سوچنا بھی پسند نہیں کرتی رابن نے گھر پر اپنی دلچسپی کے لیے چوہے پال رکھے ہیں وہ کہیں جاتی ہیں تو بیگ میں اپنے تین چوہے بھی رکھ لیتی ہے 1968 کے بعد سے کھیل میں انعام پانے والی عورتوں کی تعداد بڑھی ہے مگر اب بھی کامیاب کھلاڑی عورت کے مقابلے میں کامیاب کھلاڑی مرد کو زیادہ انعام ملتا ہے 776 قبل مسیح میں یونان میں پہلے کھیلوں کے مقابلے میں عورتوں کے لیے دیکھنا بھی ممنوع تھا 1896 میں انہیں چند کھیلوں میں شامل کیا گیا ہے امریکی عورت اج اقتصادی میدان میں کافی سرگرم ہے مگر فیڈرل سروے کے مطابق ہما وقتی کام میں عورت کی اجرت اوسطا تین ڈالر ہے جبکہ اسی کام میں مرد کو اوسطا پانچ ڈالر دیے جاتے ہیں اگر عورتوں کو مردوں کے برابر اجرت دی جائے تو اجرت کی مقدار 109 بلین ڈالر زیادہ ہو جائے صفحہ 62 اس سلسلے میں حکومت نے متعدد احکامات جاری کیے ہیں اور عدالتوں نے فیصلے دیے ہیں کہ عورتوں کو مساوی اجرت دی جائے اور ان سے امتیاز نہ برتا جائے ان میں ایسے فیصلے بھی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ عورتوں سے زیادہ کام نہ لیا جائے اور بھاری بوجھ نہ اٹھوائے جائیں یہ کہنا کہ عورتوں سے محنت کے کام نہ لیے جائیں گویا یہ تسلیم کرنا ہے کہ عورت صنف ضعیف ہے یہی وجہ ہے کہ یکساں قسم کے کام میں اس کو مرد سے کم اجرت ملتی ہے اس فرق کو مٹانے کے لیے قانون سازی کا ذریعہ اختیار کرنا عورت کے کیس کو رحم کا کیس بنا دیتا ہے مترجم ایک خاتون ہیلن میکلین نے کہا امریکہ نے جتنے مرد چاند پر بھیجے ہیں اس سے بھی کم عورتوں کو زمین میں انتظامی عہدوں پر رکھا گیا ہے ایک خاتون ہیلن میکلین نے کہا امریکہ نے جتنے مرد چاند پر بھیجے ہیں اس سے بھی کم عورتوں کو زمین میں انتظامی عہدوں پر رکھا ہے کیلیفورنیا کی پیسفک گیس اینڈ الیکٹرک میں جو عورتیں ملازم ہیں ان کی 94 فیصد تعداد کلرک اور سیکرٹری ہے مان ہٹنز ایوان پروڈکٹس کے دس ہزار کارکنوں میں تقریبا نصف عورتیں ہیں مگر اس نے صرف 14 عورتوں کو انتظامی عہدوں تک ترقی دی ہے وائس پریزیڈنٹ یا اس سے اونچے عہدے پر ایک بھی خاتون نہیں امریکی عورتوں کا یہ حال بینکنگ فائننس سٹیل ماؤنٹنگ اور ریل روڈ جیسے شعبوں میں ہے دوسری طرف ایڈورٹائزنگ اور فیشن جیسے شعبوں میں انہیں کافی مواقع حاصل ہیں بے شمار کمپنیاں ٹائپنگ کے کام کے لیے مردوں کے بجائے عورتوں کی مانگ کرتی ہیں مگر ان کا تقرر زیادہ تر کلرک کے منصب پر ہوتا ہے جس میں تنخواہ ایک سو ڈالر فی ہفتے سے اگے نہیں بڑھتی جو مردوں کی تنخواہ کے مقابلے میں بہت کم ہے نہ صرف عورتوں کی تنخواہیں مردوں سے کم ہیں بلکہ سیلز مین شپ کی ٹریننگ کے دوران میں مردوں کو بڑی قیمت کی چیزوں کی فروخت کی تربیت دی جاتی ہے جبکہ عورتوں کو کم قیمت کی چیزوں کو بیچنا سکھایا جاتا ہے مثلا گریٹنگ کارڈ وغیرہ صفحہ 63 سکول کی خاتون پرنسپل لیبارٹری ورکر اور کمپیوٹر پروگرامر اسی سطح کے مردوں کے مقابلے میں صرف 67 فیصد تنخواہ حاصل کرتی ہیں دس ہزار ڈالر یا اس سے زیادہ تنخواہ پانے والوں میں مردوں کا تناسب 40 فیصد ہے جبکہ خاتون کارکنوں