Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Aurat jadeed tehzeeb me

Urdu · 4 min

عورت جدید تہذیب میں— جدید مغربی انسان کی اصل مشکل یہ ہے کہ اس نے بے بنیاد طور پر عورت اور مرد کے درمیان "صنفی مساوات" کا عقیدہ بنا لیا۔ اس عقیدے کی بنا پر اس کے نزدیک عورت کو مساوی درجہ دینے کے معنی یہ بن گئے کہ اس کو زندگی کے تمام شعبوں میں مرد کے شانہ بشانہ کھڑا کر دیا جائے۔ چونکہ اسلام عورت اور مرد کا دائرہ— چونکہ اسلام عورت اور مرد کا دائرۂ کار الگ الگ قرار دیتا ہے— اس لیے جدید انسان یہ فرض کر لیتا ہے کہ اسلام نے عورت کو کم تر درجہ دیا ہے۔ اس کے برعکس مغرب میں یہ کہا جا رہا ہے کہ عورت کو ہر شعبے میں مرد کے برابر جگہ دو۔

اس بنا پر جدید انسان نے یہ رائے قائم کر لی کہ مغرب میں اس کو برتر درجہ دیا جا رہا ہے۔ مگر عملی صورتحال کیا ہے؟ مغرب کے انتہائی ترقی یافتہ سماج میں بھی عورت کو ایک اعتبار سے عملاً وہی درجہ ملا ہوا ہے جو قدیم معاشرے میں اسے حاصل تھا۔ آج بھی مغرب میں مرد اور عورت کے درمیان عملی تقسیم ہے: عورت کے شعبے الگ ہیں اور مرد کے شعبے الگ۔

پچھلے باب میں ہم نے تفصیل سے دکھایا ہے کہ جدید مغرب کے کسی بھی شعبے میں عورت اور مرد کو عملی طور پر برابری کا وہ درجہ حاصل نہیں جس کا مغرب کے مفکرین نظری طور پر اعلان کرتے رہے ہیں۔ 1400 سال پہلے اسلام نے بھی "آزادیِ نسوان" کی ایک تحریک چلائی تھی۔ اس تحریک کا مقصد یہ تھا کہ عورت کو مصنوعی بندشوں سے نکالا جائے، اور اس کو وہ مقام دیا جائے جو ازروئے حقیقت اس کو ملنا چاہیے۔ مثلاً گھر کی جائیداد میں دوسرے اہلِ خاندان کی طرح اس کا وراثتی حصہ مقرر کرنا۔

اسلام کی اس تحریک نے عورت کا درجہ بلند کیا، بغیر اس کے کہ سماج میں کوئی نیا مسئلہ پیدا ہوا ہو۔ اسلام کا تجربہ وحی کی روشنی میں کیا گیا، اس لیے وہ حدود کے اندر تھا۔ اس کے برعکس جدید مغرب کا تجربہ عقل کی روشنی میں، زیادہ صحیح الفاظ میں جذبات کے تحت کیا گیا، اس لیے وہ حدود کا پابند نہ رہ سکا۔ اس تجربے نے نئے نئے سماجی مسائل پیدا کر دیے۔

کتاب "خاتونِ اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 66۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.