Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Kamsin mujrimeen

Urdu · 8 min

کمسن مجرمین جدید دور میں عورت کو گھر سے باہر نکال کر زندگی کے ہر شعبے میں داخل کیا گیا۔ اس کا یہ فائدہ تو نہیں ہوا کہ عورت کو فی الواقع زندگی کے ہر شعبے میں مرد کے برابر مقام مل گیا ہو۔ البتہ اس کے نتیجے میں بے شمار ناقابلِ حل مسائل پیدا ہو گئے۔ ان میں سے ایک ناجائز جنسی تعلقات کا مسئلہ ہے۔

عورت اور مرد کا آزادانہ اختلاط اور ناجائز جنسی تعلقات بالکل لازم و ملزوم ہیں؛ ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ناجائز جنسی تعلق ابتدا میں ایک سادہ سی بات معلوم ہوتی ہے، مگر جب ایک مرد اور ایک عورت کے تعلق سے ایک تیسرا بچہ پیدا ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی سادہ فعل نہ تھا، بلکہ اپنے بعد سنگین نتائج رکھتا تھا۔ مغربی ملکوں کے نوجوان عام طور پر منع حمل کی تدبیر پر عمل کرتے ہیں۔ اس کے باوجود وہاں کثیر تعداد میں ناجائز بچے پیدا ہو رہے ہیں۔

برطانیہ میں جو بچے پیدا ہو رہے ہیں، ان میں ہر 5 میں 1 بچہ وہ ہوتا ہے جو ناجائز جنسی تعلق کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر 3 حمل میں سے 1 حمل غیر شادی شدہ جوڑوں کے ذریعے قرار پا رہا ہے۔ یہ بات لندن سے چھپنے والی 1985 کی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ Illegitimate kids: nearly 1 in 5 children born in Britain was illegitimate, and that nearly 1 in 3 had been conceived by unmarried parents.

An official report in 1985 revealed in London Reports (AFP), The Times of India, May 17, 1986, page 9. یہ ناجائز بچے اس حال میں دنیا میں آتے ہیں کہ انہیں نہ اپنے باپ کا علم ہوتا ہے اور نہ اپنی ماں کا۔ وہ سرکاری اداروں میں پلتے ہیں اور پھر جانور کی طرح سماج میں داخل ہو جاتے ہیں۔ مغربی ملکوں میں طلاقوں کی کثرت نے بھی یہی صورتحال پیدا کی ہے۔

مغربی ملکوں میں نکاح کا رشتہ بے حد کمزور ہو گیا ہے۔ معمولی معمولی باتوں میں عورت اور مرد کے درمیان طلاق ہو جاتی ہے۔ ان طلاقوں نے بہت بڑے پیمانے پر وہ مسئلہ پیدا کیا ہے جس کو اجڑے ہوئے گھر یعنی broken homes کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ عورت اور مرد جب طلاق لے کر جدا ہوتے ہیں تو عین اسی وقت وہ اپنے بچوں کو بھی ماں اور باپ کے سائے سے محروم کر دیتے ہیں۔

یہ تمام بچے معاشرے میں جانوروں کی طرح پلتے ہیں، اور پھر انہی کے اندر سے وہ مجرمانہ کردار ابھرتے ہیں جن کا ایک تجربہ شوبھراج کی صورت میں 1986 میں ہندوستان میں کیا گیا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانی کا 1984 نے کمسن مجرمین کے موضوع پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بیسویں صدی عیسوی کے بوکھلا دینے والے سماجی روگوں میں سے ایک روگ وہ ہے جس کو کمسنی کا جرم کہا جاتا ہے۔ یہ ایک عالمی مظہر ہے، اگرچہ کیفیت اور رفتار کے اعتبار سے ایک ملک اور دوسرے ملک میں فرق پایا جاتا ہے۔ Among the most baffling social maladies of the 20th century is that of juvenile delinquency, a worldwide phenomenon.

It varies in quality and frequency from country to country. Volume 11, page 913. یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ انسان کا بچہ سب سے زیادہ کمزور بچہ ہوتا ہے۔ وہ تمام زندہ چیزوں میں سب سے زیادہ اپنے ماں باپ کی محبت اور سرپرستی کا محتاج ہوتا ہے۔

مگر عورت کے معاملے میں مغربی تہذیب کی غیر فطری روش کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ بچے اس نعمت سے محروم ہو گئے جس کو قدرت نے ماں باپ کی شکل میں ان کے لیے پیدا کیا تھا۔ کہیں وہ اس لیے محروم ہیں کہ باپ کے ساتھ ماں بھی سارے دن دفتر میں کام کرتی ہیں۔ کہیں وہ اس لیے محروم ہیں کہ ان کے ماں باپ نے انہیں پیدا کر کے باہم علیحدگی اختیار کر لی اور کوئی ایک طرف چلا گیا اور کوئی دوسری طرف۔ کہیں وہ اس نعمت سے اس لیے محروم ہیں کہ جو مرد اور عورت ان کو وجود میں لانے کے ذمہ دار ہیں، انہوں نے رشتہ نکاح میں اپنے آپ کو باندھے بغیر جنسی فعل کیا تھا۔

اس لیے ان کے پروگرام میں یہ شامل ہی نہ تھا کہ وہ پیدا ہونے والے بچے کو اپنا بچہ سمجھیں اور اس کی دیکھ بھال کریں۔ یہی والدین سے محروم بچے ہیں جو بالآخر چارلس شوبھراج جیسے انسان بنتے ہیں۔ چارلس شوبھراج کا باپ ہندوستانی تھا اور ماں یورپین تھی۔ انہوں نے نکاح کیا اور پھر ایک بچہ پیدا کرنے کے بعد ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔

چارلس شوبھراج کی پرورش ایک آزاد لڑکے کی حیثیت سے ہوئی۔ اس کی مناسب تعلیم بھی نہ ہو سکی۔ دھیرے دھیرے وہ مجرم بن گیا۔ اس نے عالمی سطح پر ڈاکے ڈالے اور قتل کیے۔

اب وہ بے حد خطرناک مجرم کی حیثیت سے ہندوستان کی جیل میں ہے۔ مغربی ممالک میں کمسن مجرمین کے مسئلے کا وسیع پیمانے پر مطالعہ کیا گیا ہے اور بہت سے نتائج نکالے گئے ہیں۔ ان میں سب سے خطرناک نتیجہ یہ ہے کہ کمسنی کا جرم اکثر وہ بچے کرتے ہوئے پائے گئے ہیں جو ماں باپ سے محرومی کی وجہ سے جھنجھلاہٹ اور منفی ذہنیت میں مبتلا تھے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے ایڈیشن 1984 میں بتایا گیا ہے کہ اس قسم کے بچے اکثر نفسیاتی بے اعتدالی یعنی psychological abnormality میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور پھر ان سے طرح طرح کے سماجی جرائم ظہور میں آتے ہیں۔

ٹائم 19 اکتوبر 1987 کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں ہر سال تقریباً 300 بچے اپنے باپ یا ماں کو قتل کر دیتے ہیں۔ صفحہ 60۔ کتاب خاتونِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 75۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.