میں ان کی تعداد صرف سات فیصد ہے صفحہ 63 سان فرانسسکو کی ایک فارم لیوسٹراس اینڈ کو میں 18 ہزار ملازم ہیں جن میں 85 فیصد عورتیں ہیں مگر کمپنی نے جب ایک بار جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ عورتیں عام طور پر کم تنخواہ کے مناسب پر ہیں اور بڑے بڑے عہدے زیادہ تر مردوں کو حاصل ہیں اس کے 572 مینیجر مینیجروں میں صرف نو فیصد عورتیں ہیں امریکہ کے دو ملین سیکرٹریوں میں تقریبا سب کے سب عورتیں ہیں مگر بیشتر کم تنخواہ پانے والی ہیں بعض شکایات کے جواب میں مارچ 1972 میں امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے یہ ارڈر جاری کیا کہ سیکرٹریوں کو فاضل مددگار کے طور پر استعمال نہ کیا جائے خاتون سیکرٹریوں میں اس بات پر زیادہ سے زیادہ ناراضگی پیدا ہو رہی ہے کہ وہ تفریح طبع کے طور پر دیکھی جاتی ہے صفحہ 66 دفتر کے مردان کو دفتر کے مرد ان کو پیاری یا شیری کہہ کر پکارتے ہیں سیکرٹری بیک وقت دو مصرف رکھتی ہیں وہ دفتر کی ایک ضرورت ہے اور اسی کے ساتھ وہ عہدے دار کے لیے تفریح طبع کا سامان ہے اکثر عہدے دار اپنی سیکرٹریوں کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ کام کرتی ہیں نہ کہ ان کے لیے کام کرتی ہیں صفحہ 66 امریکہ کی کارکن خواتین زیادہ تر وہ خواتین ہیں جن کے گھر اجڑ گئے صفحہ 66 مگر جب وہ کام کی تلاش میں نکلتی ہیں تو انہیں اس تلخ تجربے سے سابقہ پڑتا ہے کہ انہیں صرف چھوٹے کام کے لائق سمجھا جاتا ہے انہیں محسوس ہوتا ہے کہ اعلی تعلیم حاصل کرنے میں جو سال انہوں نے لگائے وہ سب بیکار گئے بیسیوں ایسے نجی ادارے ہیں جو عورتوں کو روزگار کے قابل بنانے میں مدد دے رہے ہیں مثلا شکاگو کا ایک روٹری کلب ہے جو بے روزگار خاتون کو 350 ڈالر دیتا ہے تاکہ وہ اس سے ٹیپ رائٹر وغیرہ خرید کر اپنا کام شروع کر سکے حتی کہ زیادہ عمر کی خواتین کو مصنوعی دانت اور سننے کے الات تک دیے جاتے ہیں تاکہ وہ انٹرویو میں اچھی ثابت ہو سکے واشنگٹن کے ایک ادارے نے 1965 سے اب تک دس ہزار خواتین کو اس قسم کی سہولتیں فراہم کی ہیں صفحہ 67 تھیٹر کی دنیا میں بھی عورت کا یہی حال ہے عورت مرد کے مقابلے میں کمتر درجے کا کردار ادا کرتی ہے وہ اس لیے ہے کہ ہنسے اور خوش کرے اس کو برابری حاصل نہیں وہ مرد کے لیے خطرہ نہیں بن سکتی اس کو مرد کی کے حفاظتی بازو کی ضرورت ہے صفحہ 67 کتابوں کی دنیا میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے نیویارک شہر جو صنعتی مرکز سے وہاں صرف ایک خاتون ہیں جو کسی بڑے پبلشنگ فارم کی صدر ہوں بڑی فارموں کے کارپوریٹ افسر سب کے سب مرد ہیں عورتیں زیادہ سے زیادہ پبلیسٹی ڈائریکٹر کے عہدوں پر ہیں نیویارک کے بڑے پبلشر عام طور پر دو مردوں پر ایک عورت کو لیتے ہیں بچوں کی کتابوں کے پروگرام میں زیادہ تر عورتیں پائی جاتی ہیں امریکہ کے افسانوی ادب کا بڑا حصہ عورتیں پیدا کرتی ہیں مگر اکنامکس پولیٹکس وغیرہ موضوعات پر ان کے کام بہت کم ہیں ٹائم میگزین 20 مارچ 1972 کتاب خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 79.