← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Aurat ka darja islam me
Urdu · 8 min
عورت کا درجہ اسلام میں: قدیم دنیا میں مختلف توہماتی خیالات کے تحت عورت کو حقیر سمجھ لیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں عورت کو جن حقوق سے محروم کیا گیا، ان میں سے ایک جائیداد کا حصہ تھا۔ خاندان کی جائیداد میں عورت کا حصہ ختم کر دیا گیا۔ یہ اسلام تھا جس نے تاریخ میں پہلی بار باقاعدہ طور پر عورتوں کا وراثتی حصہ مقرر کیا۔
جے ایم رابرٹس نے لکھا ہے: "It's coming was in many ways revolutionary; it kept women, for example, in an inferior position, but gave them legal rights over property not available to women in many European countries until the 19th century. Even the slave had rights, and inside the community of the believers, there were no castes nor inherited status. This revolution was rooted in a religion which, like that of the Jews, was not distinct from other sides of life, but embraced them all." J. M.
Rover: The Pelican History of the World, New York, 1984, page 334. اسلام کی آمد بہت سے پہلوؤں سے انقلابی تھی۔ مثال کے طور پر اس نے عورتوں کو اگرچہ کم درجہ دیا، مگر اس نے عورتوں کو جائیداد پر قانونی حق دیا، جو کہ یورپ کے اکثر ملکوں کی عورتوں کو انیسویں صدی عیسوی تک بھی حاصل نہ ہو سکا تھا۔ حتیٰ کہ غلام بھی حق رکھتے تھے، اور اہل ایمان کی جماعت کے اندر نہ ذات پات تھی اور نہ پیدائشی درجات۔
اس انقلاب کی جڑیں ایک ایسے مذہب میں جمی ہوئی تھیں جو کہ یہود کی مانند صرف دوسری زندگی سے تعلق نہیں رکھتا تھا، بلکہ سب کچھ اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا۔ دہلی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس مسٹر راجندر سچر نے یہی بات قدیم ہندوستان کے حوالے سے کہی۔ نئی دہلی کی ایک تقریب میں مسٹر جسٹس سچر نے کہا کہ تاریخی طور پر اسلام عورتوں کو جائیداد کے حقوق دینے میں بہت زیادہ فراخ دل اور ترقی پسند رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ 1956 میں ہندو کوڈ بل بننے سے پہلے ہندو عورتوں کا جائیداد میں کوئی حصہ نہ تھا، جبکہ اسلام مسلم عورتوں کو یہ حقوق 1400 سال پہلے دے چکا تھا۔
مسٹر جسٹس سچر سیڈ that historically Islam had been very liberal and progressive in granting property rights to women. The fact that there were no property rights to Hindu women until 1956, when the Hindu Code Bill was passed, whereas Islam had granted these rights to Muslim women over 1400 years ago. The statement, Delhi, April 26, 1986. The statement, Delhi, April 26, 1986.
تاہم یہ صرف پہلے اور بعد کی بات نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ اسلام نے عورتوں کے حقوق کا دروازہ کھولا ہے۔ قدیم زمانے میں تقریباً تمام سماجوں کا یہ حال تھا کہ ان کے یہاں عورتوں کو کوئی متعین حق حاصل نہ تھا۔ اسلام کے ذریعے انسانی تاریخ میں جو انقلاب آیا، اس کا ایک خاص پہلو یہ تھا کہ عورتوں کو مساوی درجہ دیا گیا اور ان کے حقوق مقرر کیے گئے۔
چونکہ اسلام صرف ایک فلسفیانہ نظریہ نہ تھا، بلکہ اس نے اس وقت کی آباد دنیا کے بیشتر حصے کو فتح کر ڈالا۔ اسلام کی تہذیب دنیا کی سب سے زیادہ غالب تہذیب بن گئی اور ہزار سال تک مسلسل بنی رہی۔ اس چیز نے تمام دنیا کے معاشروں کو متاثر کیا۔ اسلامی تہذیب کے زیر اثر تمام دنیا میں عورت کے حقوق پر نظر ثانی ہونے لگی، یہاں تک کہ عمومی طور پر یہ تسلیم کر لیا گیا کہ عورتوں کو بھی اسی طرح حقوق ملنے چاہئیں جس طرح وہ مردوں کو ملے ہوئے ہیں۔
دور جدید کے جو مبصرین اسلام کی خوبیوں کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں، وہ بھی اکثر یہ جملہ دہراتے ہیں کہ اسلام میں عورتوں کو کمتر درجہ دیا گیا ہے۔ مگر یہ بات اپنی تردید آپ ہے۔ قدیم زمانے میں اور آج بھی، وراثت کا معاملہ اہم ترین معاشرتی معاملہ ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وراثت وہ واحد معیار ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی معاشرے میں کسی کو کیا درجہ دیا گیا ہے۔
اسلام کا وقت کے زمانی رواج کے سراسر برعکس، جائیداد میں عورت کو حصہ دار بنانا واضح طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام عورت کو کمتر درجہ دینا نہیں چاہتا۔ اگر اسلام میں عورت کو کمتر درجہ دیا جاتا تو اس کا سب سے پہلا مظاہرہ یہ ہوتا کہ وراثت میں اس کا حصہ مقرر نہ کیا جاتا، جو کہ زمانی رواج کے مطابق عین درست سمجھا جا رہا تھا۔ اس معاملے میں مغربی ذہن کی غلطی دوبارہ وہی ہے جس کا شکار قدیم زمانے کا انسان تھا۔ یعنی بے بنیاد عقیدہ، یعنی irrational belief کے تحت رائے قائم کرنا۔
قدیم زمانے کے انسان نے کچھ بے بنیاد عقیدے بنا لیے تھے، جس کے نتیجے میں اس کے یہاں عورت کے بارے میں غلط قسم کے عمل رواج قائم ہو گئے۔ اسی طرح جدید مغرب نے عورت کے بارے میں ایک بے بنیاد عقیدہ بنا لیا، اس کے نتیجے میں عورت کا معاملہ بگڑ کر رہ گیا۔ کتاب "خاتون اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 64۔